چترال کے آل پارٹیز کا وفاقی حکومت کی فنڈز سے چلنے والے سڑکوں کے منصوبوں کی پیش رفت پر شدید تحفظات کا اظہار، شدید موسمی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سڑکوں کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیزکرنے کا مطالبہ
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) مرکز میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) سمیت مقامی سیاسی قیادت نے وفاقی حکومت کی فنڈز سے چلنے والے سڑکوں کے منصوبوں کی پیش رفت پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے کام کی رفتار میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو یہاں مسلم لیگ ن چترال کے صدر عبدالولی خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت آل پارٹیز اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی رہنماؤں نے
وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار سڑکوں کے منصوبوں پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔
جماعت اسلامی کی طرف سے سابق ضلعی ناظم مغفرت شاہ، وجیہہ الدین اور مولانا جمشید احمد ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالشکور اور قاری جمال عبدالناصر پی پی پی کے، شریف حسین، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد کوثر ایڈووکیٹ اور اے این پی کے الحاج عید الحسین شریک ہوئے۔
انہوں نے پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم (PMIT) کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر خالد رانجھا کو سڑک کی ناقص تعمیر اور اس کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کے بارے میں عوامی شکایات سننے کے لیے چترال بھیجنے پر بھی وزیر اعظم کی تعریف کی۔
منگل کو یہاں مسلم لیگ ن چترال کے صدر عبدالولی خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت آل پارٹیز اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار سڑکوں کے منصوبوں پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔
انہوں نے پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم (PMIT) کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر خالد رانجھا کو سڑک کی ناقص تعمیر اور اس کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کے بارے میں عوامی شکایات سننے کے لیے چترال بھیجنے پر بھی وزیر اعظم کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ایم آئی ٹی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہدایت کی تھی کہ وہ سڑکوں کے پراجیکٹس کی عمل آوری کرنے والی ایجنسی کو بونی سے چترال شہر اور شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام بیک وقت شروع کرے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔
رہنماؤں نے کہا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کی تکمیل کے لیے چیئرمین پی ایم آئی ٹی نے این ایچ اے کو بمشکل ایک ماہ کا وقت دیا تھا لیکن درحقیقت اس پر کام سست رفتاری سے جاری ہے جبکہ کالاش ویلیز روڈ پر ابھی تک کوئی کام شروع نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ایم آئی ٹی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہدایت کی تھی کہ وہ سڑکوں کے پراجیکٹس کی عمل آوری کرنے والی ایجنسی کو بونی سے چترال شہر اور شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام بیک وقت شروع کرے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔
رہنماؤں نے کہا کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کی تکمیل کے لیے چیئرمین پی ایم آئی ٹی نے این ایچ اے کو بمشکل ایک ماہ کا وقت دیا تھا لیکن درحقیقت اس پر کام سست رفتاری سے جاری ہے جبکہ کالاش ویلیز روڈ پر ابھی تک کوئی کام شروع نہیں کیا گیا۔
انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ علاقے کی شدید موسمی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سڑکوں کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں جس سے کام کا سیزن سات ماہ رہ جاتا ہے جبکہ منصوبے پہلے ہی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔