چار اکتوبر کے مارچ کی تیاریاں مکمل، مس ایڈونچر ہوا تو 24 گھنٹے میں متحرک ہوسکتے ہیں: سہیل آفریدی
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ چار اکتوبر کے مارچ کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں، اگر اس سے قبل کسی قسم کا مس ایڈونچر کیا گیا تو 24 گھنٹوں کے اندر موبلائز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت ایک پیج پر ہے، اس امر میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم بھرپور طور پر تیار ہیں، چار اکتوبر کو روانہ ہوں گے اور مقصد حاصل کیے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات بالکل واضح اور مبنی برحق ہیں، جنہیں 5 اگست کے جلسے میں بھی واضح کردیا گیا تھا۔ ہمارے قائد عمران خان کے علاج اور ان سے ملاقات کے حوالے سے عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کیا جائے اور ان کے کیسز کو میرٹ پر سنا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے گزشتہ نو ماہ کے دوران تمام آئینی اور جمہوری راستے اپنائے گئے، لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔ مجبوراً آخری آئینی و جمہوری آپشن کے طور پر احتجاج کی کال دینا پڑی۔ اب بھی سات دن باقی ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہیں تو ہمارے مطالبات تسلیم کریں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 5 اگست کے جلسے کے بعد، جب ہم نے 27 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال دی تھی، گزشتہ 52 دنوں میں بات کیوں نہیں کی گئی؟
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ مسلط ٹولہ مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کے بجائے پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات کو مزید خراب کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی ناجائز حکومت کو طول دے سکے، پاکستانی عوام کا مزید استحصال جاری رکھے اور ملک میں بدامنی اور معاشی بدحالی کو مزید ہوا دے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے دورے کیے ہیں اور محسوس کیا ہے کہ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مخالفین خود بھی اس صورتحال کو محسوس کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ گھبرائے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس بار لوگ نکلیں گے اور مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کوئی مسلح جتھہ نہیں ہیں بلکہ پرامن ہیں۔ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو ضرور بات کرے۔ اگر ہمارے مطالبات مان لیے جاتے ہیں تو ہم سڑکوں پر کیوں نکلیں گے؟
وزیراعلیٰ نے مزید واضح کیا کہ “میں اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، میرے اور مقصد کے درمیان کوئی بھی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔”
۔
۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگرد حملے کی مذمت، پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے: وزیراعلیٰ
.
دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشتگردی کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں نوجوانوں اور شہریوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
یہاں سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی شہید ہورہے ہیں
۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب دہشتگردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جارہی تھی تو ہم نے اس کی مخالفت کی اور آواز اٹھائی تھی، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ایک بار پھر ہمیں لاشیں اٹھانی پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان پالیسیوں کا نقصان صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوتا ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہورہے ہیں۔ گزشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے، لیکن اس کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن ہماری بات نہیں سنی جارہی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کے قیام کے لیے اپنے طور پر ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں صوبائی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر پولیس کے لیے بجٹ سے ہٹ کر 35 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ پولیس کو جدید اسلحہ، ضروری آلات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو تاحال مطلوبہ آلات اور بکتر بند گاڑیاں فراہم نہیں کی گئیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے، اس لیے پولیس کے لیے مطلوبہ سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پولیس جوان، فوجی جوان اور عام شہری سب ہمارے اپنے لوگ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ فوج ہماری ہے، ملک ہمارا ہے، پولیس ہماری ہے اور عوام بھی ہمارے ہیں۔ ہماری تنقید ان بند کمروں میں بنائی جانے والی پالیسیوں پر ہے جو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچارہی ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اس لیے پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا ہے اور 100 دن میں امن لانے کی صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہورہا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی میں شہید ہونے والے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور شہری کسی کے بیٹے، کسی کے بھائی یا کسی کے باپ ہیں۔ ہماری مائیں اور بہنیں بھی دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہیں، آخر کب تک یہ خون بہتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ اگر دہشتگردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
پولیس، امن اور صوبائی وسائل پر مؤقف
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اپنی جگہ جاری ہے، تاہم صوبے میں گورننس، ترقیاتی امور اور عوامی خدمت پر بھی بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا آرام اور سکون ضرور قربان کیا ہے، لیکن حکمرانی کے امور اور عوامی خدمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
صوبائی حکومت کے مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 130 ارب روپے کے مقررہ ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے ریونیو جمع کیا گیا، وہ بھی کسی قسم کا اضافی ٹیکس عائد کیے بغیر۔ رواں مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، تاہم توقع ہے کہ صوبہ 200 ارب روپے تک ریونیو جمع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف شعبوں میں متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پشاور کے دیرینہ مسائل کے حل اور شہر کی بحالی کے لیے 200 ارب روپے کے پشاور بحالی منصوبے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ منصوبے میں شامل تمام منصوبے مکمل طور پر فنڈڈ ہیں، جبکہ متعدد منصوبے تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس کی تکمیل سے پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو دیرپا بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ شعبہ صحت میں جاری منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور اور دیگر منتخب ریجنز میں نئے بڑے ہسپتال قائم کیے جارہے ہیں۔
شفافیت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں اور دیگر متعلقہ معاملات میں بدعنوانی کے راستے بند کیے گئے ہیں۔ میرٹ اور شفافیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے مطلوبہ نتائج بروقت اور مؤثر انداز میں حاصل کیے جاسکیں۔
وفاقی وزراء کے بیانات پر تحفظات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے، کیا وہ پائیدار امن قائم کرسکتے ہیں؟ انہوں نے وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ملک میں نفرت اور انتشار پیدا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں وفاقی وزراء کی نامناسب گفتگو قابل افسوس ہے۔ اگر کوئی وفاقی وزیر خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشتگرد قرار دے تو یہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے اور صوبوں کے درمیان نفرت بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ افراد مسلط کیے ہیں، انہیں اپنے وزراء کو ذمہ دارانہ گفتگو کی ہدایت کرنی چاہیے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کبھی بنوں میں اپنے شہداء کے پاس جارہے ہیں، کبھی کوہاٹ، کبھی دیر اور کبھی سوات جارہے ہیں۔ جو لوگ عوام کے درمیان نہیں جاتے، وہ ہمیں عوامی محبت کا درس نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اداروں کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں، وہ ہمیں اداروں سے محبت کا درس نہ دیں، اور جنہوں نے سپریم کورٹ پر چڑھائی کی، وہ ہمیں اداروں کے احترام کا درس نہ دیں۔
افغانستان بارڈر کی بندش اور امن کا مسئلہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی اور معاشی مشکلات کا سامنا کررہا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہے، جس سے سالانہ تقریباً 10 ارب روپے صوبائی حکومت کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ کاروبار اور تجارت سے منسلک افراد بھی پریشان ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے امن کے سلسلے میں ماضی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی کوششیں ناکام ہوئیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ صوبائی حکومت کی نمائندگی نہیں تھی۔ بند کمروں کی پالیسی کے نفاذ سے امن نہیں آئے گا۔
چار اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن ہوگا: وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا نوجوان اور کارکن باشعور ہے اور 9 مئی کے بعد بھی پی ٹی آئی کارکن ہر اشتعال انگیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا۔ چار اکتوبر کو پاکستان کے عوام پرامن طریقے سے اپنا حق استعمال کریں گے، کیونکہ پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت امن، ترقی، گورننس اور عوامی خدمت کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ سیاسی جدوجہد بھی اپنے آئینی اور جمہوری دائرے میں جاری رہے گی۔