چترال کے حفیظ اللہ امین کی گرفتاری: ایک پوسٹ کالونیل جائزہ ۔ تحریر: احتشام الرحمن
.
حفیظ اللہ امین چترال کے معروف شاعر اور ادیب ہیں۔ وہ مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں، تاہم ان کی شاعری میں حسن، محبت اور فطرت کے روایتی مضامین کے ساتھ احتجاج اور مزاحمت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے وہ استعمار، نوآبادیاتی ورثے، سماجی ناہمواریوں اور طاقت کے مختلف مظاہر پر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ ان کی شناخت صرف شاعری تک محدود نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی وہ ایک فعال آواز کے طور پر مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی پہلو انہیں چترال کے دوسرے ادیبوں اور شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ افواج پاکستان کے سابق نان کمیشنڈ آفیسر اور سوات آپریشن کے غازی بھی ہیں۔
حال ہی میں ان کی گرفتاری نے آزادی اظہار، تنقید اور ریاستی اختیار کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے انہیں برطانوی شہری اور لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج چترال کی پرنسپل کیری سکاوفیلڈ کے بارے میں مبینہ طور پر ہتک آمیز مواد نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ معاملے کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ سکاوفیلڈ کو ایک قومی اعزاز سے نوازا گیا تھا، جس پر حفیظ اللہ امین نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس فیصلے پر تنقید کی۔ بعد ازاں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئی۔
اس مقدمے کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی عمل ہی کرے گا۔ تاہم ادبی اور پوسٹ کالونیل زاویے سے یہ واقعہ ایک وسیع تر سوال ضرور اٹھاتا ہے: جب ایک مقامی ادیب کسی ایسے معاملے پر سوال اٹھاتا ہے جس کا تعلق ایک برطانوی شہری، ایک تعلیمی ادارے اور قومی اعزاز سے ہو، تو کیا اس تنقید کو صرف ایک شخصی تنازع کے طور پر دیکھا جائے یا اسے چترال کی نوآبادیاتی تاریخ اور اس کے باقی ماندہ اثرات کے تناظر میں بھی پڑھا جائے؟
چترال سمیت پورا خطہ برطانوی سامراجی سیاست اور اس کے اثرات سے گزر چکا ہے۔ برطانوی ہندوستان میں اختلاف رائے اور سیاسی مزاحمت کو مختلف اوقات میں ریاستی طاقت کے ذریعے دبایا گیا۔ 1919ء کا جلیانوالہ باغ سانحہ اس تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہے۔ اس پس منظر میں پوسٹ کالونیل فکر کا بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاسی آزادی حاصل ہوجانے کے بعد کیا نوآبادیاتی عہد کے اثرات بھی مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں؟
ایڈورڈ سعید، فرانز فینوں اور ہومی بھابھا جیسے مفکرین نے مختلف انداز میں واضح کیا کہ استعمار صرف سیاسی اقتدار یا جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ زبان، ثقافت، اداروں، ذہنی رویوں اور طاقت کے تصورات پر بھی اثر چھوڑتا ہے۔ اسی لیے نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد بھی بعض ادارہ جاتی ڈھانچوں اور ذہنی رویوں کے تسلسل پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ بحث موجود ہے کہ پولیس، بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں میں نوآبادیاتی دور سے منتقل ہونے والے بعض انتظامی تصورات کافی حد تک برقرار رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ پاکستان کو براہ راست برطانوی سامراج کے برابر قرار دیا جائے۔ دونوں کے تاریخی اور قانونی حالات مختلف ہیں۔ لیکن یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ کیا ہمارے اداروں اور اجتماعی ذہن میں طاقت، اختیار اور اختلاف رائے کے بارے میں کچھ ایسے تصورات باقی ہیں جن کی جڑیں نوآبادیاتی ماضی میں پیوست ہیں؟ حفیظ اللہ امین کا معاملہ اسی سوال کو ایک معاصر مثال کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
اس بحث کو ان کے خاندانی پس منظر سے جوڑیں تو ایک دلچسپ تاریخی تسلسل سامنے آتا ہے۔ ان کے ننیال سے تعلق رکھنے والے پرنانا محمد عیسیٰ خان نے برطانوی سامراج کے خلاف تلوار اٹھائی اور عمرا خان کے ساتھ مل کر مزاحمتی جدوجہد میں حصہ لیا۔ چترال کی مقامی روایت اور برطانوی تحریروں میں انہیں بہادری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کے دادیال سے تعلق رکھنے والے روشن علی خان نے بھی مزاحمت اور بہادری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
یہاں تلوار سے قلم تک کا سفر محض ایک جذباتی تشبیہ نہیں بلکہ مزاحمت کے بدلتے ہوئے طریقہ اظہار کو سمجھنے کا ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ ایک عہد میں جب سامراجی طاقت براہ راست عسکری صورت میں موجود تھی تو مزاحمت کا ذریعہ تلوار تھی جبکہ آج سیاسی اور سماجی کشمکش کے میدان بدل چکے ہیں، اس لیے اختلاف اور مزاحمت کے اظہار کے ذرائع بھی بدل گئے ہیں۔ حفیظ اللہ امین کے لیے شاعری، تحریر اور سوشل میڈیا وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے عہد کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ یوں ان کے آباؤ اجداد کی جدوجہد اور ان کے اپنے ادبی کردار کے درمیان ایک فکری اور علامتی تسلسل دیکھا جاسکتا ہے۔ نسل بدلتی ہے، حالات بدلتے ہیں اور مزاحمت کی زبان بھی بدل جاتی ہے، لیکن آزادی، شناخت اور طاقت کے بارے میں سوال اٹھانے کی روایت باقی رہ سکتی ہے۔
اسی تناظر میں حفیظ اللہ امین کا معاملہ محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ یا ایک قانونی مقدمے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ہمیں اس بڑے سوال کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ سیاسی آزادی کے بعد ذہنی اور ادارہ جاتی آزادی کا سفر کہاں تک پہنچا ہے۔ اگر ایک نسل نے اپنے عہد کے سامراج کا مقابلہ تلوار سے کیا تھا تو آج کے عہد میں قلم، شاعری اور اختلاف رائے اسی تاریخی شعور کے نئے اظہار ہوسکتے ہیں۔
حفیظ اللہ امین کے معاملے کا فیصلہ قانون کے مطابق متعلقہ ادارے اور عدالتیں کریں گی۔ تاہم، ایک فکری سوال اپنی جگہ قائم رہے گا: کیا ہم نے صرف نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی حاصل کی ہے یا اپنے ذہن کو بھی آزاد کرلیا ہے؟ کیا آج کا تعلیم یافتہ طبقہ بھی، شعوری یا غیر شعوری طور پر، استعماریت کے ان تصورات کو آگے نہیں بڑھا رہا جن کے تحت ایسا طبقہ تشکیل دینا مقصود تھا جو جسمانی طور پر مقامی، مگر ذہنی اور فکری طور پر حاکم کا پیرو ہو؟ فرانز فینون نے بلیک اسکن، وائٹ ماسک میں اسی ذہنی غلامی کی نشاندہی کی ہے، جہاں محکوم انسان حاکم کی زبان، اقدار اور پیمانوں کو اپنی شناخت کا معیار بنا لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے حاکم کو رخصت کرنے کے بعد بھی اس کے قائم کردہ فکری پیمانے اپنے ذہنوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟