ہائی کورٹ کی احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا، آڈیالہ جیل کے باہر دھرنا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کے احکامات کے بعد جمعرات کے روز اڈیالا کا دورہ کیا تاکہ وہ قائد عمران خان سے مل سکیں۔ تاہم عدالت کی واضح اجازت کے باوجود وزیرِ اعلیٰ کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالت کے واضح احکامات پر عمل درآمد سے انکار اور عدالت کے احکامات کا عدم احترام ملک میں عدل و انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کا دورہ مکمل طور پر آئینی تھا اور اس کا مقصد گورننس سے متعلق اہم پالیسی امور پر اپنے پارٹی قائد سے رہنمائی حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے وہ اپنے قائد سے نہیں مل سکے اور یہ ملاقات اس لیے ضروری تھی تاکہ صوبے کے امور کو عمران خان کے وژن اور رہنمائی کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات سے قبل تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے گئے تھے، جن میں محکمہ داخلہ پنجاب، وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سے رابطہ شامل تھا، اس کے بعد ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی پارٹی اور قیادت سے مکمل وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف وزیرِ اعلیٰ نہیں بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک کارکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جو بھی ہدایت ہوگی، اسے وہ حرف بہ حرف نافذ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے اور صوبے کے عوام نے پی ٹی آئی کو انہی کے وژن اور پالیسیوں کی بنیاد پر ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عمران خان کی رہنمائی کے بغیر کوئی کابینہ تشکیل نہیں دی جائے گی۔ ملکی و علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پڑوسی ممالک، بالخصوص افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات باہمی احترام اور معاشی تعاون کی بنیاد پر استوار ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے افغانستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں، اور صوبائی حکومت خطے میں امن، تجارت اور خوشحالی کی خواہاں ہے، تاہم صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلے بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی حکومت کی سیکیورٹی اور ترقیاتی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صرف فوجی کارروائیوں سے دہشت گردی ختم نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی فوجی آپریشن دیکھے مگر دہشت گردی اب بھی موجود ہے، اور پائیدار امن کے لیے عمران خان کی پالیسی ہی واحد راستہ ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کے حقوق کی بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مالی واجبات، خصوصاً سابق فاٹا کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ، تاحال ادا نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ، این ایف سی اور دیگر مدات میں تقریباً تین ہزار ارب روپے کے واجبات فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ پولیس کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے دی جانے والی گاڑیاں پرانی اور ناقابلِ استعمال تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس عزت اور جدید سہولیات کی مستحق ہے، ناکارہ گاڑیوں کی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی پولیس کے انفراسٹرکچر، استعداد کار میں اضافے اور نئی بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے خطیر رقم مختص کر چکی ہے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے سچ پیش کریں گے اور عوامی عدالت ہی سے انصاف طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی انصاف عوام کے فیصلے سے آئے گا۔

