چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور کا جائزہ اجلاس، بعض علاقوں میں قیمتوں میں اضافے پر چیف سیکرٹری نے ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کردی
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے صوبے کے گورننس امور پر ایک ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں صوبے کے مختلف شعبوں میں جاری اہم منصوبوں اور اقدامات کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے سیاحت کے فروغ کے لئے جاری کوششوں میں تیزی لانے اور متعلقہ منصوبوں پر بروقت پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری سیاحت نے گلیات کے علاقے میں کچرے کے انتظام کو بہتر بنانے کے لئے ایک جامع منصوبہ پیش کیا۔ اس پر چیف سیکرٹری نے فوری عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں کے سیوریج سسٹم کو بہتر بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ماحول کو آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے بریان نتھیہ گلی روڈ کے جاری کام کا بھی جائزہ لیا اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں سوات سمیت دیگر سیاحتی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف مہم میں پیشرفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پارٹنرشپ) کے تحت جاری منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جن میں درابن اکنامک زون اور پشاور میں ایک نئے ٹیچنگ ہسپتال اور میڈیکل کالج کا قیام شامل ہے۔ یہ منصوبے صوبے کی معاشی ترقی اور طبی خدمات کی بہتری کے لئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔اس موقع پر ”کیش لیس خیبر پختونخوا” اور ”ای-آفس” منصوبوں کا ایکشن پلان پیش کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو مزید فعال اور موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے 1089 ٹھیکے ای-پرکیورمنٹ سسٹم کے ذریعے دیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں متعدد دیگر اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ بعض علاقوں میں قیمتوں میں اضافے پر چیف سیکرٹری نے ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ اس کے علاوہ اجلاس میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کا بھی جائزہ پیش کیا گیا۔اجلاس کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے تحت جاری بڑے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی، جن میں ناردرن سیکشن رنگ روڈ اور نیو جنرل بس سٹینڈ شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ان تمام منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے جلد فائدہ اٹھا سکیں
مشیر صحت احتشام علی اور سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ کی زیر صدارت ڈی ایچ اوز کانفرنس، کارکردگی کا تفصیلی جائزہ، سخت ہدایات جاری
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی اور سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ کی سربراہی میں چٹھی ڈی ایچ او کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف ایچ ایس آریو ڈاکٹر اعجاز، ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر قاسم، تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، اے ڈی جیز اور ریجنل ڈائریکٹر جنرلز نے شرکت کی۔
کانفرنس میں مشیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالی، ایچ آر ایم آئی ایس پر درست انٹری، طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر شعیب اور ڈی ایچ او لوئر چترال کو بہترین کارکردگی پر توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔ سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے شمالی وزیرستان، تورغر، ایبٹ آباد، نوشہرہ، سوات، بٹگرام اور کوہستان لوئر کے ڈی ایچ اوز کو ایل ایم آئی ایس پر غلط انٹری پر سرزنش کی اور دو دن میں درستگی کی ہدایت دی، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مشیر صحت احتشام علی کو ادویات کی عدم سپلائی پر بتایا گیا کہ ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی ادویات کی سپلائی کے مسئلے کے حل کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک 327 ملین روپے کی ادویات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ 942 ملین کی ادویات سٹورز میں پڑی ہیں جس کی تقسیم باقی ہے۔مشیر صحت نے پی سی ایم سیز کی کارکردگی بارے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔مشیر صحت کو بتایا گیا کہ پیچیدہ گائن لائنز کی وجہ سے 148 ملین میں سے صرف 18 ملین (13 فیصد) خرچ کیے گئے۔ ان گائیڈ لائنز پر نظر ثابی کا عمل کا آخری مراحل میں ہے۔ جس کے بعد ان کمیٹیوں کے تحت تربیت کیعمل میں نمائاں تیزی آئیگی۔ مشیر صحت کی جانب سے ڈاکٹرز کی غیر حاضری پر سخت موقف اپنایا گیا۔ مسلسل غیر حاضر 38 ڈاکٹرز میں سے 15 اضلاع کے ڈی ایچ اوز نے رپورٹ دی ہے، جن کے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ آئی ایم یو کی رپورٹ کردہ 24 میں سے 14 غیر حاضر میڈیکل آفیسرز کی بھی توثیق ہو چکی ہے۔
مشیر صحت نے مسلسل غیر حاضر ڈاکٹرز کی جگہ پر کنٹریکٹ پر نئے ڈاکٹرز کی بھرتی کے احکامات جاری کردیے۔ ایچ آر ڈیٹا کی ڈیجٹائزیشن کیلئے ایچ آر ایم آئی ایس ڈیٹا اپلوڈنگ پر زور دیا گیا۔ 97 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا اپلوڈ کیا جا رہا ہے، جس میں 87 فیصد سترہ گریڈ کے افسران کا ڈیٹا مکمل ہو چکا ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ نے ڈی ایچ او خیبر کے فوکل پرسن کو غلط انٹری پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔اجلاس میں صحت مراکز کی کارکردگی میں بہتری کا اعتراف کیا گیا۔ بیس ضروری ادویات کی فراہمی 70 فیصد، طبی آلات کی فعالی 95 فیصد، صفائی کا مجموعی سکور 77 فیصد رہا۔ جولائی میں 1400 سے زائد زچگیاں ریکارڈ کی گئیں۔مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ اگلی کانفرنس سے قبل تمام ڈی ایچ اوز اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔
