بونی بوزند تورکھو روڈ منصوبے پر غیر تسلی بخش پیش رفت، وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کا 22 ستمبر کو اجلاس طلب
.
منصوبہ فنڈز کی دستیابی کے باوجود مکمل نہ ہوسکا، تعمیراتی معیار خصوصاً اسفالٹ بچھانے پر بھی تحفظات، محکمہ مواصلات و تعمیرات سے وضاحت طلب
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ’’بونی بوزند تورکھو روڈ، ضلع اپر چترال کی توسیع اور بلیک ٹاپنگ‘‘ کے منصوبے کی سست رفتار اور تعمیراتی معیار پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 22 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی جانب سے 14 ستمبر 2026 کو جاری مراسلے کے مطابق کمیشن کے چیئرمین نے جون 2025 میں ضلع چترال کا دورہ کرکے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیرِ عمل منصوبوں کا معائنہ کیا تھا۔ اس دوران مقامی لوگوں کی جانب سے منصوبوں کی رفتار اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے سنجیدہ شکایات سامنے آئی تھیں، جبکہ بونی میں مقامی افراد اور عملدرآمدی حکام کے درمیان تلخ کلامی کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مقامی آبادی کی جانب سے منصوبے کی سست رفتار اور ناقص تعمیراتی معیار کے حوالے سے بارہا شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی اور صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا، جس کے باعث لاگت اور تکمیل کے وقت میں نمایاں اضافہ ہوا اور منصوبے کے پی سی میں متعدد مرتبہ نظرثانی کی ضرورت پیش آئی۔
وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کے مطابق منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے علاوہ اسفالٹ بچھانے کے معیار پر بھی سنجیدہ تحفظات سامنے آئے ہیں اور یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر سنجیدگی سے زیرِ غور ہے، جبکہ منصوبے سے متعلق معاملہ پشاور ہائی کورٹ کے نوٹس میں بھی آچکا ہے۔
مراسلے کے مطابق 22 ستمبر 2026 کو صبح 11 بج کر 30 منٹ پر وزیراعظم انسپیکشن کمیشن، وزیراعظم آفس اسلام آباد میں اجلاس ہوگا، جس میں خیبرپختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام کو ذاتی طور پر شرکت کرکے کمیشن کو منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں بالخصوص دو اہم امور پر وضاحت طلب کی گئی ہے، جن میں وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز اور صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی مالی معاونت فراہم کیے جانے کے باوجود منصوبے کی عدم تکمیل اور تعمیراتی کام بالخصوص اسفالٹ بچھانے کے معیار اور مقررہ تکنیکی معیار پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات شامل ہیں۔
مراسلے کی ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو اجلاس میں زوم کے ذریعے شرکت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات، وفاقی سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی و ترقی، چیف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو ارسال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین نے وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی جانب سے اجلاس طلب کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بونی، بوزند، تورکھو روڈ کا منصوبہ سابق ایم این اے مرحوم شہزادہ محی الدین نے 2009 میں شروع کروایا تھا۔ ان کے مطابق ان کی رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نومبر 2014 میں منصوبے کا پی سی ون نظرثانی کروا کر لاگت 1.10 ارب روپے مقرر کروائی گئی، جبکہ 13 جون 2025 کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی چوہدری احسن اقبال سے رابطوں کے نتیجے میں منصوبے کی تیسری نظرثانی شدہ لاگت 1.92 ارب روپے منظور ہوئی۔
شہزادہ افتخارالدین نے کہا کہ منصوبے کی عملدرآمدی ایجنسی اور متعلقہ حکام کے درمیان مطلوبہ رابطہ کاری نہ ہونے کے باعث منصوبہ مسائل کا شکار ہوا اور اس کی رفتار بہتر نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ تورکھو کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے منصوبے کی سست رفتاری کے خلاف احتجاج کرتے آرہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم انسپیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اجلاس کے ساتھ ساتھ تورکھو کا زمینی معائنہ بھی کیا جائے تاکہ منصوبے کی اصل صورتحال، تعمیراتی معیار اور پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ کمیشن کی ٹیم کو تورکھو کے دورے سے نہیں روکا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال اس حوالے سے مکمل تعاون کرے گی۔
شہزادہ افتخارالدین نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور مبینہ بے ضابطگیوں کی وجوہات کا تعین کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ تورکھو جیسے دورافتادہ علاقے کے لیے اہم سڑک کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔
