چُپُرسن، گوجال ہنزہ! ہلتی زمین، لرزتے گھر اور آسمان تلے بے یارو مددگار متاثرین – اقبال عیسیٰ خان
چُپُرسن، ہنزہ گوجال کا بلند اور سرحدی خطہ، گزشتہ کئی مہینوں سے خوف، بے یقینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ زیرِ زمین جھٹکے، دھماکوں جیسی آوازیں اور گھروں میں پڑتی دراڑیں لوگوں کے دلوں کو دہلا رہی ہیں۔ بچے، بزرگ، اور خواتین کو سخت سردی میں آسمان تلے رات گزارنا اب معمول بن گیا ہے، اور ہر دل یہی سوال دہرا رہا ہے، یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
مقامی مشاہدات اور خدشات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ محض قدرتی زلزلہ نہیں۔ ممکنہ وجوہات میں زیرِ زمین دھماکے، کان کنی یا معدنیات کی تلاش، جس کی وجہ سے یہ نایاب منرلز سے مالا مال خطہ لرز رہا ہے, قدرتی جیو سیکمکٹی یا غیر معمولی زیرِ زمین پلیٹوں کی حرکت، مشتبہ ڈرون پروازیں، جو سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر رہی ہیں، اور پرانے گھروں کی کمزور بنیادیں، جو معمولی جھٹکوں کو بھی تباہی میں بدل دیتی ہیں۔ ہر دراڑ، ہر لرزش ایک خاندان کے خوابوں کو توڑتی محسوس ہوتی ہے۔
یہ معاملہ منفرد نہیں۔ دنیا کے معدنی خطوں میں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے زلزلے بارہا ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ چین، روس اور جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں کان کنی اور زیرِ زمین دھماکوں نے بستیوں کو اجاڑ دیا۔ اسی لیے عالمی ماہرین ہمیشہ آزاد، شفاف اور سائنسی تحقیقات پر زور دیتے ہیں تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور دوبارہ ایسی مصیبت کا سامنا نہ ہو۔
چُپُرسن گوجال کی بے چینی صرف ایک بستی کا مسئلہ نہیں۔ یہ خطہ نایاب معدنیات سے مالا مال ہے اور شمالی بیلٹ کی سٹریٹیجک، اقتصادی اور دفاعی اہمیت کا محور ہے۔ چین، تاجکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی راہداریوں سے قربت اسے اور بھی حساس بناتی ہے۔ گوجال اور چُپُرسن کی استحکام، تجارت اور سرحدی رابطے شمالی پاکستان کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کو فوری پناہ اور بنیادی امداد فراہم کی جائے۔ سیسمولوجیکل اور جیولوجیکل ماہرین کی آزاد ٹیم جھٹکوں کی حقیقت سامنے لائے۔ فضائی سرگرمیوں اور مشتبہ ڈرونز کی چھان بین ہو، متاثرہ گھروں کا جائزہ لیا جائے اور محفوظ متبادل فراہم کیا جائے۔ اگر انسانی مداخلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ سرحدی ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ اور کمیونٹی کی حفاظتی تربیت بھی لازمی ہے۔
چُپُرسن گوجال کے لوگ سخت سردی، خوف اور بے یقینی کے باوجود ایک ہی آواز بلند کر رہے ہیں، انسانی سلامتی کو مقدم رکھا جائے۔ یہ پہاڑی خاموشی کے پیچھے چھپا سوال صرف ایک بستی کا نہیں، بلکہ پورے شمالی سرحدی خطے کے مستقبل کی گونج ہے۔

