چیف سیکریٹری کا عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبے بھر میں سکیورٹی، صفائی، ٹریفک مینجمنٹ، سیاحوں کی سہولت،اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی بروقت تلفی کے لیے جامع انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) عیدالاضحیٰ 2026 کے موقع پر صوبے بھر میں سکیورٹی، صفائی، ٹریفک مینجمنٹ، سیاحوں کی سہولت، ہنگامی امداد اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی بروقت تلفی کے لیے جامع انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں. چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہدایات میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پولیس، ریسکیو 1122، بلدیاتی اداروں، محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، سیاحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو عید سے قبل اور عید کے دوران خصوصی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہیتمام اضلاع میں عیدگاہوں، مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور مویشی منڈیوں میں سخت سکیورٹی اور رش کنٹرول کرنے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.
صرف منظور شدہ مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانور فروخت کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ سڑکوں، پلوں اور رہائشی علاقوں میں غیرقانونی مویشی منڈیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بڑی مویشی منڈیوں میں پارکنگ، پینے کے پانی، سایہ، روشنی اور شکایات کے ازالے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔محکمہ لائیو اسٹاک قربانی کے جانوروں کے معائنے،ویکسینیشن اور بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات یقینی بنائے گا جبکہ شہریوں کو بیمار جانوروں کی نشاندہی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی بھی دی جائے گی۔ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور کم تولنے والوں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح ہوٹلوں، بیکریوں، مٹھائی کی دکانوں اور دیگر فوڈ پوائنٹس کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔بلدیاتی اداروں اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں کو عید کے دنوں میں قربانی کی آلائشوں اور جانوروں کے فضلے کی بروقت صفائی اور محفوظ تلفی کے لیے خصوصی صفائی مہم چلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نہروں، ندی نالوں اور عوامی مقامات پر آلائشیں پھینکنے پر پابندی عائد ہوگی۔پولیس کو عید سے پہلے اور عید کے دنوں میں بازاروں، سیاحتی مقامات اور عوامی اجتماعات پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، تیز رفتاری اور ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف خصوصی کارروائیاں کی جائیں گی سیاحتی اضلاع میں ٹریفک پلان، ایندھن، خوراک اور پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی جبکہ اہم سیاحتی مقامات پر ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے جائیں گے۔ دریاؤں، جھیلوں اور ڈیموں پر حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور لائف جیکٹ کے بغیر بوٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز، ایکسرے، فارمیسی، ایمبولینس اور ٹراما سہولیات چوبیس گھنٹے فعال رکھی جائیں۔
ضلعی انتظامیہ کو 24/7 کنٹرول روم قائم کرنے اور ہیلپ لائن نمبرز میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔محکمہ اطلاعات کو عید انتظامات، ٹریفک ڈائیورژن، سیاحتی ہدایات، ایمرجنسی نمبرز، صفائی اور عوامی تحفظ سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر غلط اور خوف پھیلانے والی خبروں کی فوری تردید کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔اسی طرح کالعدم تنظیموں یا غیر مجاز افراد کو عیدالاضحیٰ کے دوران کھالیں یا عطیات جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈپٹی کمشنرز کو جیلوں، ہسپتالوں، یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کے دورے کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
