پشاور بورڈ کے زیراہتمام بارہویں جماعت کے سالانہ امتحان کے نتائج کا اعلان، مجموعی طور پر 62 ہزار 322 طلباء و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 44 ہزار 902 کامیاب قرار پائے۔ جبکہ 16 ہزار 837 طلباء و طالبات امتحان میں ناکام ہوئے
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاورنے بارہویں جماعت (انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو) کے سالانہ امتحانات 2025 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر بورڈ کے دفتر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی تھے۔
اسپیشل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن عبدالباسط، اسپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شریف حسین، چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ خدا بخش، کنٹرولر امتحانات انعام اللہ شاہ اور سیکرٹری بورڈ مہدی جان سمیت اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔
امتحانات میں مجموعی طور پر 62 ہزار 322 طلباء و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 44 ہزار 902 کامیاب قرار پائے۔ کامیابی کا تناسب 72 فیصد رہا جبکہ 16 ہزار 837 طلباء و طالبات امتحان میں ناکام ہوئے۔
پوزیشن ہولڈرز (پری میڈیکل گروپ)
پری میڈیکل گروپ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں علیشہ عروج (نجی کالج) نے 1145 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ محمد حسن مغل (نجی کالج) نے 1139 نمبر لے کر دوسری اور مروا قیصر (جناح کالج) نے 1138 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
پری انجینئرنگ گروپ
پری انجینئرنگ گروپ میں جناح کالج کی طوبیٰ رؤوف نے 1117 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی کالج کی عاتکہ لیلیٰ نے 1112 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ اسلامیہ کالج کے محمد حارث خان نے بھی 1112 نمبر کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ تیسری پوزیشن ایمن طارق (جناح کالج) کے حصے میں آئی جنہوں نے 1111 نمبر حاصل کیے۔
کمپیوٹر سائنس گروپ
کمپیوٹر سائنس گروپ میں پہلی تینوں پوزیشنز طالبات نے حاصل کیں۔ سمیہ جہانزیب (نجی کالج) نے 1132 نمبر کے ساتھ پہلی، عفت قاضی نے 1100 نمبر کے ساتھ دوسری اور اریشہ عاصف نے 1099 نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
آرٹس گروپ
آرٹس گروپ میں نمایاں کامیاب طلباء میں اکرام اللہ (نجی کالج) نے 1070 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ محمد ہشام (نجی کالج) نے 1069 نمبر کے ساتھ دوسری جبکہ حافظہ کائنات (نجی کالج) نے 1066 نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اس موقع پر مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کو شفاف اور میرٹ پر منعقد کرنے پر وہ پشاور بورڈ، اساتذہ، والدین اور طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں نے بھی امتحانات کے کامیاب انعقاد میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انھوں نے کہاکہ صوبائی حکومت آئندہ بھی امتحانات کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے جدید اقدامات جاری رکھے گی۔ امسال پورے صوبے اور ضم اضلاع میں امتحانی ہالز تعمیر کیے جائیں گے، اسکولوں کو فرنیچر، وائٹ بورڈز اور سولرائزیشن کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے مذید کہاکہ تعلیم اور صحت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور تعلیم کا بجٹ بڑھا کر 364 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ صوبہ ہر سال 10 لاکھ سے زیادہ آؤٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں داخل کر رہا ہے اور آئندہ سال 50 فیصد بچوں کو سکول لانے کا ہدف رکھا گیا ہے جس کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔ پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیر تعلیم نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات کو انعامات اور کیش پرائز سے نوازا۔



