وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان کی اصولی منظوری دیدی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان کی اصولی منظوری دے دی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ہر لحاظ سے قابلِ عمل منصوبوں پر آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پلان میں شامل نئے منصوبوں کی فزیبیلٹی، پی سی ونز اور دیگر تکنیکی و انتظامی لوازمات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ پلان پر عملدرآمد میں تاخیر سے بچا جا سکے۔ وہ وزیر اعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان پر ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں پلان میں شامل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ری وائٹلائزیشن پلان پر واضح حکمت عملی کے ساتھ عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ صوبائی دارالحکومت کی مجموعی حالت میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کو ایک جدید، خوبصورت اور پرسہولت شہر بنانا حکومت کا حتمی مقصد ہے اور مجوزہ پلان پر مو ¿ثر عمل درآمد سے آئندہ ایک دو سال کے دوران پشاور کی مجموعی شکل و صورت میں واضح تبدیلی آئے گی۔ اجلاس کو پلان سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور ری وائٹلائزیشن پلان کے تحت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل کونسل بورڈ، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ، مواصلات و تعمیرات اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے تحت اربوں روپے لاگت کے درجنوں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ پلان میں شامل بعض منصوبے پہلے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں جن پر پیشرفت جاری ہے۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ پلان کے تحت اربن ایریاز کی 35 مرکزی شاہراہوں کی اپ گریڈیشن کے لیے فزیبیلٹی اور ڈیزائننگ پر کام جاری ہے جبکہ پیرزکوڑی فلائی اوور سے سوری پل اور امن چوک سے کارخانو تک بجلی کی تاروں کو انڈر گراو ¿نڈ کرنے کے منصوبے بھی پلان کا حصہ ہیں جن پر رواں سال مئی تک کام کے آغاز کی توقع ہے۔
مزید بتایا گیا کہ مختلف سڑکوں پر ٹریفک کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کر کے وہاں انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنسی سروسز ہائر کر لی گئی ہیں۔ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ سے ناردرن بائی پاس اور فرنٹیئر روڈ تک لنک روڈ کی تعمیر کو بھی پہلی ترجیح میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ناصر باغ تا ریگی ماڈل ٹاو ¿ن رنگ روڈ کے مسنگ لنک کی تعمیر، خویشگی اور تختہ باغ روڈ پر دو نئے تھیم پارکس کی تعمیر بھی ری وائٹلائزیشن پلان میں شامل ہے۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہائی ٹیک چلڈرن پارک، پیرزکوڑی انٹر سیکشن پر کلوورلیف انٹرچینج اور چمکنی کے مقام پر فریم آف پشاور کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ والڈ سٹی پشاور کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کے لیے فزیبیلٹی اور ڈیزائننگ کی غرض سے کنسلٹنٹ ہائر کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاو ¿ہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کے تفصیلی پلان اور ٹرانسپورٹ ماڈلنگ اسٹڈیز کو بھی اس جامع منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کابل ریور کینال، بدنی نالہ، کینال پیٹرول روڈز اور دیگر اریگیشن انفراسٹرکچر کی بحالی کے اقدامات بھی پلان میں شامل ہیں۔ پرانی اسٹریٹ اور روڈ لائٹس کی مرمت اور نئی لائٹس کی تنصیب کے منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چار نئے ذبح خانوں کی تعمیر، نئی واٹر سپلائی اسکیموں کا قیام اور غیر فعال موجودہ واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی سے متعلق منصوبے منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ سینیٹیشن سسٹم کی بہتری، الیکٹرک روڈ کلینرز کی خریداری، شاہی کٹھہ کی بحالی اور فقیر کلے میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر بھی پلان کا حصہ ہے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پہلے سے جاری پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ باقی ماندہ کام ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بروقت اور ٹھوس ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
۔۔۔
۔
وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے جا رہے ہیں اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے جا رہے ہیں اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرانے کے بعد انہوں نے خیبر، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈی آئی خان اور وزیرستان سمیت پورے صوبے میں جرگے اور امن پاسون منعقد کیے اور پختون قوم کو خبردار کیا کہ ان کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ڈی ایم کی حکومت ان انتباہات کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتی رہی مگر پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو مسترد کیا وہاں آج بھی امن قائم ہے جبکہ جن علاقوں میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا وہاں آج دوبارہ بدامنی سر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں عمران خان کی حکومت گرانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ مسلط ہوئی اور پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی، صنعتیں اور کارخانے بند ہو گئے اور نوجوان بیروزگار ہو گئے اور آج نوجوان ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج اگر کسی بھی ملک کا ویزہ مل جائے تو نوجوانوں کی بڑی اکثریت ملک چھوڑنے کے لیے تیار ہے کیونکہ روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بند کمروں کے فیصلوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی تیراہ میں بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو انہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک بڑا جرگہ منعقد کیا گیا جس میں متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور ہوا اور تمام مکاتب فکر اور تمام سیاسی پارٹیوں کا موقف تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشران اور مقامی لوگوں سے مشورہ ضروری ہے جو علاقے کے رسم و رواج اور حالات کو بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بند کمروں میں ایک بار پھر تیراہ پر آپریشن مسلط کیا گیا اور کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ان جرگوں میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کو تیراہ سے نکالنا ہوگا کیونکہ جب تک لوگ موجود ہیں آپریشن ممکن نہیں۔ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر شدید دباؤ اور برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ برفباری کے باعث آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، جس سے بند کمروں کے فیصلوں کے مقصد پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھا گیا تھا کہ لوگ مجھ سمیت صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف سے بدظن ہو جائیں گے مگر جب وہ تیراہ گئے تو انہیں بے مثال عزت اور محبت ملی۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی حالیہ پریس ریلیز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کی رضاکارانہ نقل مکانی کا دعویٰ جھوٹ اور انتہائی خطرناک ہے جو صوبے اور وفاق کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو دو بجے جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جہاں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انہیں زبردستی بے دخل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دکھایا جائے گا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پر ظلم ہو رہا ہے اور یہ لوگ کوئی تجربہ گاہ یا کیڑے مکوڑے نہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پریس ریلیز کے بعد 24 رکنی کمیٹی، آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور کیے گئے وعدے غیر معتبر ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ اسی 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا کہ دو مہینوں کے اندر بے دخل ہونے والوں کو واپس لے جایا جائے گا۔ میں نے باڑہ کے دورے کے دوران اپنی قوم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے ان کے دو مہینوں کے وعدے پر کوئی بھروسا نہیں، کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا کہ شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود وہ دو مہینوں میں آپ کو واپس لے جا سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کیے ہیں جوکہ وفاق سے ہضم نہیں ہو رہے۔ گزشتہ آپریشنز میں تباہ ہونے والے گھروں کا چار لاکھ روپے معاوضہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نارتھ وزیرستان کے بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ معاوضے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر دس سال گزرنے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا اور آج صوبائی حکومت اپنے محدود بجٹ سے یہ بوجھ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے پشتون قوم پر ظلم، خونریزی اور محرومیاں مسلط کی گئیں اور قوم نے 80 ہزار سے زائد شہادتیں دی ہیں، مگر اس کے باوجود دوبارہ دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب مزید یہ سب نہیں چلے گا اور وہ پہاڑ کی طرح اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ حق کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ اگر اس بار آواز نہ اٹھائی گئی تو جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، انہیں نہ خریدا جا سکتا ہے نہ دبایا جا سکتا ہے، اور وہ پوری دنیا کو حقیقت دکھائیں گے۔