The Voice of Chitral since 2004
Monday, 21 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بٹگرام نام کی کہانی – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

بٹگرام نام کی کہانی – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

بٹگرام نام کی کہانی – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

بٹگرام نام کی کہانی – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

ہزارہ کے تاریخی خطے میں بسا بٹگرام اپنے نام ہی میں ایک پوری داستان چھپائے ہوئے ہے۔ بٹگرام، بٹ گرام، بٹ گراں، بڈ گراں، بٹہ گراں، بٹہ گرام، بھٹ گرام اور بھٹا گرام؛ مختلف زمانوں میں اس مقام کے نام کی یہ صورتیں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس شہر کا اصل نام کیا تھا اور ’’بٹگرام‘‘ کیسے وجود میں آیا؟ اِس سوال کا جواب مقامی روایات، ہندکو زبان اور تاریخی حوالوں کو یکجا کیے بغیر ممکن نہیں۔

بٹگرام نام کی سب سے نمایاں وجۂ تسمیہ ’’بڈا گراں‘‘ بیان کی جاتی ہے۔ پیام شاہجہانپوری نے اپنی کتاب ’’حیات اسماعیل شہید‘‘ میں لکھا ہے کہ اردگرد کے مواضعات میں یہ بڑا گاؤں تھا، اس لیے ’’بڈ گراں‘‘ کہلاتا تھا۔ ان کے مطابق ہندکو میں ’’بڈا‘‘ کے معنی بڑا اور ’’گراں‘‘ کے معنی گاؤں ہیں۔ یوں ’’بڈ گراں‘‘ کا مطلب ’’بڑا گاؤں‘‘ بنتا ہے، جو وقت کے ساتھ تلفظ کے تغیر سے بٹگرام میں بدل گیا۔

یہ توجیہ اِس لیے بھی اہم ہے کہ ہزارہ کی ہندکو بولنے والی قدیم آبادی میں ’’گراں‘‘ گاؤں اور بستی کے مفہوم میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ کسی بڑے یا مرکزی گاؤں کو اُس کی جسامت یا اہمیت کے باعث الگ نام دینا مقامی نام گذاری کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ چنانچہ ’’بڈ گراں‘‘ یعنی ’’بڑا گاؤں‘‘ بٹگرام کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں ایک قابلِ توجہ روایت ہے، اگرچہ اسے حتمی ثابت کرنے کیلئے مزید قدیم دستاویزی شہادت درکار ہے۔

ایک دُوسری مقامی توجیہ ’’بٹہ گراں‘‘ کی ہے۔ اس کے مطابق ہندکو میں ’’بٹہ‘‘ پتھر یا چٹان کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ’’گراں‘‘ گاؤں کیلئے بولا جاتا ہے۔ اس صورت میں ’’بٹہ گراں‘‘ کا مفہوم ’’پتھروں کا گاؤں‘‘ یا ’’پتھریلی بستی‘‘ بنتا ہے۔ یہی نام بعد ازاں ’’بٹہ گرام‘‘ اور پھر ’’بٹگرام‘‘ کہلایا۔ بٹگرام کے پہاڑی جغرافیے کو دیکھا جائے تو یہ توجیہ بھی معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔

بٹگرام کے نام کو ’’بھٹ‘‘ کیساتھ قدیم لفظ ’’گرام‘‘ سے ملانے کی ایک لسانی رائے بھی موجود ہے۔ بعض روایات کے مطابق ’’بھٹ گرام‘‘ سے مراد بھٹ برہمنوں کا گاؤں ہو سکتی ہے، کیونکہ ’’گرام‘‘ سنسکرت میں گاؤں یا بستی کے معنی رکھتا ہے۔ اس رائے کی تائید میں یہ بات بھی اہم ہے کہ تاریخی حوالوں میں ’’بھٹا گرام‘‘ اور ’’بھٹگرام‘‘ جیسی صورتیں ملتی ہیں، جو اِس نام کی قدیم لسانی شکلوں کے امکان کو تقویت دیتی ہیں۔

اُنیسویں صدی کے ریکارڈ میں ’’بھٹا گرام‘‘ کی صورت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ برطانوی دور کی ایک تاریخی کتاب میں ’’امیر خان آف بھٹا گرام‘‘ کا ذکر ملتا ہے، جبکہ مہر غلام رسول نے اپنی کتاب ’’سید احمد شہید‘‘ میں اس مقام کا نام ’’بھٹگرام‘‘ لکھا ہے۔ یہ حوالے بتاتے ہیں کہ موجودہ بٹگرام کا نام اس دور میں بھی مختلف صورتوں میں معروف تھا۔ تاہم اسے بھٹ برہمنوں کی بستی قرار دینے کیلئے مزید قدیم اور واضح دستاویزی ثبوت ضروری ہیں۔

بٹگرام کی تاریخ میں یہاں کی قدیم ہندو آبادی کا ذکر بھی اہم ہے۔ مقامی روایت کے مطابق بٹگرام شہر اور اسکے متعدد مواضعات کی آبادی میں ہندو خاندانوں کا بھی نمایاں کردار تھا۔ پورے ہزارہ کے بارے میں بھی یہی روایت ملتی ہے کہ بہت سے شہر، قصبے اور گاؤں صدیوں سے ہندو خاندانوں کے مراکز رہے۔ آبادیوں کے نام، قدیم آثار اور مقامی روایات اس خطے کے اسی متنوع ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے پہلے بٹگرام میں ہندو خاندان تجارت اور دُوسرے کاروبار سے وابستہ تھے۔ تقسیم کے بعد بعض خاندان بھارت منتقل ہوگئے، جبکہ کچھ نے اپنے آبائی علاقے کو چھوڑنے کے بجائے یہیں رہنے کو ترجیح دی۔ مقامی روایت کے مطابق آج بھی چند ہندو خاندان بٹگرام میں آباد ہیں۔ ان کی سماجی زندگی میں ہندی اور ہندکو دونوں کا تعلق رہا، جبکہ ہندکو علاقے کی اہم مقامی زبان تھی۔ یوں یہ برادری شہر کی سماجی اور تجارتی تاریخ کا بھی حصہ رہی ہے۔

بٹگرام کی قدامت کا اندازہ یہاں اور گردونواح میں ملنے والے آثارِ قدیمہ سے بھی ہوتا ہے۔ تحقیق سے اس خطے میں بدھ مت اور ہندو شاہی ادوار سے متعلق آثار کی نشاندہی ہوئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انسانی آبادکاری اور تہذیبی سرگرمیاں اسلام سے بہت پہلے موجود تھیں۔ بعد کے ادوار میں مختلف سیاسی قوتیں یہاں آئیں، مگر مقامی آبادی، زبان اور بستیوں کی شناخت نے اپنا تسلسل برقرار رکھا۔ یہی تسلسل بٹگرام کو ایک قدیم تہذیبی خطہ بناتا ہے۔

آخر بٹگرام نام کی اصل کیا ہے؟ دستیاب روایات میں ’’بڈ گراں‘‘ یعنی بڑا گاؤں، ’’بٹہ گراں‘‘ یعنی پتھروں کی بستی اور ’’بھٹ گرام‘‘ یعنی بھٹ برہمنوں کا گاؤں، تینوں توجیہات سامنے آتی ہیں۔ ’’بھٹا گرام‘‘ اور ’’بھٹگرام‘‘ جیسی تاریخی صورتیں بھی نام کے قدیم رواج کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان میں سے کون سی توجیہ درست ہے، اسکا حتمی فیصلہ مزید قدیم دستاویزی شواہد ہی سے ممکن ہے۔ تاہم یہ مختلف نام بٹگرام کی قدامت اور تہذیبی تنوع کی دلچسپ جھلک ضرور پیش کرتے ہیں۔