وزارت اعلیٰ کی تبدیلی: پی ٹی آئی کے لئے نیا موڑ ۔۔ تحریر: احتشام الرحمن
پاکستانی سیاست ہمیشہ غیر یقینی اور حیرت انگیز موڑوں سے بھری رہی ہے۔ طاقت، عوامی جذبات، نظریات اور اسٹیبلشمنٹ کے اثرات یہاں کبھی الگ الگ نہیں رہے۔ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد صوبائی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تاہم، بعض حلقے اس تبدیلی کو محض سیاسی چال سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ نہ صرف عمران خان کی جماعت کے لیے ایک نئے سیاسی مرحلے کی شروعات ہو سکتی ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔
یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ علی امین گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کی صوبائی حکومت نے اگرچہ ابتدا میں پارٹی نظم و ضبط کو بحال رکھنے کی کوشش کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اختلافات کی خبریں بڑھتی گئیں۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی کے باعث پارٹی کے اندر قیادت کا خلا پیدا ہوا، اور صوبائی سطح پر گنڈا پور کا اثر غیر معمولی ہو گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
اس صورتحال پر دو آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ چونکہ گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان کی رخصتی پارٹی کے اندرونی کنٹرول کو مضبوط کرے گی اور عمران خان کے لیے سیاسی خطرات کم ہوں گے۔ دوسری جانب بعض کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ وقتی طور پر پارٹی کو کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ سہیل آفریدی کی تقرری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کرے گی۔
تاہم، اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو ماضی یہ بتاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت وقتی طور پر سیاسی جماعتوں کو دبانے میں کامیاب تو ہو جاتی ہے، مگر انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنی سیاسی موت مر چکی ہے۔ مگر عوامی وابستگی اور نظریاتی جڑوں نے اس جماعت کو دوبارہ زندہ کیا۔ نہ صرف اس نے اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر حکومت بنائی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کئی بار اقتدار تک پہنچی۔
اسی طرح 1999 میں مسلم لیگ (ن) پر بھی وہی آزمائش آئی۔ جنرل مشرف کے مارشل لا کے بعد پارٹی کے بیشتر رہنما مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو گئے اور نواز شریف کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا گیا۔ اس وقت بھی عام تاثر یہی تھا کہ نون لیگ ختم ہو چکی ہے۔ مگر 2007 میں واپسی کے بعد نون لیگ نے اپنی تنظیم نو کی، عوامی حمایت حاصل کی اور 2013 میں واضح اکثریت سے حکومت قائم کر کے ثابت کر دیا کہ عوامی جماعتیں وقتی دباؤ سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ مزید سخت جان ہو جاتی ہیں۔
اگر انہی تجربات کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ حالات کو بھی اسی تاریخی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ عمران خان اور پارٹی قیادت کو مقدمات، گرفتاریوں اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ پارٹی کے دفاتر بند ہیں، کارکن زیر عتاب ہیں، مگر سوشل میڈیا اور عوامی رابطوں نے اس بیانیے کو زندہ رکھا ہے۔ ماضی کے برعکس، آج کے دور میں میڈیا اور عوامی شعور کی سطح بہت بلند ہے، جس کے باعث دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی کے بیانیے کو ختم نہیں کیا جا سکا۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حیثیت کسی عام سیاسی جماعت کی نہیں، بلکہ ایک عوامی تحریک کی سی ہے۔ جس طرح سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں نون لیگ اپنی تاریخی جڑوں کے باعث مضبوط ہیں، اسی طرح خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ یہاں کے عوام عمران خان کو محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک مزاحمتی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے ووٹ دینے کی بنیاد نظریے سے زیادہ جذبے، ضد اور احساس وابستگی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے 2008 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام نے پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے تحت ووٹ دیا تھا۔
ان زمینی حقائق کے پیش نظر گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو لانے سے اس کے سیاسی اثرات دور رس ہوں گے۔ بظاہر یہ فیصلہ عمران خان کے لیے ذاتی طور پر مزید مشکلات لا سکتا ہے، مگر پارٹی کی سطح پر یہ ایک نئی توانائی پیدا کرے گا۔ عوامی سطح پر گنڈاپور کے خلاف ایک واضح ناراضی موجود ہے کیونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی رخصتی نہ صرف عوامی تاثر کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ پارٹی کے اندر نئی قیادت کو ابھرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔
یہ قدم تحریک انصاف کے لیے ایک ازسرنو جنم کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جماعت اگر اپنی عوامی جڑوں سے ربط قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سیاسی منظرنامے پر نئی توانائی کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سیاست کے اس ازلی اصول کی یاد دہانی ہے کہ یہاں افراد کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر عوامی جذبے کو کبھی فنا نہیں کیا جا سکتا۔ یوں گنڈاپور کی رخصتی محض ایک شخصی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی دور کے آغاز کی علامت بن سکتی ہے۔ اس سے عمران خان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں مگر تحریک انصاف اپنی عوامی بنیادوں کے سہارے دوبارہ منظم ہو کر میدان سیاست میں لوٹ سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست کی یہی انفرادیت ہے کہ یہاں افراد مٹ جاتے ہیں مگر بیانیے زندہ رہتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں مگر عوامی وابستگی برقرار رہتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ کو بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ طاقت کے زور پر عوامی رائے کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن سیاسی جڑوں کو کاٹنا ممکن نہیں، اس لیے ملک کی سالمیت اور جمہوری تسلسل کا تقاضا یہی ہے کہ عوامی مینڈیٹ اور سیاسی جماعتوں کے داخلی فیصلوں کا احترام کیا جائے۔
