بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے میں ریاستی اداروں کی جانب سے سنگین غفلت اور طبی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ
اسلام آباد( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے میں ریاستی اداروں کی جانب سے سنگین غفلت اور طبی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ گزشتہ رات تین بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے اور آج صبح دس بجے سے اب تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے جب ہماری ملاقاتیں بند کی جاتی تھیں تو یہ کہا جاتا تھا کہ سیاسی ملاقاتیں بند ہیں، لیکن گزشتہ دو دنوں میں جو ہمارے لیڈر عمران خان کے ساتھ ہوا ہے وہ محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور طبی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین، سابق وزیراعظم اور ملک کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں، مگر انہیں ان کی اجازت کے بغیر، ان کے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹرز کی اجازت کے بغیر زبردستی ایسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے مرض کا ماہر ڈاکٹر ہی موجود نہیں تھا۔ یہ سراسر طبی دہشت گردی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعے کو پانچ دن تک قوم، اہل خانہ، وکلاءاور ذاتی ڈاکٹرز سے چھپایا گیا۔ جب سوال اٹھایا گیا تو وفاقی وزراءنے کھلے عام جھوٹ بولا اور کہا کہ کچھ نہیں ہوا، لیکن بعد میں حکومت کے اپنے وزیر نے آپریشن کی تصدیق کر دی، مگر اس کے باوجود جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اپنی اخلاقی اور سیاسی ساکھ مکمل طور پر کھو چکی ہے، نہ عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی ہم۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ جیل منتقل کرتے وقت ان کی کیا حالت تھی، ان کے ساتھ کیا ہوا، کیوں آپریشن کی ضرورت پڑی اور اس وقت ان کی صحت کی کیا صورتحال ہے۔ اسی لیے ہم مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کریں، مگر اس بے حس نظام نے وہ اجازت بھی دینے سے انکار کر دیا جو آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ نظام مکمل طور پر مفلوج اور بے حس ہو چکا ہے۔ نہ انسانی جان کی قدر ہے، نہ جمہوری قوتوں کی اور نہ ہی جمہوری روایات کی۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دو راتیں سڑکوں پر بٹھایا جاتا ہے، کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ، جبکہ دوسری طرف ایک وزیراعلیٰ کو پاکستان ایئر فورس کا جہاز دے کر دنیا بھر کے دورے کرائے جاتے ہیں۔
یہ امتیازی سلوک فیڈریشن کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور پاکستانی عوام کے ساتھ بھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں اور حالات کو جان بوجھ کر اس سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ جب عوام فیصلے اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوں گے تو نقصان سب کا ہوگا اور اس کے ذمہ دار یہی لوگ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد، مکالمے اور سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں،ہاں اگر تمام راستے بند کر دیے جائیں اور ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے تو آئین اور قانون ہمیں احتجاج کا مکمل حق دیتا ہے، اور ہم اس حق کو محفوظ رکھتے ہیں اور ان شائ اللہ استعمال بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ملاقات کے لیے ہاں یا ناں میں جواب مانگا گیا تھا اور جواب صاف ناں ہے۔ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹرز سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ اسی وجہ سے سیاسی کمیٹی کا اجلاس بلایا جا رہا ہے جس میں سینیٹ کے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اور نیشنل اسمبلی کے ارکان بھی شریک ہوں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آٹھ فروری کا احتجاج برقرار ہے اور اس کی تیاری پورے پاکستان میں جاری ہے۔ سیاسی کمیٹی کے فیصلے قوم کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے گزشتہ دو دنوں کے واقعات پر شدید مذمت اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور آئین و قانون کے مطابق صورتحال کو سنبھالا جائے۔

