ایران پر یہود و نصارٰی کے چل دوڑنے کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح وہاں پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس فوٹو میں نیتن یاہو کے ساتھ جو شخص نظر آرہا ہے یہ رضا پہلوی ہیں ۔ جن کو موجودہ حکومت کی جگہ اسرائیلی غنڈہ گردی کے ذریعے ایران پر مسلط کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ محمد شاہ رضا کے بیٹے ہیں ۔محمد شاہ رضا نے 37 سال ایران پر حکومت کی ہے۔ اور ان کی حکومت جبر، لوٹ مار اور خطے میں امریکی غلامی کرنے کی مثالیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔
1953 میں سی آئی اے نے رضا شاہ کے ساتھ مل کر محمد مصدق کے خلاف فوجی بغاوت کروائی اور پارلیمنٹ کو ختم کرکے رضا شاہ کو ایران کا آمر بنادیا۔ رضا شاہ کی حکومت نے سی آئی اے کی مدد سے SAVAK کے نام سے ایک بدترین خفیہ ایجنسی بنائی جس کا کام سوشلسٹوں سمیت ہر مزاحمت پسند کو گرفتار، ٹارچر اور قتل کرنا تھا۔ پوری دنیا میں شاہ کی حکومت کو بربریت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کرپشن، لوٹ مار، امریکی اور اسرائیلی حمائت کے ساتھ ساتھ اندرونی جبر کی وجہ سے شاہ خطے کے غیر مقبول ترین لیڈران میں سے ایک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1979 میں ایک بھرپور عوامی تحریک کی وجہ سے شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا جس کے بعد اقتدار امام خمینی سمیت اپوزیشن کے کئی دھڑوں نے سنبھال لیا جبکہ شاہ اپنے بیٹے رضا پہلوی سمیت جلاوطن ہوگیا۔
امریکہ نے ایران کو سزا دینے کے لئے 1980 میں عراق کے ذریعے جنگ مسلط کی جس کی وجہ سے نا صرف ایران کی ترقی کو روک دیا گیا بلکہ اندرونی طور پر بھی ایران کو سکیورٹی سٹیٹ بننے پر مجبور کردیا۔ عراق جنگ، اور امریکی اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے ایران سکیورٹی سٹیٹ بننے پر مجبور ہوگیا اور اپوزیشن کے اکثر دھڑے انقلاب سے علیحدہ ہوگئے جبکہ نئی حکومت نے بھی کئی اپوزیشن لیڈران پر پابندیاں اور جبر کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔
حیرانگی اس بات کی ہے کہ ہمارے لبرل لوگ شاہ کے دور کو، جس میں ہر نظریے کو لوگوں پر انتہا کا جبر ہوا, رومانوی انداز میں یاد کرتے ہیں۔ نا صرف اس وقت جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، بلکہ سماجی پستگی بھی شدید تھی۔ مثال کے طور شاہ کے دور میں امریکی امداد کے باوجود خواندگی کی شرح 40 فیصد جبکہ ایرانی انقلاب کے بعد آج شرح خواندگی 90 فیصد کے قریب ہے جس میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ یہ سب امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن لبرل اور واشنگٹن نواز لیفٹ اس ساری تاریخ کو مسخ کرکے اپنا سارا بیانیہ اس بات پر بناتے ہیں کہ اشرافیہ کی چند خواتین نکر پہن کر گھوم سکتی تھیں۔ ان تصاویر کی بنیاد پر یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ نیتن یاہو کی بمباری کے ذریعے ایران کی خواتین کو ایک پھر “آزاد” ہونے کا موقع ملے گا۔
رضا پہلوی واشنگٹن، لندن اور تیل ابیب کے مسلسل دورے کررہا ہے اور ان سے اقتدار کی بھیک مانگ رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اپنے والد کی روایت کو واپس لائے گا۔ اس بے شرم انسان کو SAVAK کے کرتوت یاد نہیں جس نے اس کے والد کے لئے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا اور الیکشن تک نہ ہونے دئے۔ ایران میں آج controlled جمہوریت ہی سہی لیکن شاہ کے مقابلے میں آج الیکشن زیادہ سنجیدہ اور جاندار ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ پہلوی نے اسرائیل میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر کہا ہے کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان “تاریخی تعلقات” کو بحال کریں گے اور اپنے ملک کا ایک پیسہ بھی فلسطین پر “ضائع” نہیں ہونے دیں گے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں فلسطین کے حق میں دھرنے میں بیٹھے طالب علموں پر پہلا حملہ صہونی قوتوں نے نہیں بلکہ پہلوی خاندان کے حمایتی جلاوطن ایرانی باشندوں نے کیا تھا۔
افغانستان پر حملہ عورتوں کے حقوق کے نام پر ہوا۔ عراق پر حملہ جمہوریت کے نام پر ہوا۔ لیبیا اور شام پر حملے انسانی حقوق کے نام پر ہوئے۔ یمن میں حملہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہوا۔ ایک ایک ملک آج تباہ ہے۔ افغانستان میں حامد کرزئی نے دعوہ کیا کہ وہ مقبول ہے اور عراق میں Chalabi نامی شخص نے کہا کہ وہ اقتدار سنبھال کر عراق کو یکجا کرے گا۔ دونوں جھوٹے نکلے۔ آج یہی کھیل پہلوی کھیل رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی اور امریکی اتنے بھولے نہیں۔ انہیں حقیقت معلوم ہے لیکن اصل مقصد ایرانی ریاست کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہاں پر صہونی ایجنٹ مسلط ہوں اور پورا خطہ تباہ حال ہوکر صرف امریکہ اور اسرائیل سے بھیک مانگنے کے قابل رہ جائے۔
حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ ایرانیوں کی طرح کئی ایسے پاکستانی بد بخت بھی موجود ہیں جو امریکی حکام پر زور ڈال رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان پر پابندیاں لگائیں یا فوجی کاروائی کرکے ملک کو توڑیں۔ اس پالیسی کا نتیجہ ایک بھی ملک میں اچھا نہیں نکلا کیونکہ امریکہ نے جہاں بھی بمباری کی ہے، صرف تباہی برپا کی ہے۔ افغانستان عراق شام لیبیا اور یمن میں ہزاروں نہیں، لاکھوں معصوم لوگ شہید ہوئے ہیں لیکن ایک جگہ بھی امن یا ترقی نہیں ہوسکی۔ اندرونی تضادات کو اندرونی جدوھہد کے ذریعے کی حل کیا جاسکتا ہے، اپنے معاشرے کو تباہ کرکے امریکہ اسرائیل یا ہندوستان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر “آزادی” نہیں ملتی بلکہ بدترین غلامی اور شرمندگی ہمیشہ کے لئے معاشرے کا مقدر بنتی یے۔
فلسطینیوں کی مزاحمت نے کئی سال تک اسرائیل توسیع پسندی کو کچھ حد تک روکے رکھا۔ 2003 کے بعد عراقی مزاحمت نے امریکی توسع پسندی کی رفتار کو کم کرنے میں مدد دی کیونکہ امریکی عوام کے اندر براہ راست جنگ کے لئے نفرت بڑھ گئی۔ آج اگر ایران جس حد تک بھی امریکی اسرائیلی اور خلیجی گٹھ جوڑ سے مزاحمت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، وہ ان ممالک کی توسیع پسندی کے عزائم کو روکنے میں مدد دے گا۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی قومی آزادی کی تحریک بشمول وہاں کی کیمونسٹ پارٹی Popular Front For The Liberation of Palestine نے ایرانی حکومت کی مزاحمت کی کھل کر حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو فلسطین کی آزادی کے ساتھ جوڑا ہے۔ کیونکہ اگر لیبیا شام وغیرہ کی طرح ایک اور اسرائیلی مخالف ریاست کو تباہ کردیا گیا تو اگلی کئی دہائیوں تک اس بدمعاشی کو روکنا ناممکن ہوگا۔ جو لبرل اور لیفٹ کے لوگ یہ سب ماضی، حال اور مستقبل کا تجزیہ چھوڑ کر بس 1970 کی دہائی میں ایرانی لڑکیوں کی تصوریں دیکھ کر امید کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی مدد سے رضا پہلوی اقتدار میں آکر وہ دن واپس لائے گا تو ان کی بے شرمی کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں۔
اور رہی ہماری بات آگر خدا نخواستہ ایران کو شکست ہوتی ہے۔تو پھر ایک طرف اسرائیل آور دوسری طرف ہندوستان وہ بھی امریکہ کے آشیرباد کے ساتھ۔تو کیا مملکت خداداد کی سرحدیں محفوظ رہ سکتی ہیں ؟

