لوئر چترال میں نئے رکشوں کے داخلے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد، حکم نامہ جاری
۔
لوئر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) ضلعی انتظامیہ لوئیر چترال نے ٹریفک مسائل اور عوامی شکایات کے پیش نظر ضلع لوئر چترال میں نئے رکشوں (تھری ویلر)کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئر چترال کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ رکشوں (تھری وہیلرز) کی غیر منظم نقل و حرکت کے باعث ٹریفک کا شدید دباؤ پیدا ہو رہا تھا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی۔
حکم نامے کے مطابق رکشوں کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک جام معمول بن چکا تھا بلکہ ایمرجنسی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی، جو کہ عوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ متعدد رکشے بغیر رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے چل رہے تھے، جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی عام تھی، جس سے حادثات کے امکانات بڑھ گئے تھے۔
انتظامیہ کے مطابق رکشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ماحولیاتی آلودگی، شور اور شہری نظم و ضبط میں خرابی بھی پیدا ہو رہی تھی، جس سے عوام کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
یہ فیصلہ 18 دسمبر 2025 کو ڈسٹرکٹ لائزن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ ضلع لوئر چترال کی حدود میں نئے رکشوں کے داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے دفعہ 144 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ضلع لوئر چترال میں ہر قسم کے رکشوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کا اطلاق فوریطور پر ہوگا اور یہ پابندی 60 دن تک نافذ العمل رہے گی۔
حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
یادرہے کہ چترال شہر میں چلنے والے رکشوں میں زیادہ ڈاون ڈسٹرکٹ کے لوگوں کے ہیں ، زرائع کے مطابق ڈاون ڈسٹرکٹ کے بڑے بڑے کاروباری حضرات دس ، دس رکشہ چترال پہنچاکر سڑکوں پر دوڑارہے ہیں۔ جو نہ صرف ٹریفک میں خلل ڈال رہے بلکہ لوکل بے روزگار نوجوانوں سے روزگار بھی چھین رہے ہیں۔
چترال کے مختلف مکاتب فکر نے ڈپٹی کمشنر لوئیرچترال کی طرف سے نئے رکشوں کی داخلے پر پابندی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر پابندی سے چترال میں ماحولیات کی تحفظ کے ساتھ ٹریفک رش میں بھی کمی آئیگی ۔
ان کا مذید کہنا ہے کہ چترال شہر میں سروس دینے والے رکشہ ڈرائیوروں کو بھی سرکاری نرخ نامے کے پابندبنایا جائے تاکہ لوگ ان کی من مانی سے بچ سکیں۔
