بانی چیئرمین عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی تقریر کو وفاقی حکومت نے غلط رنگ دیکر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے چند روز قبل ایک تقریر کی جسے جعلی وفاقی حکومت نے غلط رنگ دے کر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جعلی حکومت اپنی معاشی ناکامیوں کا ملبہ قاسم خان پر ڈال کر اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہم نے قاسم خان کی تقریر کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے تاکہ قوم کو حقیقت بتائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف چاہتی ہے کہ پاکستان جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تحت ترقی کرے اور عالمی تجارت میں اپنا کردار بڑھائے، مگر موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے اس کو خطرات لاحق ہیں۔ یورپی ممالک نے تجارتی تعلقات کے لیے جمہوریت، انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور شفاف حکمرانی کو لازمی قرار دیا ہے تاہم موجودہ جعلی حکومت ان تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر کے اپنا ملبہ قاسم خان اور پاکستان تحریک انصاف پر ڈالنا چاہتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ قاسم خان کی گفتگو ایک بیٹے کی اپنے والد کے لیے فکرمندی کا اظہار تھی، جس کا نہ پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی مالی یا کاروباری مفاد سے ہے۔ جعلی اور مسلط شدہ حکمران بغض عمران خان میں اندھے ہو چکے ہیں، پاکستانی قوم ان کا چہرہ مزید دیکھنا نہیں چاہتی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کو ایک سازش کے تحت ریجیم چینج کے ذریعے منتخب حکومت کا خاتمہ کر کے ایک امپورٹڈ اور جعلی حکومت مسلط کی گئی، جس نے جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام نے واضح طور پر پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا، مگر یہ مینڈیٹ چھین کر دوبارہ جعلی حکومتیں مسلط کی گئیں، جس سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا۔ قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال نہایت تشویشناک حد تک ابتر ہو چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو جلسے اور پرامن احتجاج تک کی اجازت نہیں دی جا رہی، کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ کم عمر لڑکے اور طلبہ بھی اس جبر سے محفوظ نہیں رہے۔ پنجاب اور سندھ میں ہمارے اراکین اسمبلی اور وزکرز کو اٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حق گو صحافی بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں پختونوں کے خلاف جاری کریک ڈاون قابلِ مذمت ہے اور وہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو جھوٹے مقدمات میں قید کر کے مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ اب بشریٰ بی بی کی آنکھ کے مسئلے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں اور ان کے ساتھ بھی دورانِ حراست ناروا سلوک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے تمام تقاضوں کی خلاف ورزی خود وفاقی حکومت کر رہی ہے اور اس کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ملکی ترقی کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے اور پورے پاکستان کی آئندہ نسلوں کے لیے ماحولیاتی تحفظ پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت عمران خان کے وڑن کے مطابق شجرکاری مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کے مجموعی جنگلات میں تقریباً 45 فیصد حصہ دے رہی ہے، جبکہ صوبے میں جنگلات کے رقبے کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسلط شدہ حکمران درخت کاٹ کر رہائشی کالونیاں بنا رہے ہیں اور ان کی بدعنوانی کا حجم 5300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس کی نشاندہی آئی ایم ایف نے کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ سرمایہ کار بھی عدم اعتماد کے باعث سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث صنعتی پہیہ رک چکا ہے، ٹیکسٹائل سمیت اہم شعبے متاثر ہوئے ہیں، تجارتی خسارہ بڑھ چکا ہے، نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو قرضوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر چلایا جا رہا ہے جبکہ سیاسی عدم استحکام کے باعث صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جعلی اور مسلط شدہ حکمران بغض عمران خان میں اندھے ہو چکے ہیں اور پاکستانی قوم ان کا چہرہ مزید دیکھنا نہیں چاہتی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کرپٹ حکمرانوں سے نجات اور حقیقی آزادی کے قیام کے لیے ملک بھر میں احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

۔
۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ضلع خیبر کے قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل مختلف وفود کی ملاقاتیں
،
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ضلع خیبر کے قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل مختلف وفود نے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ملاقاتیں کی، جن میں عوامی مسائل، علاقے میں امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفود کی جانب سے علاقے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ ملاقاتوں میں ضلع خیبر میں سڑکوں کے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ صوبے میں گورننس اور ترقی پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے اور صوبے کے تمام دستیاب وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی کی مد میں 1375 ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا ہیں۔ اسکے علاوہ انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لیے 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر گزشتہ سات سال میں خیبرپختونخوا حکومت کو صرف 168 ارب روپے ملے ہیں جبکہ 532 ارب روپے بقایا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا ہے، یہ مزید برداشت نہیں کریں گے۔ خیبرپختونخوا کے مختلف مدات میں مجموعی طور پر 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام تو ہو چکا ہے مگر مالی طور پر یہ عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔ این ایف سی کے تحت فنڈز کی تقسیم صرف ساڑھے تین صوبوں میں ہو رہی ہے جبکہ ضم اضلاع کو ان کا حصہ نہیں دیا جا رہا، جو کہ ایک غیر آئینی اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر فورم پر صوبے بالخصوص ضم اضلاع کا مالی مقدمہ بھرپور انداز میں لڑ رہی ہے اور وفاق کی جانب سے مسلسل زیادتی مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضم اضلاع کے لیے ترقیاتی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا جامع ترقیاتی پیکج تیار کر لیا گیا ہے جو آئندہ سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہوگا۔ اس پیکج میں ہر شعبے اور ہر ضم ضلع کے لیے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، کوئی بھی ضلع یا علاقہ ترقی سے محروم نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ باڑہ ڈیم کے لیے آئندہ مالی سال میں فنڈز مختص کی جائے گی جبکہ خیبر انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے۔ ضلع خیبر کے جبہ ڈیم کا مسئلہ حل ہو چکا ہے جبکہ ریگی للمہ کا مسئلہ بھی قومی مشران اور عمائدین کی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور قوم کا کوئی نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے تیراہ پیکج کی تیاری پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا، اور جب صوبائی حکومت نے ان کی فلاح کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے تو اس پر غیر ضروری تنقید کی گئی، جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی شاہ خرچیوں کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا مگر اس پر کوئی بات نہیں کی گئی۔
وزیر اعلی نے کہا کہ قبائل کو جان بوجھ کر ترقی سے محروم رکھا گیا اور آج بھی بعض عناصر ان کے حقوق چھین کر انہیں مزید محروم رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تیراہ متاثرین کے ساتھ معاوضوں کی جو کمٹمنٹ کی گئی ہے وہ آئندہ ہفتے تک کلیر کر دی جائیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی یا غفلت نہیں ہوگی۔ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے کی گئی کمٹمنٹ پوری نہیں ہوتی تو احتجاج ہمارا حق ہے۔
