تاریخ کے آئینے میں بابڑا کا نوحہ: ریاست، عوام اور مکالمے کی ناگزیر ضرورت – قادر خان یوسف زئی
.
تاریخ کی گرد جب جمہوریت کے چہرے پر جمتی ہے تو ماضی کے کچھ اوراق ایسے خونچکاں رنگ میں ابھرتے ہیں جنہیں وقت کی کوئی بارش اور حالات کی کوئی بھی تبدیلی دھو نہیں سکتی۔ ہم اکثر حال کے الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی گرہیں ماضی کے کسی تاریک کونے میں لگی ہوئی ہیں۔ بارہ اگست 1948ء کی وہ گرم، حبس زدہ اور بوجھل صبح بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ماتھے پر ایک ایسا ہی انمٹ نشان ہے، جس کی کسک سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کا ضلع چارسدہ اور اس کا بابڑا میدان محض جغرافیے کا ایک معمولی ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ یہ نوخیز ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین تعلق کی اس پہلی اور المناک دراڑ کا گواہ ہے جس نے آنے والے کئی ادوار کا سیاسی رویہ طے کر دیا۔ جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران یا منتظمین، حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر یا طاقت کے زعم میں، اپنے ہی پرامن شہریوں پر سختی کے دروازے کھولتے ہیں، تو صرف انسان ہی پیوندِ خاک نہیں ہوتے، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان قائم اعتماد کا وہ نازک اور بنیادی معاہدہ بھی دم توڑنے لگتا ہے جو کسی بھی قوم کی اصل اور پائیدار طاقت ہوتا ہے۔
سانحہِ بابڑا کو محض 1948ء کا ایک حادثاتی یا اتفاقی واقعہ سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ درحقیقت یہ اس مخصوص طرزِ فکر اور انتظامی رویے کا نقطہِ آغاز تھا جس کے تحت سیاسی مخالفت، آئینی حقوق کے مطالبات اور عوام کے پسندیدہ سیاسی دھارے کو قومی سلامتی کے تناظر میں جانچنے کی ریت پڑی۔ آج جب ہم اپنے سیاسی منظرنامے پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ دور بدل گئے، چہرے تبدیل ہو گئے اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے، مگر اختلافِ رائے کو سن کر حل کرنے کے بجائے انتظامی طاقت سے دبانے کا فلسفہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں ہمارے ریاستی ڈھانچے میں موجود ہے۔ یہ تجزیہ کسی ادارے کی تضحیک یا ریاست کی مخالفت نہیں ہے، بلکہ ایک محبِ وطن شہری کی حیثیت سے اس کڑوی حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب تک ریاست اور عوام ایک صفحے پر نہیں ہوں گے، کوئی بھی بیرونی سازش یا اندرونی خلفشار ہمیں باآسانی کمزور کر سکتا ہے۔ قومی سلامتی کا حقیقی تصور بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور ان کے آئینی حقوق کے احترام سے جنم لیتا ہے۔
اس خونچکاں سانحے کی تہوں میں اترنے کے لیے اس دور کے سیاسی پس منظر کو غیر جانبدارانہ نگاہ سے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں عدمِ تشدد کے بانی خان عبد الغفار خان (باچا خان) کی زیرِ قیادت ‘خدائی خدمت گار’ تحریک ایک مضبوط اور حتمی عوامی طاقت کے طور پر موجود تھی۔ اس تحریک نے 1937ء اور 1946ء کے عمومی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے ڈاکٹر خان صاحب کی سربراہی میں جمہوری حکومت قائم کی تھی۔ تاہم، قیامِ پاکستان کے وقت پیدا ہونے والے مخصوص حالات، بنوں قرار داد اور 1947ء کے ریفرنڈم کے بائیکاٹ نے مرکزی اقتدار اور مقامی قیادت کے درمیان عدمِ اعتماد کی ایسی خندق کھود دی جو وقت کی گرد سے بھی نہ بھر سکی۔ پاکستان بننے کے محض چند دنوں بعد، 22 اگست 1947ء کو ڈاکٹر خان صاحب کی منتخب جمہوری حکومت کو اچانک برطرف کر دیا گیا اور مسلم لیگ کے رہنما عبد القیوم خان کشمیری کو صوبے کا نیا وزیرِ اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اس غیر جمہوری انتظامی تبدیلی نے سیاسی کھینچ تان کو انتہائی تیز کر دیا۔ نوزائیدہ ریاستی مشینری نے باچا خان اور ڈاکٹر خان صاحب سمیت تحریک کے کئی ممتاز رہنماؤں کو پابندِ سلاسل کر کے قید و بند کی صعوبتوں میں دھکیل دیا۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ جولائی 1948ء میں صوبائی گورنر سر ایمبروز فلکس ڈنڈاس نے ایک جابرانہ صدارتی آرڈیننس نافذ کیا، جس کے تحت صوبائی حکومت کو یہ غیر آئینی اختیار مل گیا کہ وہ کسی بھی شخص کو بغیر کوئی وجہ بتائے گرفتار کر سکتی ہے اور اس کی جائیداد ضبط کر سکتی ہے۔
اسی ظالمانہ قانون، ریاستی جبر اور اپنے محبوب رہنماؤں کی غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف 12 اگست 1948ء کو خدائی خدمت گاروں نے چارسدہ میں ایک عظیم الشان مگر مکمل طور پر پرامن احتجاج کا اہتمام کیا۔ ہزاروں غیر مسلح شہری، جن میں بوڑھے، جوان اور خواتین شامل تھیں، اپنے آئینی و بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے بابڑا کے میدان کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان مظاہرین کے پاس کوئی ایک ہتھیار یا لاٹھی تک نہ تھی، اور نہ ہی ان کا ارادہ کسی پرتشدد کارروائی کا تھا۔ جیسے ہی یہ پرامن قافلہ بابڑا کے میدان میں جمع ہوا، صوبائی وزیرِ اعلیٰ کے براہِ راست حکم پر پولیس نے مظاہرین پر چاروں طرف سے فائرنگ کھول دی۔ گولیوں کی سنسناہٹ میں معصوم شہریوں کی آہ و بکا اور چیخ و پکار سے فضا دہل گئی۔ روایات بتاتی ہیں کہ جب گولیوں کی بارش نہ تھمی تو پشتون خواتین نے مقدس قرآن پاک سروں پر رکھ کر فائرنگ روکنے کی التجا کی، مگر طاقت کے نشے میں اندھے حکمرانوں نے اس آسمانی صحیفے کی حرمت کا بھی وہ احترام نہ کیا جو ایک اسلامی ریاست میں ہونا چاہیے تھا۔ سرکاری ریکارڈ میں اس اندوہناک واقعے میں محض 15 افراد کی ہلاکت اور 40 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ آزاد تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اس دن سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا اور بے شمار افراد شدید زخمی ہوئے۔ اس سفاکانہ قتلِ عام نے بابڑا کو ہمیشہ کے لیے “پختونوں کی کربلا” بنا دیا۔
اگر 1948ء کے ان دردناک حالات کا تقابل موجودہ سیاسی اور سماجی صورتِ حال سے کیا جائے تو ایک گہرا اور الم ناک خاکہ ابھرتا ہے۔ 1948ء کا وہ صدارتی آرڈیننس ہو یا آج کے دور میں نفاذِ دفعہ 144، پیکا (PECA) جیسے قوانین کا سخت اطلاق، سوشل میڈیا پر قدغنیں، اور انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام کی معطلی؛ ان تمام انتظامی اقدامات میں ایک تاریخی تسلسل نظر آتا ہے۔ آج بھی جب خیبر پختونخوا، بلوچستان یا ملک کے کسی اور حصے میں پرامن عوامی تحریکیں ابھرتی ہیں، نوجوان اپنے بنیادی حقوق، روزگار اور سیکیورٹی کی بات کرتے ہیں، تو بسا اوقات ان کی آواز کو سمجھنے کے بجائے ریاستی مشینری کا وہی پرانا رویہ سامنے آ جاتا ہے۔ جب بھی کوئی طبقہ اپنے حقوق، آئین کی بالادستی یا سیاسی خودمختاری کی بات کرتا ہے تو اسے سنے بغیر فوراً ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ کا لیبل چپکا دیا جاتا ہے۔ 1948ء میں بابڑا کا میدان براہِ راست گولیوں سے سرخ ہوا تھا، جبکہ عصرِ حاضر میں انتظامی، پیچیدہ تکنیکی اور قانونی رکاوٹوں کے ذریعے آوازوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح مرکز اور صوبوں کے درمیان عدمِ اعتماد کی وہ فضا پیدا ہوتی ہے جو وفاق کو کمزور اور نوجوان نسل کو شدید بددلی کا شکار کر دیتی ہے۔
لیکن یہاں اس حقیقت کا پوری دیانتداری سے اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ ریاست کا اپنا ایک نقطہِ نظر اور سنگین مجبوریاں ہوتی ہیں۔ 1948ء میں جب پاکستان ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا، تو سرحدوں پر کشیدگی، الحاق کے تنازعات، مہاجرین کی بے پناہ آمد اور نوزائیدہ ملک کے وجود کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث حکومت کے نزدیک قومی سلامتی اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنا اولین اور ناگزیر ترجیح تھی۔ ریاست کے حامی بجا طور پر یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس وقت کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی یا نافرمانی کی تحریک ملک کی بقا کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی تھی، لہٰذا سخت انتظامی اقدامات کو ناگزیر سمجھا گیا۔ بالکل اسی طرح، آج کے سیکیورٹی اور انتظامی ماہرین کا یہ موقف پوری طرح قابلِ فہم اور وزن دار ہے کہ پاکستان اس وقت ففتھ جنریشن وارفیئر، ہائبرڈ جنگ اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے ایک پیچیدہ جال سے نبرد آزما ہے۔ ریاست کی عملداری کو قائم رکھنے، پرتشدد انتشار کو روکنے اور ملکی دفاع کے لیے سخت قوانین اور سیکیورٹی اقدامات بسا اوقات لازمی ہو جاتے ہیں۔ ریاست کا دفاع ہر شہری کا پہلا فریضہ ہے اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جن کا احترام ہم سب پر واجب ہے۔
مگر یہ منطق اور سلامتی کا یہ بیانیہ اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ پائیدار سلامتی اور مستحکم ریاستی ڈھانچہ کبھی بھی اپنے شہریوں کی آواز کو دبا کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ قومی سلامتی اور تحفظ کا زعم اس وقت نامکمل رہتا ہے جب ریاست کے اپنے شہری احساسِ محرومی کا شکار ہوں۔ اگر 1948ء میں خدائی خدمت گاروں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جاتی، ان کے سیاسی تحفظات کو سنا جاتا اور انہیں جمہوری دھارے میں شامل رکھا جاتا، تو تاریخ کا دھارا یقیناً مختلف اور زیادہ روشن ہوتا۔ بابڑا کی فائرنگ کے بعد حکومتِ وقت نے اخبارات کی زبان بندی کی اور سچائی کو چھپانے کی کوشش کی، مگر جولائی 1950ء میں ڈھاکہ کے ایک بہت بڑے عوامی اجتماع میں حسین شہید سہروردی نے اس بربریت کی کھلم کھلا مذمت کر کے ثابت کر دیا کہ مظلوم کا خون جغرافیائی سرحدوں اور ریاستی سنسرشپ کو عبور کر لیتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں تو خبروں اور عوامی جذبات کو روکنا ویسے بھی ناممکن ہو چکا ہے۔
بابڑا کا میدان آج بھی خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی میں ایک دہائیوں پر محیط چیخ اور ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستیں محض انتظامی سختیوں، فوجوں اور پولیس کی طاقت سے نہیں چلتیں، بلکہ وہ انصاف، برابری کی شہریت، آئین کے احترام اور اپنے شہریوں سے محبت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے اور طاقت کے زعم کی پالیسی کو ترک نہ کیا، تو تاریخ کے دہرائے جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ 76 سال پرانے اس زخمی بیانیے کو مرہم رکھا جائے، بندوق اور پابندیوں کے بجائے منطق، قانون اور آئین کی بالادستی کو زبردست مان کر تمام فریقین سے سچا مکالمہ کیا جائے۔ کیونکہ اس ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں، اور ایک مضبوط، جمہوری، اور عوام دوست پاکستان ہی تمام اندرونی و بیرونی سازشوں کا واحد اور حتمی توڑ ہے۔ ملک کی بقا کسی ایک مخصوص ایوان کی حاکمیت میں نہیں، بلکہ جمہوریت اور عوامی احترام کے اسی سنہرے اصول میں مضمر ہے جس کا خواب اس ملک کے بانیوں نے دیکھا تھا۔