کردار کا تقابلی جائزہ || چترالی معاشرے میں “گھر میں رہنے والا بیٹا۔” (دورتیک ژاؤ)۔ کلیم افسر خان
میٹامورفوسس:
Metamorphosis by
Franz Kafka
“Gregor Samsa”
(Protagonist)
فرانز کافکا کا ناول میٹامورفوسس انسانی تاریک فطرت، شرم، تنہائی، لالچ، مادیت پرستی کی کھوج کرتا ہے۔
ناول میں Gregor Samsa نامی سیلز مین اپنے خاندان کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ اپنے خاندان کو خوش رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔
لیکن ایک صبح وہ ایک عجیب و غریب کیڑے جیسی مخلوق میں بدل جاتا ہے۔
لیکن وہ اب بھی محسوس کر سکتا ہے، کھا سکتا ہے اور تمام انسانی احساسات اس کے اندر ابھی بھی موجود ہیں۔ لیکن وہ پراپر حرکت اور اپنا کام نہیں کر سکتا۔
اس وجہ سے، اس کے گھر والے اسے چھوڑ دیتے ہیں، اس کے ساتھ بدتر سلوک کیا جاتا ہے، اسے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ آخرکار وہ ان سب نا انصافیوں کو دل میں رکھتے ہوئے مر جاتا ہے۔
دورتک ژاو۔ (گھر میں رہتا ہوا بیٹا):
کیا آپ نے کبھی کسی چترالی معاشرہ اور جوائنٹ فیملی میں ایک آدمی کو کھیتوں میں کام کرتے، جانور چَراتے، لکڑیاں کاٹتے، بازار سے سامان لاتے، سماجی اجتماعات، روایتی ضرورتوں، شادیوں، جنازوں اور سب سے بڑھ کر خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھا ہیں؟ بوڑھے ماں باپ کو ہسپتال لے جانا۔ ان کے لیے دوائیاں لانا۔
یہ وہ Samsa ہے جو اس Metamorphosis سے پہلے تھا۔ سعودی عرب یا کسی اور مشرق وسطیٰ ملک کی تپتی دھوپ میں آپ کے لیے کام کرتے ہوئے وہ Gregor۔
انہوں نے اپنی جوانی برباد کی آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے۔ آپ کو کیا لگتا ہے اسے کھدائی کرنا، بھاری مشینری چلانا پسند تھا؟، 50 ڈگری درجہ حرارت پر 8 سے 10 گھنٹے کام کرنا آسان تھا؟، خاندان، دوستوں، رشتہ داروں، اس جائے پیدائش سے بہت دور جہاں وہ کھیلتے ہوئے پلا بڑھا، یادیں اور بچپن بنایا۔ جہاں اس نے اپنے والد کو پردیس سے آتے دیکھا، اپنے بہن بھائیوں کو، اپنی شادی کو…. اداسی اور خوشی ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔اب وہ گھر میں اکیلا ہے اور اپنے خاندان اور معاشرے کے طنز اور بد زبانی سہ رہا ہے۔
اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ان کے ساتھ معمولی اور غیر انسانی سلوک کیا جا رہا کیونکہ وہ اب کمانے کے قابل نہیں رہا۔
اپنے دوسرے اور کماتے ہوئے بیٹے کو دیسی چکن، مکھن، گوشت اور ثقافتی کھانوں سے لطف اندوز کروایا اور انہیں بچا ہوا حصہ پیش کیا جا رہا۔
جب وہ کما رہا تھا تو وہ بہن جو گھر پہنچ کر اس سے ملنے کے لیے بے تاب ہوتی تھی اب اسے چھوڑ چکی ہے۔
وہ باپ اب ان کے لیے دعا نہیں دے رہا جو کبھی ان کے کمائے ہوئے پیسوں سے حج کر کے آتا تھا۔
وہ ماں جو فون پر دو گھنٹے اپنی مامتا کا اظہار کرتی تھی اب ان سے ایک لفظ محبت کی نہیں کہ رہی۔
وہ بھائی جو ہر چیز کا ڈیمانڈ کرتا تھا، ان کے پیسوں سے بہترین کپڑے اور جوتے پہنتا تھا، بہترین تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرتا تھا، اب اسے گھر سے نکالنے اور تقسیم کی باتیں کر رہا۔
لیکن پھر بھی نارمل رہنے کی کوشش میں وہ خاندان، اپنے بہن بھائیوں سے پیار کرتا ہے۔
انہیں کبھی بھی ، شرمندہ نہ کرو ان کا دل نہ دکھاؤ اور بوجھ نہ کہو۔
سب سے چھوٹا بیٹا، جو اس کے پیسوں سے تعلیم حاصل کر کے اب stable ہے، اس کا حساب کتاب کر رہا ہے۔
جب وہ خود کما رہا تھا کبھی کسی کا محاسبہ نہیں کرتا تھا۔
وہ ان سب کے لیے کام کرتا تھا لیکن اب ہر کوئی اپنے پیٹ پالنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
وہ یہ دوغلا پن اور بے وفائی اچھی طرح جانتا ہے لیکن اپنی خاندان کی محبت، دیکھ بھال، مہربانی اور موافقت کی وجہ سے سب کچھ نظر انداز کر رہا ہے۔
آخر میں Metamorphosis میں Gregor کی طرح، وہ ان تمام چیزوں کو اپنے دل میں رکھ کر اجل کو لبیک کہے گا۔
لیکن کیا ہم پھر بھی آپ کو انسان کہہ سکتے ہیں؟
کیا آپ اب بھی محبت کے بارے میں بات کر سکتے ہیں؟
کیا آپ اب بھی ہمیں فیملی پر لیکچر دے سکتے ہیں؟
کیا ہم آپ کو ایک باوقار انسان کہہ سکتے ہیں؟
ایک قابل احترام شخص کہ سکتے ہیں؟
کیا اب بھی ہم اپنے معاشرے کو مہذب معاشرہ کہہ سکتے ہیں؟
ہم جانتے ہیں کہ آپ یہ سب برائیاں کرتے ہیں۔
جب وہ struggle کر رہا تھا۔ تم جائیداد بنا رہے تھے۔
جب وہ آپ کے خاندان کے لیے کھیت میں کام کر رہا تھا تو آپ اے سی کے نیچے بیٹھے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔
جب وہ آپ کی خاندان کے لیے بازار سے سامان لا رہا تھا، تو آپ اس کا محاسبہ کر رہے تھے۔
خود مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہوئے وہ آپ کے بچوں کی دیکھ بھال کرتا رہا اور تھوڑے زکام ہونے پر بھی انہیں اسپتال لے جاتا رہا۔
لیکن پھر بھی آپ Samsa family کی طرح ان کے ساتھ سلوک کرتے رہے
معاشرے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑا، وہ سوسائٹی جہاں Gregor رہتا تھا ان کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہوتا رہا۔
آخر میں۔۔۔۔۔
ہر اس شخص کا خیال رکھیں جو آپ کا مستقبل بنا رہا ہے،
آپ کے پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کا ساتھ دے رہا یا رہی ہے۔
ایک سپاہی بارڈر میں جان کی پرواہ کئے بغیر کھڑا، ایک استاد کسی دور دراز علاقے میں علم بانٹتا ہوا، ایک مزدور تپتی دھوپ میں آپ کی مستقل کے لیے محنت کرتا ہوا۔
جب آپ کے پاس بینک بیلنس صفر تھا تب آپ میں سرمایہ کاری کرتا ہوا وہ شخص۔
اس کے لیے قصور وار کس کو ٹھہرائیں؟
معاشرہ کو؟ خاندان کو؟ یا فرد کو؟
میرے خیال میں یہ ہمارا معاشرہ ہے جو ہمیں یہ تصور دیتا ہے۔
یہ تصور کہ ایک بچہ گھر میں رہنا لازمی ہے، دوسرے بہن بھائیوں کے لیے کام کرتا رہے اور اپنا مستقبل تاریک بناتا رہے۔
وہ والدین جو انہیں نوکری نہیں کرنے دیتے وہ بھی ذمہ دار ہے
وہ بہن بھائی جو اس کا سارا پیسہ خرچ کر چکے ہیں اور ان کے مستقل سنوارنے کے لیے خرچ ہوئے تھے؟
آخر میں اسے کیا ملتا ہے معاشرے کے لیے بدترین بوجھ؟
قسم قسم کے طنز اور تنقید؟
معاشرے میں بے عزت ہونا؟
اسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنی ساری زندگی آپ پر خرچ کر کے خود غم کے پہاڑ لے کر آپ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
اپنے دورتیک بھائی کا خصوصی خیال رکھے۔
شکریہ
کلیم افسر خان نومل یونیورسٹی اسلام آباد

