جب زندگی بوجھ بن جائے: چترال میں خود-کشی کے واقعات، وجوہات اور ہماری اجتماعی ذمہ داری – تحریر: سیدہ منہاز پری
.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
“اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔”
(سورۃ النساء: 19)
اسلام انسانی زندگی کو ایک عظیم امانت قرار دیتا ہے۔ یہ دین انسان کی جان، عزت، سکون اور حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ انسانوں کے ساتھ رحم، محبت، انصاف اور حسنِ سلوک سے پیش آیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔”
(جامع ترمذی)
گزشتہ کچھ عرصے سے جب بھی چترال میں خودکشی کے واقعات کا ذکر سامنے آتا ہے تو ایک سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ آخر ہمارے خوبصورت اور پُرامن خطے میں یہ مسئلہ کیوں پیدا ہو رہا ہے؟ یہی سوال میرے لیے بھی غور و فکر کا باعث بنا۔
اس موضوع کو صرف ایک واقعے یا ایک وجہ سے سمجھنا ممکن نہیں۔ اسی لیے میں نے اس مسئلے کو سماجی، خاندانی اور نفسیاتی پہلوؤں سے سمجھنے کی کوشش کی۔ اس تحریر کا مقصد کسی فرد، خاندان یا معاشرے کو الزام دینا نہیں بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جن پر ہمیں بحیثیت معاشرہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
گھریلو ماحول اور ذہنی سکون
گھر انسان کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول فرد کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جہاں محبت، اعتماد اور گفتگو کا ماحول ہو وہاں مسائل کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے، لیکن مسلسل اختلافات، عدم توجہ یا جذباتی فاصلے انسان کو اندر سے کمزور کر سکتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ گھروں میں صرف ضروریات پوری نہ کی جائیں بلکہ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کا ماحول بھی پیدا کیا جائے۔
تربیت اور والدین کی ذمہ داری
بچوں کی تربیت صرف ان کی تعلیم اور سہولتوں تک محدود نہیں۔ انہیں زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے، صبر کرنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت دینا بھی ضروری ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ بچے اپنی پریشانیاں خوف کے بغیر بیان کر سکیں۔ محبت، اعتماد اور رہنمائی ایک مضبوط شخصیت کی بنیاد بنتے ہیں۔
ازدواجی مسائل اور سماجی دباؤ
شادی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہے جس کی بنیاد احترام، اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔ جب ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا ہوں تو متاثرہ فرد کو طعنوں اور الزاموں کے بجائے ہمدردی اور مناسب رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام نے عورت کو عزت اور حقوق عطا کیے ہیں۔ خلع اور طلاق جیسے جائز راستوں کو صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے باعثِ شرمندگی سمجھنا درست نہیں، بلکہ ایسے معاملات میں حکمت، انصاف اور شریعت کی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے۔
مشترکہ خاندانی نظام اور باہمی احترام
مشترکہ خاندان محبت اور تعاون کی خوبصورت مثال بن سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے برداشت اور احترام ضروری ہے۔ اگر گھر میں مسلسل تنقید، عدم تعاون یا ایک دوسرے کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے تو یہی ماحول ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
خواتین کی مشکلات اور خاندانی تعاون
ماں بننے کے بعد عورت کی زندگی میں بہت سی جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس مرحلے پر شوہر اور خاندان کا تعاون عورت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔
ایک مضبوط خاندان وہ ہے جہاں کمزور وقت میں فرد کو تنقید نہیں بلکہ سہارا دیا جائے۔
سوشل میڈیا اور نوجوان نسل
سوشل میڈیا آج کے دور کی حقیقت ہے۔ اس کے مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن غلط استعمال، غلط صحبت اور رہنمائی کی کمی بعض نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو صرف آزادی نہ دیں بلکہ انہیں شعور، اعتماد اور صحیح سمت بھی فراہم کریں۔
ہماری اجتماعی ذمہ داری
خودکشی جیسے حساس مسئلے کو صرف ایک فرد کی کمزوری سمجھنا درست نہیں۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جنہیں سمجھنے اور حل کرنے کے لیے خاندان، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہمیں ایسے رویے اپنانے ہوں گے جہاں انسان اپنی تکلیف بیان کرنے سے نہ ڈرے۔ کبھی کبھی ایک نرم گفتگو، ایک ہمدرد رویہ اور بروقت مدد کسی انسان کے لیے امید کا سبب بن سکتی ہے۔
کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی صرف عمارتوں اور سہولتوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو کتنی سنجیدگی سے محسوس کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں محبت، اپنے رویوں میں رحم اور اپنے معاشرے میں احساس پیدا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو امن، محبت اور باہمی احترام کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔