وزیراعلیٰ کی زیر صدارت مواصلات و تعمیرات محکمہ کا اجلاس، جاری منصوبوں پر تفصیلی جائزہ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں محکمہ کے تحت جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضم اضلاع میں تحصیل اور ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے لیے زمین کی خریداری کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے اور دسمبر سے ان منصوبوں پر عملی کام کا اجرایقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضم اضلاع میں انتظامی امور کی بطریق احسن انجام دہی اور عوام کو خدمات کی موثر انداز میں فراہمی کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر کا قیام نہایت اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا ڈسٹرکٹ اور تحصیل کمپلیکس کے قیام کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح ہونی چاہیے، اس سلسلے میں غیر ضروری تاخیر کی گنجائش موجود نہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے لیے مختص فنڈز کی تفصیلات بھی طلب کیں اور کہا کہ وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہر منصوبے کی شفاف مانیٹرنگ کی جائے۔ انہوں نے صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کیمقررہ مدت کے مطابق درجہ بندی کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ تکمیل کے قریب منصوبوں کو مکمل فنڈز فراہم کر کے ان کے افتتاح کو ترجیحی بنیادوں پر ممکن بنایا جائے۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، اس لئے تمام محکمے اس ضمن میں سخت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے محکمے کے افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور فیلڈ وزٹس بڑھا کر موقع پر موجود مسائل کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔اجلاس میںرواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں ، فلیگ شپ پراجیکٹس اور تکمیل کے قریب اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت روڈ سیکٹر میں مجموعی طو رپر 595 اسکیمیں شامل ہیں جن کیلئے 53 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ اب تک محکمہ کے تحت جاری منصوبوں کیلئے 24 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جن میں سے 17.9 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح آگاہ کیا گیا کہ اس وقت محکمہ کے تحت آٹھ فلیگ شپ منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ مجموعی طو رپر 204 منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
بعدازاں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی طرف سے ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوںکے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضم اضلاع کے 27 مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر 556 اسکیمیں شامل ہیں جن کیلئے رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 95 ارب روپے مختص کئے گئے ہیںجن میں سے اب تک 58 ارب روپے سے زائد جاری کئے جا چکے ہیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کی ترقی کے لیے ہر سال 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم گزشتہ سات سالوں میں صوبے کو اس مد میں مجموعی طور پر صرف 158 ارب روپے موصول ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود صوبائی حکومت ضم اضلاع کی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں اپنی استعداد سے بڑھ کر وسائل خرچ کر رہی ہے۔
