اپر چترال کی واحد ضلعی ہسپتال کی مجوزہ نجکاری کے خلاف آل پارٹیز اجلاس، شدید تحفظات، شدید احتجاج کی وارننگ
۔
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کی واحد کیٹگری ڈی ہسپتال بونی کی مجوزہ نجکاری کے خلاف آل پارٹیز کا ایک اہم اجلاس بونی میں منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کرتے ہوئے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام اپر کے امیر مولانا محمد یوسف نے کی، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولانا فدا الرحمن نے حاصل کی۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر کے سینئر نائب صدر پرویز لال نے ہسپتال کی مجوزہ نجکاری سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اپر چترال کے عوام صحت کی بنیادی سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، بلدیاتی نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی اور اس اقدام کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ شرکاء نے متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت، ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو خبردار کیا کہ ہسپتال کو نجی تحویل میں دینے کی کسی بھی کوشش پر سخت عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔
اجلاس کے دوران صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر ایسے فیصلے کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈی ایچ او کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور شفافیت کا مطالبہ کیا گیا۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات، عملے اور ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر علاج معالجہ میسر آ سکے، بجائے اس کے کہ ادارے کو نجی تحویل میں دیا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اگر 10 اپریل تک اس حوالے سے کوئی تسلی بخش پیشرفت نہ ہوئی تو ضلعی اور تحصیل سطح پر منظم احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اپر چترال کو پہلی بار ڈپٹی اسپیکر کا اہم عہدہ ملا تھا، جس سے عوام کو ترقیاتی بہتری کی امید تھی، تاہم اس کے برعکس حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی خاموشی کو بھی غلط رنگ دیا گیا، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت، ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو خبردار کیا کہ اگر ہسپتال کو نجی تحویل میں دینے کی کوشش کی گئی تو شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔
اجلاس میں صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنے انصاف کے دعوؤں کے برخلاف عوام سے بنیادی صحت کی سہولت بھی چھین رہی ہے۔ ڈی ایچ او کی خاموشی اور عوام کو لاعلم رکھنے پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔
شرکاء نے اس عمل کو ایک خفیہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اس میں ملوث دکھائی دیتے ہیں جبکہ عوام کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی، جن میں قاضی غلام ربانی، پیر ممتاز، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین تحصیل کونسل مستوج سردار حکیم، چیئرمین ویلج کونسل بونی 1 مظہر الدین مظہر، سابق چیئرمین فضل الرحمن، سابق وی سی نائب ناظم کشافت یونس، سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال، مولانا محمد یوسف، مولانا فدا الرحمن، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رکن افضل قباد، انفارمیشن سیکریٹری امجد علی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز لال، پرنس سلطان الملک، جاوید لال، حاجی عارف اللہ، حاجی عبد الرب، محمد ایوب، جماعت اسلامی اپر چترال کے امیر اسد الرحمن، جنرل سیکریٹری اشفاق احمد، بازار کے نمائندے عبدالجبار اور دیگر افراد شامل تھے۔



