ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے چترال کے شہری دوبارہ لکڑی جلانے پر مجبور، جنگلات پر دباو بڑھنے کا خدشہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث شہری دوبارہ کھانا پکانے و دیگر ضروریات کیلئے لکڑی کا استعمال دوبارہ شروع کردیا ہے، جس سے علاقے کے محدود جنگلات کے مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ گزشتہ برسوں گرمیوں میں لکڑی کی خریدوفروخت نہ ہونے کے برابر تھی، لوگ صرف سردیوں کیلئے لکڑی اسٹاک کرتے تھے مگر امسال چترال کے لکڑی اسٹاک پر روزانہ جلانے کے لکڑی کی خریدوفروخت جاری ہے۔
مقامی اندازوں کے مطابق چترال کے مجموعی رقبے کا صرف تقریباً دو فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ زیادہ تر جنگلات لوئر چترال میں واقع ہیں۔ کئی سال تک لکڑی گھریلو ایندھن کا بنیادی ذریعہ رہی، تاہم گزشتہ برسوں میں ایل پی جی کے استعمال میں اضافے سے جنگلات پر دباؤ میں نمایاں کمی آئی تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق ایل پی جی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے جنگلات کی کٹائی میں کمی اور اس کے نتیجے میں ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات، خصوصاً اچانک سیلابی ریلوں کے خطرے میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم اب ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے یہ پیش رفت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
شہریوں کے مطابق 15 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت، جو پہلے تقریباً 5 ہزار روپے تھی، گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھ کر تقریباً 7 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایل پی جی کا استعمال مشکل ہوگیا ہے۔
چترال کے ایک ایل پی جی ڈیلر نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافے سے صارفین کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ایل پی جی کی فروخت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق لوگ اب ایل پی جی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث کاروبار تقریباً رک کر رہ گیا ہے۔
ڈیلر کے مطابق ماضی میں ایل پی جی پنجاب اور پشاور سے چترال منتقل کی جاتی تھی، بعدازاں ضلع میں ایک ایل پی جی پلانٹ قائم کیا گیا جسے بیک وقت چھ گیس ٹینکرز لانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ پلانٹ اس وقت ایک وقت میں صرف ایک ٹینکر منگوا رہا ہے، جس کے باعث رسد محدود اور قیمتیں زیادہ ہیں۔
ڈیلر کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے حال ہی میں ایل پی جی ڈیلرز اور پلانٹ مالک کا اجلاس بلا کر قیمتوں کے تعین کے لیے طریقہ کار طے کیا تھا۔ اگرچہ مقررہ قیمتیں چند روز تک نافذ رہیں، تاہم بعدازاں یہ انتظام برقرار نہ رہ سکا اور ایل پی جی کی قیمتیں دوبارہ سابقہ سطح پر پہنچ گئیں۔
ڈیلر کا کہنا تھا کہ اگر ایل پی جی پلانٹ روزانہ چھ ٹینکرز فراہم کرے تو گیس کی قیمت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے سابق رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چترال کے مختلف مقامات پر تین ایل پی جی پلانٹس قائم کرنے اور پائپ لائن کے ذریعے صارفین تک گیس پہنچانے کا منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے لیے کروڑوں روپے مالیت کی زمین بھی خریدی گئی تھی۔ جس میں بلچ چترال ، بروز آیون اور دروش شامل ہیں۔
تاہم مقامی افراد کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا اور تاحال اس پر تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی پلانٹس کے منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جائے اور چترال میں ایل پی جی کی وافر اور سستی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ لکڑی پر انحصار کم ہونے سے چترال کے محدود اور حساس جنگلات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔
