چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ فورم کے زیرِ اہتمام پشاور پریس کلب میں خدمتِ خلق کانفرنس کا انعقاد
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ فورم کے زیرِ اہتمام پشاور پریس کلب میں خدمتِ خلق کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات، برنس کمیونٹی، وکلا اور صحافیوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل (ریٹائرڈ) سجاد علی خان تھے،جہنوں نے کورونا وائرس کے دوران جب اس فورم کا انعقاد کیا گیا اس وقت سے لیکر ابتک ہر صورتحال اور انسانیت کو درپیش ہر مسلئے کے لئے فورم میں سب سے اگے نظر اتے ہیں،
اوورسیز بزنس کمیونٹی کے لیڈر حاجی نور اعظم خان نے تمام اوورسیز محب وطن اور انسانیت سے محبت اور خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کی نمائندگی کی۔جبکہ ضیا سالک لندن سے، محب فاروق نے برلن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خدمت خلق کانفرنس میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے خدمت خلق کانفرنس میں ویڈیو لنک کے زریعے شرکت کی اور تمام ورلنٹرز کے کام کو سراہا جبکہ انسانیت کی خدمت کے سفر میں چترال انفرمیشن اینڈ ہیلپنگ ہینڈ کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔۔
مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں پسماندگی، بے روزگاری اور دیگر مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل کے حل میں اس نوعیت کے فلاحی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور خدمتِ خلق کانفرنس کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اس موقع پر سابق رکنِ قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن، خواتین ایم پی اے عارفیہ بی بی، پی ٹی آئی کے رہنما رحمت غازی، سرتاج احمد خان، سینئر بیوورکریٹ عبدلاکرم اور ڈاکٹر عبدالکریم سینئر صحافی ذوالفقار علی شاہ نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت عبادت ہے، اور جو لوگ کمزور اور نادار افراد کی مدد کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیشِ نظر ایسے فلاحی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مقررین نے مزید بتایا کہ چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ فورم دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق واٹس ایپ گروپ کے ذریعے چترال کے کمزور اور مستحق افراد کی مدد کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ فورم نے کورونا کے دوران عوام کی مدد کی، جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے تحت فورم کو مزید فعال بنانے اور انسانیت کی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد میں شیلڈز اور مہمانوں میں روایتی تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔


