کیونکہ عوام ٹیکس دیتے ہیں – میری بات / روہیل اکبر
.
پاکستان میں قانون کی عملداری کی بات کی جائے تو سب سے پہلے عوام کو قانون یاد دلایا جاتا ہے کبھی ہیلمٹ نہ پہننے پر دو ہزار روپے جرمانہ، کبھی غلط پارکنگ پر سزا، کبھی ٹریفک سگنل توڑنے پر چالان، کبھی بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانہ یہ سب قوانین اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ ان کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون صرف عوام کے لیے ہے؟ کیا ریاستی اداروں ، سرکاری محکموں اور انتظامیہ کی بھی کوئی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری نہیں ؟ایک موٹر سائیکل سوار سے ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ وصول کر لیا جاتا ہے مگر وہی شہری جب ٹوٹی ہوئی سڑک پر حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا ہے؟ شہر کی گلیوں میں سیوریج کا پانی مہینوں کھڑا رہتا ہے بارش کے بعد سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں کھلے مین ہول روزانہ قیمتی جانیں نگلتے ہیں مگر کسی افسر سے نہ جواب مانگا جاتا ہے اور نہ کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے
ٹریفک پولیس شہری کو غلط پارکنگ پر جرمانہ کر دیتی ہے لیکن فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات، بازاروں میں قبضے اور سڑکوں پر غیر قانونی رکاوٹیں برسوں تک برقرار رہتی ہیں ان کے ذمہ دار کون ہیں ؟ اگر شہری قانون توڑتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے مگر اگر سرکاری ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو ان کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟رات کے وقت بیشتر سڑکیں اندھیرے میں ڈوبی رہتی ہیں ناکارہ ٹریفک سگنلز حادثات کا سبب بنتے ہیں جگہ جگہ سڑکیں کھود کر چھوڑ دی جاتی ہیں اور مہینوں مرمت نہیں ہوتی کچرے کے ڈھیر، ابلتے ہوئے کوڑے دان، گندگی اور بدبو شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے رکھتی ہے یہ سب بھی تو عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ ہیں کیا ان خطرات پر بھی کوئی جرمانہ مقرر ہے؟ کیا کسی سرکاری افسر کی تنخواہ میں کٹوتی ہوتی ہے؟ کیا کسی محکمے سے جواب طلبی کی جاتی ہے؟سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ایک الگ المیہ ہے غریب آدمی ٹیکس بھی دیتا ہے اور علاج کے لیے نجی ہسپتالوں کے مہنگے اخراجات بھی برداشت کرتا ہے
اگر حکومت بنیادی صحت کی سہولت فراہم نہ کر سکے تو اس ناکامی کا حساب کون دے گا؟بدقسمتی سے ہمارے ہاں احتساب کا ترازو اکثر یکطرفہ دکھائی دیتا ہے ایک طرف عام شہری ہے جس پر قوانین، جرمانے، ٹیکس اور پابندیاں نافذ ہیں ، جبکہ دوسری طرف وہ ادارے ہیں جن کی غفلت سے روزانہ عوام مشکلات کا شکار ہوتے ہیں مگر ان سے شاذونادر ہی جواب طلبی ہوتی ہے یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مہذب معاشرہ صرف جرمانوں سے نہیں بنتا بلکہ انصاف سے بنتا ہے قانون کی اصل خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ سب پر یکساں لاگو ہو اگر شہری قانون کا پابند ہے تو سرکاری ادارے بھی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کے پابند ہونے چاہییں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ شہری ٹریفک قوانین کو نظر انداز کریں ہیلمٹ پہننا، لائسنس بنوانا، سگنلز کی پابندی کرنا اور ذمہ دار شہری بننا ہر فرد کا فرض ہے لیکن اسی کے ساتھ حکومت پر بھی لازم ہے کہ محفوظ سڑکیں ، فعال ٹریفک سگنلز، صاف ماحول، معیاری سرکاری ہسپتال، تجاوزات سے پاک فٹ پاتھ اور بنیادی شہری سہولیات فراہم کرے
ریاست اور شہری کا تعلق یکطرفہ نہیں بلکہ باہمی ذمہ داریوں پر قائم ہوتا ہے شہری ٹیکس ادا کریں ، قوانین کی پابندی کریں اور قومی وسائل کا احترام کریں جبکہ حکومت شفاف طرزِ حکمرانی، بنیادی سہولیات اور مؤثر احتساب کو یقینی بنائے عوام صرف جرمانے ادا کرنے والی مخلوق نہیں بلکہ اس ملک کے اصل مالک ہیں ان کے ٹیکسوں سے ہی ریاست کا نظام چلتا ہے، سرکاری ادارے قائم رہتے ہیں اور حکومتی اخراجات پورے ہوتے ہیں اس لیے اگر شہری اپنی ذمہ داریوں کا جواب دہ ہے تو حکومت اور انتظامیہ بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہونی چاہیے قانون کی طاقت جرمانوں میں نہیں بلکہ انصاف میں ہوتی ہے اور انصاف تبھی مکمل ہوتا ہے جب احتساب صرف عوام کا نہیں بلکہ اقتدار اور انتظامیہ کا بھی ہواگر ایسا ہو جائے تو پھر کوئی سڑک پر بنے ہوئے کھڈے سے گر کر موت کے منہ تک نہ پہنچتا اس وقت صوبائی دارلحکومت کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے لاہور کو پنجاب کا دل کہا جاتا ہے یہی شہر وزیراعلیٰ، وزراء ،اعلیٰ بیوروکریسی اور سرکاری محکموں کا مرکز ہے اگر اسی شہر کی سڑکیں عوام کے لیے خطرہ بن جائیں تو پھر باقی پنجاب کے حالات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں آج لاہور کی بیشتر شاہراہیں اپنی زبوں حالی کی داستان خود سنا رہی ہیں
پنجاب اسمبلی کے مرکزی دروازے سے مال روڈ پر الحمرا تک، جی ٹی روڈ پر یو ای ٹی کے سامنے، رنگ روڈ سے ملحقہ متعدد سڑکیں ، اندرون شہر کی شاہراہیں اور کئی اہم راستے جگہ جگہ گہرے کھڈوں سے بھرے پڑے ہیں یہ کوئی چند دن یا چند ہفتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ برسوں سے موجود ایک ایسا مسئلہ ہے جسے شاید سب نے معمول سمجھ لیا ہے۔ان کھڈوں کی وجہ سے روزانہ موٹر سائیکل سوار گرتے ہیں گاڑیاں تباہ ہوتی ہیں ، ٹریفک جام رہتی ہے اور کئی خاندان حادثات کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھاتے ہیں بارش کے دنوں میں یہی کھڈے پانی سے بھر جاتے ہیں اور موت کے کنویں بن جاتے ہیں ایک لمحے کی بے احتیاطی کسی کی زندگی چھین سکتی ہے حیرت اس بات پر ہے کہ یہ تمام سڑکیں حکومت کی ناک کے نیچے واقع ہیں
روزانہ وزراء، ارکان اسمبلی، اعلیٰ افسران اور متعلقہ محکموں کے حکام انہی راستوں سے گزرتے ہیں مگر شاید ان کی گاڑیوں کے شیشے اتنے بند ہیں کہ انہیں عوام کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی سب سے بڑا سوال متعلقہ محکموں سے ہے آخر سڑکیں بنتے ہی ٹوٹ کیوں جاتی ہیں ؟ کیا ناقص میٹریل استعمال ہوتا ہے؟ کیا تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ذمہ دار کون ہے؟ کیا کبھی کسی ٹھیکیدار، انجینئر یا افسر سے پوچھا گیا کہ نئی سڑک چند ماہ میں کھنڈر کیوں بن گئی؟افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اپوزیشن اس مسئلے پر خاموش ہے ،حکومتی نمائندے خاموش ہیں ، متعلقہ محکمے خاموش ہیں اور آہستہ آہستہ عوام بھی اس اذیت کو اپنی قسمت سمجھ کر خاموش ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ سڑک پر موجود ایک گڑھا صرف ایک گڑھا نہیں ہوتا وہ کسی گھر کا واحد کفیل چھین سکتا ہے، کسی بچے کو یتیم اور کسی ماں کی گود اجاڑ سکتا ہے ترقی صرف میٹرو، انڈر پاس، فلائی اوور اور بلند و بالا منصوبوں کے نام نہیں اصل ترقی وہ ہے جہاں شہری محفوظ سفر کر سکے، سڑک ہموار ہو، حادثات کم ہوں اور عوام کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں اگر لاہور جیسے شہر، جہاں حکومت کا ہر بڑا دفتر موجود ہے وہاں سڑکوں کا یہ حال ہے تو پھر دور دراز اضلاع اور دیہی علاقوں کی سڑکوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ لاہور سمیت پورے پنجاب کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا فوری سروے کرایا جائے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا کام شروع کیا جائے اور ناقص تعمیرات کے ذمہ داروں کا سخت احتساب کیا جائے کیونکہ عوام ٹیکس دیتے ہیں ۔