وفاقی بجٹ میں چترال کے پانچ منصوبوں کیلئے معمولی رقم مختص، دوسرے منصوبوں کے ساتھ وزیراعظم کا اعلان کردہ دانش سکول اور ہسپتال بھی بجٹ میں شامل نہیں
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) آج قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا، جس میں چترال کے صرف پانچ منصوبوں کےلئے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر فنڈز مختص کیا گیا ہے۔، جن میں چترال بونی مستوج شندور روڈ منصوبے کیلئے پندرہ سو ملین، چترال آیون بمبوریت روڈ منصوبے کیلئے ۷۵۰ملین روپے، اسی طرح چکدرہ چترال روڈ (این ۴۵) منصوبے کی سیکشن ۳ کلکٹک چترال (۴۸)کلومیٹر منصوبے کیلئے 3,556.600 ملین روپے مختص کردیئے گئے ہیں۔ جبکہ چترال یونیورسٹی کے فیز ون کیلئے سو ملین روپے بھی شامل ہیں
پی سی ون لواری ٹنل الیکٹریکل اینڈ میکینکل ورکس اور پلوں کے منصوبے کیلئے ایک ہزار ملین روپے بھی بجٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔
اسی طرح رواں سال کے بجٹ میں چترال ہائیڈل پاور اسٹیشن سنگور کو ایک میگاواٹ سے پانچ میگاواٹ کرنے کے منصوبے کیلئے ۲۰۰ ملین روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہیں کہ چترال گرم چشمہ روڈ اور لواری ٹنل اپروچ روڈ چترال سائیڈ بھی بجٹ سے ڈراپ کردیئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ وزیراعظم کی طرف سے چترال کی ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر چترال کےلئے اعلان کردہ دانش سکول اور ہسپتال کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل نہیں ہے۔

