فرقہ واریت سے بالاتر، قوم سازی کا خاموش مگر مؤثر سفر، شیعہ امامی اسماعیلی مسلم کمیونٹی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک – اقبال عیسیٰ خان
اگر پاکستان کی قومی ترقی کی داستان دیانت داری اور فکری بصیرت کے ساتھ تحریر کی جائے تو اس میں چند ایسی برادریاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں جنہوں نے شور و تشہیر کے بغیر، تسلسل، نظم و ضبط اور واضح وژن کے ساتھ ریاست اور معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ شیعہ امامی اسماعیلی مسلم کمیونٹی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک انہی نمایاں کرداروں میں شامل ہیں، جن کی خدمات محض فلاحی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل، پائیدار اور قابلِ تقلید ترقیاتی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک دنیا بھر میں کم مراعات یافتہ اور نظر انداز شدہ طبقات کی خدمت کر رہا ہے، تاہم پاکستان وہ ملک ہے جہاں یہ نیٹ ورک سب سے زیادہ ہمہ جہت، گہرے اور طویل المدتی اثرات کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ تعلیم، صحت، دیہی ترقی، مالیات اور ثقافت جیسے اہم شعبوں میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی موجودگی پاکستان کے ان علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے جہاں ریاستی وسائل اکثر محدود دکھائی دیتے ہیں۔
اسماعیلی فکر میں انسان کی عزت، علم، خود انحصاری اور خدمتِ خلق بنیادی اقدار سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اسماعیلی کمیونٹی نے اس سرزمین کو اپنا مستقل وطن تسلیم کرتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری، ادارہ سازی اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دی۔ یہ فیصلہ وقتی نہیں بلکہ نسلوں پر محیط ایک قومی وابستگی کا اظہار تھا۔
تعلیم کے میدان میں آغا خان یونیورسٹی آج ایک قومی اور علاقائی اثاثہ بن چکی ہے۔ کراچی میں قائم یہ ادارہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں طبی تعلیم اور تحقیق کا معیار بلند کر چکا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں سالانہ دس لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جن میں اکثریت غیر اسماعیلی، متوسط اور کم آمدن طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی ادارے کے نرسنگ اور ایجوکیشن پروگرامز نے ہزاروں پاکستانی خواتین اور نوجوانوں کو باعزت روزگار اور سماجی خودمختاری عطا کی۔
اسی طرح آغا خان ایجوکیشن سروسز کے تحت پاکستان بھر میں دو سو سے زائد اسکول اور تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں دیہی اور شہری علاقوں کے اسی ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان اور شمالی پاکستان میں شرحِ خواندگی میں نمایاں بہتری، بالخصوص خواتین کی تعلیم میں اضافہ، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے تعلیمی منصوبوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ 1970 کی دہائی میں جہاں خواتین کی خواندگی دس فیصد سے بھی کم تھی، آج بعض اضلاع میں یہ شرح پچھتر فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
صحت کے شعبے میں آغا خان ہیلتھ سروسز پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ایک سو پچاس سے زائد بنیادی صحت مراکز اور ہسپتال چلا رہی ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال اور سندھ کے دیہی اضلاع میں زچہ و بچہ کی اموات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، بعض علاقوں میں یہ کمی پچاس فیصد تک دیکھی گئی۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی محفوظ اور باوقار زندگیاں ہیں۔
دیہی ترقی کے حوالے سے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام ایک ایسا ماڈل ثابت ہوا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ شمالی پاکستان میں چار ہزار سے زائد دیہات میں کمیونٹی آرگنائزیشنز کا قیام، چھوٹے ڈیمز، آبپاشی کے نظام، سڑکیں اور پل اسی وژن کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بیس لاکھ سے زائد افراد کی آمدن اور معیارِ زندگی میں بہتری آئی۔ یہی ماڈل بعد ازاں حکومتِ پاکستان کے نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کی بنیاد بنا۔
معاشی شعبے میں آغا خان فنڈ برائے اقتصادی ترقی نے بینکاری، انشورنس، توانائی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ حبیب بینک اور دیگر مالیاتی اداروں میں شراکت داری نے نہ صرف قومی معیشت کو سہارا دیا بلکہ صنعتی ترقی اور ٹیکس نیٹ کو بھی وسعت دی۔
اسماعیلی امامی مسلم کمیونٹی کا ایک اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو اس کا مضبوط سماجی نظم و ضبط اور رضاکارانہ خدمت کا کلچر ہے۔ تعلیم، صحت اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں رضاکارانہ خدمات اس کمیونٹی کی شناخت بن چکی ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب یا زلزلے ہوں، اسماعیلی رضاکار ہمیشہ ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ نظر آتے ہیں۔
یہ تمام خدمات اس امر کی واضح شہادت ہیں کہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے پاکستان میں فرقہ وارانہ شناخت سے بالاتر ہو کر انسانی ترقی کو مرکز بنایا۔ ان کا ماڈل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی ترقی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، تسلسل، شفافیت اور انسان پر سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے۔
آج جب پاکستان گورننس، تعلیم، صحت اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے، اسماعیلی کمیونٹی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کا تجربہ ہمارے لیے ایک عملی اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ اس وژن سے سیکھ لے تو پاکستان نہ صرف اپنے مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک متوازن، باوقار اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہی اسماعیلی فکر کا اصل پیغام ہے اور یہی پاکستان کی حقیقی ضرورت بھی ہے۔

