عورت، معاشرہ اور استحصال: چترال کے تناظر میں ایک تجزیہ ۔ تحریر: احتشام الرحمان
۔
عورت کے معاشی اور معاشرتی استحصال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکثر ادوار میں مرد نے عورت کو ایک کمزور اور تابع وجود کے طور پر دیکھا، بلکہ بعض مواقع پر اسے محض ”اے ڈول ان دی ہاؤس“ بنا کر اس کی شخصیت اور صلاحیتوں کو نظر انداز کیا۔ اسی پس منظر میں فیمنزم کی تحریک نے جنم لیا، جس کی پہلی لہر میں عورت نے بنیادی شہری حقوق جیسے ووٹ، تعلیم اور جائیداد کے حق کے لیے جدوجہد کی۔ دوسری لہر میں مساوی مواقع، معاشی خودمختاری اور سماجی انصاف کی بات کی گئی۔ تیسری لہر میں عورت کی شناخت، آزادی انتخاب اور انفرادی تجربات کو اہمیت دی گئی۔ تاہم، یہ بھی ایک قابل غور پہلو ہے کہ جب عورت نے اپنے حقوق حاصل کرنا شروع کیے تو بعض حلقوں نے نئے انداز میں عورت پر اپنی گرفت مضبوط کر کے اس کے استحصال کے راستے تلاش کیے، جہاں فیشن اور بیوٹی پیجینٹس جیسے ذرائع کے ذریعے اسے ایک بار پھر ظاہری نمائش تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے یہ بحث جنم لیتی ہے کہ آیا یہ حقیقی آزادی ہے یا استحصال کی ایک نئی شکل۔
یہی رویہ ہمیں پروفیشنل زندگی اور کھیلوں کے میدان میں بھی نظر آتا ہے، جہاں خواتین کو نہ صرف مواقع کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے بلکہ تنخواہوں میں بھی واضح فرق پایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر جینڈر پے گیپ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، جہاں ایک ہی عہدے پر فائز مرد اور عورت کی آمدنی میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔ اسی طرح کھیلوں میں بھی خواتین کو کم معاوضہ، محدود وسائل اور کم توجہ ملتی ہے۔ فوزیہ سید کی کتاب ”ورکنگ ود شارکز“ میں اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے اندر خواتین کے ساتھ غیر مساوی سلوک اور جنسی ہراسانی جیسے مسائل کا ٹھوس شواہد کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔
معاشی استحصالی کی بات کی جائے تو کچھ عرصے سے چترال میں ”گولڈ ڈگر“ والدین اور بہن بھائیوں کا ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے۔ اس میں عورتوں کے معاشی استحصال کی ایک مخصوص شکل دکھائی دیتی ہے، جہاں بیٹیوں کو نرسنگ یا دیگر پیشوں کی طرف اس نیت سے بھیجا جاتا ہے کہ وہ جلد گھر کی کفالت سنبھالیں۔ اس عمل میں ان کی ذاتی خواہشات، شادی اور انفرادی زندگی کے فیصلے ثانوی ہو جاتے ہیں، جس سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔
اسی طرح کھیلوں کے حوالے سے بھی یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ خواتین کے مسائل کا حل صرف کھیل ہیں جس سے اصل مسائل، جیسے وراثت، تعلیم اور سماجی حقوق، پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس بیانیے سے بعض افراد اور ادارے معاشی فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر عملی سطح پر بہتری محدود رہتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ چترال میں لڑکیوں کے کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں۔ مختلف تعلیمی اداروں میں اسپورٹس گالا باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں، جہاں طالبات منظم انداز میں حصہ لیتی ہیں۔ انڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کے مواقع موجود ہیں، اگرچہ سہولیات محدود ہیں۔ مزید یہ کہ بعض طالبات کھیلوں کے ذریعے قومی سطح تک بھی پہنچ چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب مواقع اور ماحول میسر ہوں تو معاشرہ اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا۔ اس کی ایک مثال چترال ماڈل کالج کی طالبہ سائرہ جبین ہیں، جو پاکستان ٹیم کا حصہ رہ چکی ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی کھیلوں کی ممانعت نہیں ملتی بلکہ سیرت نبوی سے یہ مثال ملتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان دوڑ جیسے مقابلے بھی ہوئے، جو جسمانی سرگرمی اور کھیل کی حوصلہ افزائی کی دلیل ہے۔ تاہم ہر معاشرے کی اپنی سماجی اقدار اور حدود ہوتی ہیں، جن کا احترام ضروری ہے، خاص طور پر چترال جیسے معاشرے میں جہاں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کو حساسیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے کھیلوں کے فروغ میں مقامی اقدار کو مدنظر رکھنا ایک لازمی امر ہے۔
اصل مسئلہ کھیلوں کی مخالفت نہیں بلکہ ان کے طریقہ کار اور نفاذ کا ہونا چاہیے۔ لڑکیوں کے کھیلوں کے لئے الگ جگہیں ہوں جہاں صرف خواتین جا سکیں۔ اگر خواتین کے لیے علیحدہ، محفوظ اور باوقار ماحول میں پروفیشنل خواتین کوچز اور ٹرینرز کے ذریعے ٹرائلز اور تربیت کا انتظام کیا جائے تو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرے کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کر کے صرف کھیلوں کو واحد حل کے طور پر پیش نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے اصل سماجی مسائل جیسے تعلیم، وراثت، وغیرہ، مزید پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
جو لوگ کرکٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ دوسرے معاملات میں بھی اپنا موقف پیش کریں اور اصولی سوالات اٹھائیں۔ مثال کے طور پر حالیہ دنوں پولو گراؤنڈ میں ایک خاتون کو مردوں کے درمیان پولو کھیلنے کی اجازت کیسے دی گئی؟ کیا یہ مقامی اقدار سے ہم آہنگ تھا؟ کیا یہ اسلامی حدود کے مطابق تھا؟ اور اگر اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ کیا اس کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تھا؟ اگر نہیں کی گئی تھی تو کیوں؟ اب لڑکیوں کی کرکٹ پر اعتراض ہو رہا ہے تو کیوں ہو رہا ہے؟
اگر ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کی جائے اور عام لڑکیوں کی سرگرمیوں پر سخت ردعمل دیا جائے تو یہ کھلا دوہرا معیار ہے۔ ایک منصفانہ معاشرہ وہی ہے جہاں اصول سب کے لیے یکساں ہوں، چاہے معاملہ کھیل کا ہو یا کسی اور سرگرمی کا۔ لڑکیوں کے کھیلوں کی مخالفت کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ ان کے لیے علیحدہ اور محفوظ اسپورٹس سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جائے، جو صرف خواتین کے لیے مخصوص ہوں، جہاں وہ معاشرتی اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بھی نکھار سکیں۔ مختصراً، نہ عورت کو ”اے ڈول ان دی ہاؤس“ بنا کر محدود کرنا درست ہے، نہ ہی ”نمائشی کھلونا“ بنانا۔
