The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 17 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال میں مائننگ سیکٹر پر مبینہ طور پر عائد سخت اور غیر ضروری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے، چترال مائن اونرزایسوسی ایشن 

Chitral Times

چترال میں مائننگ سیکٹر پر مبینہ طور پر عائد سخت اور غیر ضروری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے، چترال مائن اونرزایسوسی ایشن 

چترال میں مائننگ سیکٹر پر مبینہ طور پر عائد سخت اور غیر ضروری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے، چترال مائن اونرزایسوسی ایشن 

چترال میں مائننگ سیکٹر پر مبینہ طور پر عائد سخت اور غیر ضروری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے، چترال مائن اونرزایسوسی ایشن

۔

چترال (نمائندہ  چترال ٹائمز ) چترال مائن اونر زایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر بشیر احمد خان نے گورنر خیبر پختونخوا، وزیر معدنیات، سیکرٹری معدنیات اور کور کمانڈر پشاور سے پرزور اپیل کی ہے کہ چترال میں مائننگ سیکٹر پر مبینہ طور پر عائد سخت اور غیر ضروری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے جس کے باعث مقامی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے اور کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔چترال پریس کلب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کا مائننگ (کان کنی) سیکٹر جو کہ علاقے کی تعمیر و ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس وقت حکومتی اور انتظامی پابندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چترال کے طول و عرض میں مائننگ کے شعبے سے ہزاروں مقامی خاندان بطور دیہاڑی دار مزدور وابستہ ہیں۔ ان کڑی پابندیوں کی وجہ سے کانوں میں کام بند ہو چکا ہے، گرین مائننگ کے ذریعے نکالی گئی مال کو ضلعے سے باہر لے جانے پر پابندی عائد ہونے کے نتیجے میں روزانہ کمانے والے ہزاروں مزدور بیروزگار ہو گئے ہیں۔

مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید چند دن برقرار رہی تو علاقے میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔بشیر احمد خان نے کہاکہ مائننگ سیکٹر میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں نے مشینری، لیبر اور لیزنگ پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اچانک اور سخت پابندیوں کے نفاذ سے ان کا سرمایہ مکمل طور پر بلاک ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے نہ صرف موجودہ سرمایہ کار یہاں سے اپنا سرمایہ نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں، بلکہ مستقبل میں کوئی بھی نیا سرمایہ کار چترال کا رخ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ مائننگ سیکٹر میں چترال کی تقدیر بدلنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اس شعبے کو فروغ دے کر علاقے سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا تھا، لیکن موجودہ پابندیاں چترال کی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔

chitraltimes bashir ahmad mine owner