گڈ گورننس ایجنڈا: عوامی خدمات کی بہتری کیلئے اہم فیصلے، گلیات، کمراٹ، کالام اور کیلاش سمیت اہم سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کا عمل جاری، بریفنگ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے گڈ گورننس اصلاحاتی ایجنڈے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیااجلاس میں مختلف اہم فیصلے کیے گئیشرکائیاجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر محکمے گڈ گورننس کے ایجنڈے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔سیاحت کے فروغ اور مواصلاتی نظام کی بہتری کے لیے سوات موٹروے فیز ٹو پر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے کا جلد افتتاح بھی متوقع ہے۔ اسی طرح گلیات، کمراٹ، کالام اور کیلاش سمیت اہم سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق ماسٹر پلاننگ کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنا کر پائیدار سیاحت کو فروغ دیا جائے گا اور بے ہنگم تعمیرات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور میں نیو جنرل بس اسٹینڈ کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد شہر کے تمام بس اڈوں کو نئے جنرل بس اسٹینڈ منتقل کیا جائے گا جس سے ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے صوبے کے ان اضلاع میں جہاں ڈاکٹروں کی کمی ہے، میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر 2400 میڈیکل آفیسرز بھرتی کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو بروقت مکمل یقینی بنایا جائے۔
.
*پشاور ری وائٹلائزیشن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ، کام تیز کرنے کی ہدایت*
.
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پشاور ری وائٹلائزیشن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور ری وائٹلائزیشن منصوبے کے تحت دارالحکومت کی خوبصورتی اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لئے اقدامات تیز کر دئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکمے ترجیحی بنیادوں پر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں
۔بریفنگ میں کہا گیا کہ اس منصوبے میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل کونسل بورڈ، کیپیٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ پشاور، ایریگیشن، سی اینڈ ڈبلیو اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاسز کے ڈیزائن پر کام جاری ہے۔ شہر میں 34 پارکس کی اپ لفٹنگ اور 35 سڑکوں کی بہتری کے منصوبوں پر بھی کام کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے دیگر مقامات پر انڈر پاسز کی فزیبلٹی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ سمیت مختلف شاہراہوں کی بحالی، لنک روڈز کی تعمیر، سٹریٹ لائٹس اور گرین بیلٹس کی بہتری بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔
اسی طرح حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ سے ناردرن بائی پاس تک لنک روڈ کی تعمیر بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دریائے کابل کنال اور ورسک لفٹ کینال کے اطراف سڑکوں کی بہتری اور خوبصورتی کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں نئی واٹر سپلائی سکیموں کے ساتھ پرانی سکیموں کی بحالی پر بھی کام کیا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس مقصد کے لیے تمام منصوبوں کی باقاعدہ ٹریکنگ کے لیے ٹریکنگ شیٹ بھی تیار کر لی گئی ہے تاکہ پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
