چترال سے پشاور و پنڈی کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کا استحصال، ڈرائیوروں اور ہوٹل مالکان کے گٹھ جوڑ کے سنگین الزامات، ضلعی انتظامیہ اپر و لوئیر چترال سے نوٹس لینے کا مطالبہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال سے پشاور اور راولپنڈی کے درمیان سفرکرنے والے مسافروں نے کوسٹر، فلائنگ کوچ ڈرائیوروں اور بعض ہوٹل مالکان کے خلاف شدید شکایات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ راستے میں ضلع دیر اور دیگر مقامات پر گاڑیاں زبردستی مخصوص ہوٹلوں پر روکی جاتی ہیں، جہاں مسافروں کو ناقص اور مہنگا کھانا کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
مسافروں کے مطابق ان ہوٹلوں کا انتخاب ڈرائیور حضرات اپنی مرضی سے کرتے ہیں، جبکہ الزامات ہیں کہ انہیں ان ہوٹلوں سے مفت کھانا، مشروبات، سگریٹ اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں، جس کے بدلے مسافروں کو استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ہوٹلوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کے ساتھ ساتھ کھانے کا معیار بھی انتہائی کمزور بتایا جاتا ہے۔
برنس جگومی سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر ولی آرمان نے “چترال ٹائمز” کو ٹیلی فون پر بتایا کہ انہوں نے ایک ہوٹل پر لوبیا کے ساتھ روٹی منگوائی جس کے عوض ان سے ساڑھے تین سو روپے وصول کیے گئے، جبکہ پلیٹ میں گننے پر صرف بائیس (22) لوبیا کے دانے موجود تھے۔ انہوں نے اس صورتحال کو مسافروں کے ساتھ کھلا مذاق قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی مقام پر ایک میاں بیوی نے چاول منگوائے جن سے سترہ سو روپے وصول کیے گئے، جس پر وہ شدید حیرت کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق ہر مسافر کے ساتھ اسی نوعیت کا رویہ روا رکھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔
ولی آرمان کا کہنا تھا کہ وہ سال میں کم از کم پانچ سے چھ مرتبہ سفر کرتے ہیں اور ہر بار یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں ڈرائیوروں اور ہوٹل مالکان کے درمیان مبینہ مالی مفادات کا بوجھ براہ راست مسافروں پر ڈالا جاتا ہے۔
متاثرہ مسافروں نے ضلعی انتظامیہ لوئر چترال اور اپر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آڈہ مالکان اور ڈرائیوروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ مسافروں کو صاف ستھرے ہوٹلوں پر لے جائیں اور مناسب نرخوں پر معیاری کھانا فراہم کیا جائے۔
مسافروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ آڈہ مالکان اور ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
