The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 11 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کالاش ویلی کے چلغوزوں کو ٹھیکہ داروں کے زریعے اتارکرسرکاری قبضہ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ نظرثانی کی جائے۔ کالاش عمائدین کا پریس کانفرنس 

Chitral Times

کالاش ویلی کے چلغوزوں کو ٹھیکہ داروں کے زریعے اتارکرسرکاری قبضہ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ نظرثانی کی جائے۔ کالاش عمائدین کا پریس کانفرنس 

کالاش ویلی کے چلغوزوں کو ٹھیکہ داروں کے زریعے اتارکرسرکاری قبضہ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ نظرثانی کی جائے۔ کالاش عمائدین کا پریس کانفرنس 

کالاش ویلی کے چلغوزوں کو ٹھیکہ داروں کے زریعے اتارکرسرکاری قبضہ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ نظرثانی کی جائے۔ کالاش عمائدین کا پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) کالاش ویلیز بمبوریت، رمبور اور بریر کے عوام نے محکمہ جنگلات کی طرف سے آنے والی سیزن میں جلغوزوں کو ٹھیکہ داروں کے ذریعے اتارکر سرکاری قبضہ میں لینے اور عوام کو بے دخل کرنے کی حکومتی فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اس ظلم کے خلاف تینوں وادیوں کے باشندے میدان میں اتریں گے اور اسے کسی بھی طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ گزشتہ کئی صدیوں سے جلغوزہ ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثراوت شاہ، نورشالی، مارشل لاء خان، کونسلر رحمت علی اور دوسروں نے کہاکہ محکمہ جنگلات کی طرف سے کالاش ویلیز کے جنگل میں جلغوزوں کو اتارنے کے لئے ٹینڈر نوٹس کی اخبارات میں اشاعت کے بعدوادی میں مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ یہ سرکار کی طرف سے ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے جبکہ وادیوں کے عوام ان جنگلوں کے ہر لحاظ سے محافظ ہیں اور ان پر استفادہ کا حق بھی انہیں حاصل ہے۔

انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیاکہ چترال میں کالاش ویلیز کے علاوہ دوسری ویلیز شیشی کوہ، دمیڑ، دروش، گہریت گول اور چترال گول میں بھی جلغوزے کا جنگل پایا جاتا ہے لیکن وہاں پہلے کی طرح مقامی لوگوں کو براہ راست استفادہ دے دیا گیا ہے اور یہ نیا قانون صرف کالاش ویلیز پر لاگوکیا جارہا ہے جس میں عوام کو اس آمدنی سے 60فیصد حق دئیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کالاش ویلیز کے عمائیدین نے کہاکہ انہیں حکومت کے کسی وعدے پر اعتبار نہیں ہے کیونکہ 2011ء میں بریرکے جنگل کی مارکنگ کی گئی تھی لیکن اس کی 60فیصد رائلٹی 2025ء میں بھی عوام کو ادا نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے ٹینڈر نگ کے عمل کو رکوانے کے لئے ڈی سی لویر چترال کے اپیل کی ہے کہ وہ کالاش ویلیز کے عوام کی آواز کو حکام بالاتک پہنچادیں اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ظلم اور ناانصافی کا سخت نوٹس لے کر انہیں آمدن کے سب سے بڑے ذریعہ سے محروم نہ ہونے دیں بصورت دیگر تینوں وادیوں میں 80فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جائیں گے۔ عمائیدین نے جلغوزے کے مسئلے کو کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہاکہ اس سب میں اس ادارے کی سازش انہیں نظرآتی ہے جوکہ ان وادیوں میں نئے نئے ٹیکس لگارہی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ کے وی ڈی اے انہیں اس وقت قبول ہوگا جب تمام ٹیکس اور جرمانے ختم کئے جائیں۔

chitraltimes kalash valley elites press confrence against chalghoza tender