The Voice of Chitral since 2004
Monday, 21 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بچوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کا قدم  ۔ پروفیسر اسرار الدین

Chitral Times

بچوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کا قدم  ۔ پروفیسر اسرار الدین

بچوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کا قدم  ۔ پروفیسر اسرار الدین

بسم الله الرحمن الرحیم

بچوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کا قدم  ۔ پروفیسر اسرار الدین

حال ہی میں گورنمنٹ سینٹینل گورنمنٹ  ھائی سکول چترال

  • میں عید الحسین فاونڈیشن کے زیر اہتمام ایک تقریب ہوئی ۔ جسمیں فانڈیشن کے چیر مین الحاج عید الحسین صاحب کی طرف سے سکول کے قاعدہ کلاس سے دسویں کلاس تک  پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو کیش اور شیلڈ کی صورت میں انعام دیئے گئے ۔ موصوف نے یہ بھی اعلان کیا ۔ کہ یہ ایوارڈ وہ تاحیات ایسے قابل بچوں کی خدمت میں پیش کرتے رہنگے اور ان کی وفات کے بعد ان کے ورثا اس فاونڈ یشن کے زیر اہتمام ان انعامات کا سلسلہ جاری رکھیںگے ۔

عبد الحسين صاحب کا یہ قدم نہایت قابل

تعریف اور قابل تقلید  قدم ہے جسکی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ یہ ایک طرح علم کی حوصلہ  افزائی اور مستقبل کی تعمیر کی ایک مثال ہے .

میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی   بھی بچے  کی حوصلہ افزائی محض ایک انعام نہیں ہوتی ۔ یہ اس کی محنت کا اعتراف، اس کے خوابوں کی پذیرائی اور اس کے مستقبل کے امید کی ایک کرن ہوتی ہے ۔ عید الحسین صاحب کا یہ قابل تحسین کام یقیناً بچوں میں تعلیم کا شوق ، محنت کا جذبہ اور آگے بڑھنے کی امنگ پیدا کرنے کے لئے اھم کردار ادا کرے گا۔ کیا ہی اچھا ہو ۔ کہ ہمارے علاقے کے با ثروت اصحاب اپنے اپنے علاقوں کے سکولوں کے بچوں کی اس طرح حوصلہ افزائی کریں ۔ تو کتنا بڑا کار نمایان انجام  پاسکتا ہے ۔ چترال میں گذشتہ دو عشروں سے

روز نام سے ایک اداره با صلاحیت طالبات وطلبا کے کالجوں اور یونیور سٹہوں میں داخلوں کے لئے کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس کی کوششوں سے تا حال بے شمار با صلاحیت بچے بچیاں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو ہے ہیں۔ لیکن یہ افسوس کا مقام ہے  کہ اس کار خیر میں ہمارے اپنے ہی علاقے کے لوگوں کا حصہ بہت ہی کم ہے۔ حالانکہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں ۔ که با صلاحیت بچوں اور بچیوں کی سپورٹ نیز تعلیم کے ابتدائی ایام میں بچوں بچیوں کی انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کس قدر دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات آتے ہیں ۔ جہاں کسی استاذ کا ایک حوصلہ افزا جملہ کسی مربی کی  توجہ توجہ یا یا کسی چھوٹے سے چھوٹے سے انعام نے ایک بچے کے اندر چھپی ہوئی

صلاحیت کو بیدار کر دیا ۔ بعض اوقات ایک کتاب کسی طالب العلم کی زندگی کو بدل دیتی ہے ایک استاد کا اعتماد اسے بڑے  خواب دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور کبھی ایک معمولی سا اعزاز اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ ” ” میں بھی کچھ بن سکتا ہوں ۔ اسی طرح اس قسم کے ایوارڈز کو بھی صرف نقد رقم یا ایک شیلڈ کے طور پر نہیں دیکھا جائے ۔ یہ   در اصل بچوں سے یہ کہنے کا ایک خوبصورت اندازہ ہے کے

تمہاری محنت دیکھی جارہی ہے۔ تمہاری  صلاحیت کی قدر کی جا رہی ہے۔ اور تمہارا مستقبل ہمارے لئے اہم ہے “۔ ممکن ہے ۔ آج جس ب

چے کو ایک   ایک شید مل رہی ہے . وہ

بهترین استاد بن کر سینکڑوں بچوں کو تعلیم دے ۔ کوئی ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرے ، کوئی انجنیر یا سائنسدان  بن کر ملک وقوم کی خدمت کرے۔ اور کوئی ادیب شاعر  یا محقق بن کر معاشرے کی فکرمی راہنمائی کرے . اسلئے ایسے اقدامات کی اصل قدر انعام کی نوعیت میں نہیں ۔ بلکہ اس امید میں ہے ۔ جو یہ بچوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں ۔ –

ہمارے معاشرے میں صاحب استطاعت افراد اگر اسی طرح تعلیم، کتاب ، ہنر اور ذھانت کی سرپرستی کر یں ۔ کو اس کے اثرات ایک نسل سے

دوسری نسل تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ ایک بچے کی حوصلہ افزائی سے ایک خاندان کا ماحول بدل سکتا ہے ۔ ایک سکول میں علمی مسابقت پیدا ہو سکتی ہے۔ اور ایک پوری نسل میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے

اللہ تعالٰی عید الحسن کاب کے اس جذبہ خدمت کو قبول فرمائے ۔ ان کے مال و جان میں برکت عطا فرمائے، اور ان کی یہ کاوش ایسے بچوں کے روشن مستقبل بنائے جو آگے چل کر خود معاشرے کے لیے روشنی کا سبب بنیں ۔ (آمین) کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف بڑی عمار توں سے نہیں بنتا۔ وہ ان بچون بچیوں سے بنتا ہے۔ جن کے ہاتھ میں آج

کتاب دل میں خواب اور قدموں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ہو۔

اور کبھی کبھی اس حوصلے کو جگانے کے لئے صرف ایک شیلڈ ، ایک انعام اور چند محبت بھرے الفاظ کافی ہوتے ہیں۔

chitraltimes gcmhs chitral eid foundation program 4

chitraltimes gcmhs program eidu