اقوام کے عروج و زوال میں ثبات و تغیر کا کردار – تحریر: عبدالمجید قریشی (کالاش ویلی بمبوریت)
.
ثبات و تغیر ایسا دقیق اور ہمہ گیر موضوع ہے کہ اس پر خامہ فرسائی کرنا گویا سنگلاخ وادیوں میں راہ بنانے کے مترادف ہے۔ تاہم یہی وہ نازک نکتہ ہے جس کے ادراک کے بغیر نہ فرد اپنی حقیقت پہچان سکتا ہے اور نہ قومیں اپنے عروج و زوال کے اسباب کو سمجھ سکتی ہیں۔
اصطلاحِ ثبات و تغیر، جو عربی الاصل ہے، انگریزی میں Change and Stability کے نام سے موسوم ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی زندگی اور اجتماعی نظام میں کچھ اصول ایسے ہیں جو اٹل اور دائمی ہیں (ثبات)، اور کچھ پہلو ایسے ہیں جو زمان و مکان کے تقاضوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں (تغیر)۔
خالقِ کائنات نے انسان کو ایک متوازن اور متحرک نظام عطا فرمایا ہے، جس میں ثبات اور تغیر دونوں باہم مربوط ہیں۔ ثبات کے باب میں اسلام نے ایسے ابدی اصول عطا کیے ہیں جو ہر عہد میں رہنمائی کا سرچشمہ ہیں—مثلاً توحید، رسالت، آخرت، اور جزا و سزا کا تصور۔ یہ وہ حقائق ہیں جو انسانی شعور اور اجتماعی حیات کو ایک مضبوط اور غیر متزلزل بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات میں جمود نہیں بلکہ مسلسل حرکت ہے: کُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِي شَأْ ن سورۃ الرحمٰن: 29
یعنی ہر آن نئی شان کا ظہور ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تغیر کائنات کا لازمی وصف ہے، اور زندگی کی بقا حرکت و جدوجہد سے وابستہ ہے۔
مسلم مفکرین میں ابنِ مسکویہ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا کہ کائنات میں فرد و اجتماع کی سطح پر بقا کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ یہ اصول ہماری روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہے، حادثاتِ زمانہ پر لمحاتی توقف کے بعد قافلۂ حیات آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی حال اقوام کا بھی ہے: جو قومیں تغیر کے تقاضوں سے چشم پوشی کرتی ہیں، وہ تاریخ کے اوراق میں قصۂ پارینہ بن جاتی ہیں؛ اور جو محض تغیر کی رو میں بہہ کر اپنے اصولوں سے کٹ جاتی ہیں، وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔
پس اصل سوال یہ ہے کہ وہ پیمانۂ اعتدال کیا ہے جس کے ذریعے ثبات اور تغیر میں توازن قائم رکھا جا سکے؟ اس کا جواب اجتہاد میں مضمر ہے۔ یعنی بدلتے حالات میں ابدی اصولوں کی معقول اور بصیرت افروز تعبیر۔ یہی وہ قوت ہے جس نے ابتدائی اسلامی ادوار میں مسلمانوں کو زمانے کی قیادت عطا کی۔
قرونِ اولیٰ کے مسلمان نہ صرف دینی میدان میں بلکہ سائنس، فلسفہ اور تمدن میں بھی پیش پیش رہے۔ مگر رفتہ رفتہ جب اجتہادی روح ماند پڑ گئی تو جمود نے جگہ لے لی۔ ادھر مغرب نے سائنسی و فکری میدان میں پیش رفت کی، پرنٹنگ پریس کے ذریعے علم کو عام کیا، اور نئی ایجادات کے ذریعے دنیا کی قیادت سنبھال لی۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب یورپ نئی جہات دریافت کر رہا تھا، اس وقت ہمارے ہاں علمی و فکری جمود غالب تھا۔ مثال کے طور پر اگر اس دور میں علم کی اشاعت کے جدید ذرائع کو اپنایا جاتا تو شاید تاریخ کا دھارا کچھ اور ہوتا۔
ان حالات میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ زندگی کی بقا اور ترقی کے لیے ثبات، تغیر اور اجتہاد، تینوں کا حسین امتزاج ناگزیر ہے۔ اجتہاد نہ تو دین میں اضافہ ہے اور نہ تحریف، بلکہ ابدی اصولوں کی عصری تعبیر ہے۔
پیغمبرِ اسلام ﷺ کے عہد مبارک میں بھی اختلافِ رائے کی گنجائش موجود تھی، جیسا کہ غزوۂ خندق کے بعد بنو قریظہ کے موقع پر صحابہ کے درمیان پیش آنے والا اختلاف اس کی روشن مثال ہے، جسے حضور ﷺ نے قبول فرمایا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض امور میں تنوع اور اختلاف نہ صرف فطری ہے بلکہ مفید بھی۔
آج عالمِ اسلام کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ باہمی تفرقہ اور فکری انتشار ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر کوئی ایسا متفقہ علمی پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں سے اجتماعی اجتہاد کی رہنمائی فراہم ہو سکے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا ایک مؤثر اور بااعتماد علمی مرکز قائم کرے۔ اس ضمن میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) ایک مناسب پلیٹ فارم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں نئی روح پھونکی جائے اور اسے فعال بنایا جائے۔
اس ادارے کے تحت مختلف علوم فقہ، معاشیات، عمرانیات، نفسیات، اور سائنسی علوم کے ماہرین پر مشتمل ایک باوقار مجلس قائم کی جائے، جو عصرِ
حاضر کے مسائل پر اجتماعی غور و فکر کر کے قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرے۔
اجتہاد کے لیے بھی چند بنیادی شرائط ضروری ہیں:
قرآن و سنت پر گہری دسترس، فقہی ذخیرے سے آگاہی، اور مقاصدِ شریعت کا فہم۔ یہ ایک نازک ذمہ داری ہے جو صرف اہلِ علم ہی انجام دے سکتے ہیں۔
معاصر دنیا میں ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے—مثلاً معیشت، بین الاقوامی تجارت، سود کے متبادلات، اور تعلیمی نظام کی وحدت: ان سب کا حل اسی اجتماعی اجتہاد میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں یہ سوال ہر صاحبِ فکر کے لیے چھوڑا جاتا ہے:
کیا انسان اس کائنات میں محض ایک بے اختیار مخلوق ہے، یا ایک باوقار، بااختیار خلیفہ جسے عقل، ارادہ اور اختیار سے نوازا گیا ہے؟
یہی سوال دراصل ثبات و تغیر کی پوری بحث کا حاصل اور انسانی ذمہ داری کا نقطۂ آغاز ہے۔
