وزیراعلیٰ کے زیر صدارت اجلاس، دیر موٹر وے اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سے متعلق امور زیرِ بحث ، سوات ایکسپریس وے فیز ٹو پر سول ورک 31 جنوری سے شروع کرنے کا بھی فیصلہ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت روڈ سیکٹر کے سگنیچر منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں زیرِ تعمیر اور مجوزہ میگا منصوبوں پر پیشرفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی طور پر پشاور۔ڈی آئی خان موٹر وے، دیر موٹر وے اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پشاور–ڈی آئی خان موٹر وے کو صوبائی وسائل سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے سے متعلق تمام تر تکنیکی، انتظامی اور مالی لوازمات 10 فروری تک مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے اس موٹر وے کو جدید تقاضوں کے مطابق گرین موٹر وے بنانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح سوات ایکسپریس وے فیز ٹو پر سول ورک 31 جنوری سے شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ موٹر ویز کی تعمیر صوبائی حکومت کے سگنیچر منصوبوں میں شامل ہے اور ان منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں اور وہ خود ان کی پیشرفت کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے تمام تر وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی اور میگا منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کو تحفظ دینے کے لیے باقاعدہ قانون سازی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ چاہے حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، عوامی مفاد کے منصوبوں کو بلا تاخیر مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کاروبار، روزگار اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے صوبائی حکومت سڑکوں اور موٹر ویز کا جامع نیٹ ورک بچھا رہی ہے، جبکہ نئی موٹر ویز کی تعمیر سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مجموعی ترقیاتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

