دھڑکنوں کی زبان ۔ اپنے حصے کی خوشیاں ۔ تحریر: محمد جاوید حیات
اپنے حصے کی خوشیاں صرف اپنی نہیں ہوتیں، نہ اپنے حصے کے غم صرف اپنے ہوتے ہیں۔ اگر انہیں بانٹنے والا کوئی ہو تو غم گھٹتے ہیں اور خوشیاں بڑھتی ہیں۔ انسان اشرفُ المخلوقات اس لیے ہے کہ اس کی یہ دونوں کیفیات مشترک ہوتی ہیں۔ غم میں کسی کو شامل نہیں کیا جا سکتا؛ غم اکیلے میں گھلا دیتا ہے، لیکن خوشی میں دوسروں کو شامل کیا جا سکتا ہے بلکہ خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے شامل کیا جانا چاہیے۔
یہ خوشیاں چھوٹی موٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ خوشی کا کوئی لمحہ آپ کے لیے معمولی نوعیت کا ہو سکتا ہے، مگر کسی دوسرے کے لیے بہت اہم ہوگا۔ کوئی دس روپے کا نوٹ شاید آپ کے بچے کے لیے زیادہ اہمیت نہ رکھتا ہو، مگر کسی نادار کے بچے کے لیے بڑی دولت ہو سکتا ہے۔ ایک معمولی جوڑا تمہارے لیے کوئی حیثیت نہ رکھتا ہو، لیکن کسی دوسرے کے لیے بہت اہم ہو سکتا ہے۔ اسکول کی معمولی فیس تمہارے بچے کے روز کا جیب خرچ ہو، مگر کسی دوسرے بچے کے لیے بہت بڑی رقم ہو سکتی ہے۔
یہ سب محسوس کرنے کی باتیں ہیں۔ جو اِن کیفیات کو محسوس کرتا ہے، وہ صبر و شکر کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ دنیاوی زندگی کے دو رخ ہیں: ایک صبر، دوسرا شکر۔ عشرت میں شکر کریں اور عسرت میں صبر کو شعار بنائیں۔ یہی بندگی ہے۔ دنیا کی خوشیاں اور دولت عارضی ہیں، اسی طرح تنگ دستی اور مصیبتیں بھی عارضی ہیں۔ کوئی بھی حال دائمی نہیں ہوتا۔
انسان کو اپنی دولت، اپنے عہدے، جائیداد اور دنیاوی جاہ و جلال پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی اپنی بےچارگی اور ناداری کو ہمیشہ کی حقیقت سمجھنا چاہیے۔ یہ دارالامتحان ہے۔ اصل خوشی قناعت اور اطمینان کی خوشی ہے، جو جھونپڑی میں بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کا فارمولا دوسروں کو خوش رکھنے اور ایثار کی جدوجہد ہے۔
انسان دوسروں کی خاطر اپنے آپ کو اور اپنی مسرتوں کو بھول جائے، دوسروں کی خوشیوں میں راحت محسوس کرے تو وہ خود دائمی خوشیوں سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ یہی دنیا میں انسانیت کی بنیاد ہے۔ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کسی ملک کا صدر ہو یا وزیرِ اعظم، یا کوئی بڑا ذمہ دار افسر ہی کیوں نہ ہو، اگر اس کا مطمحِ نظر دوسروں کی راحت، خدمت اور آسائشیں ہوں تو وہ دنیا کا کامیاب ترین انسان ہے۔ یہی جہانبانی اور جہانگیری کی خوب صورتی ہے۔
انسان مسکرا کر کسی کی طرف دیکھے تو یہ خوشی کی سوغات ہے، یہ تحفہ ہے۔ احترام، عزتِ نفس کا خیال، نرم لہجے میں گفتگو، مرتبے کا لحاظ، خود کی انکساری، مدد، حمایت اور رشتے ناطے کا خیال—یہ سب ایسی سرگرمیاں ہیں جو کسی کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کے انداز ہیں۔ یہ کوئی معمولی صلاحیتیں نہیں، یہ انسانیت کے کمال جوہر ہیں۔
آپ کسی کے دکھ درد میں شریک ہوں تو وہ انسان تنہا نہیں رہتا؛ تمہاری خوشیوں میں اس کا برابر کا حصہ ہوتا ہے۔ یہی تمہاری عظمت ہے۔ دوسروں کو خوش دیکھ کر مسکرایا کرو۔ کسی کی خوشی تمہاری خوشی کے راستے کا کانٹا نہ بنے۔ حسد اور بغض ایسی آگ ہیں جو انسان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔
زندگی صبح و شام کی الٹ پھیر ہے، بدلتی رتیں، آتے جاتے موسم۔
بہار گزری بہار خواب؛
خزاں گزری خزاں خواب۔
ماضی اسکرین پر ڈوبتے اُبھرتے چند نقطے ہیں، بے نام سے چند ڈاٹس۔ اگر ان میں سے خوشی کے لمحے چُن لیے جائیں تو بے نام سی زندگی بھی یادگار بن جاتی ہے۔ لوگوں کو فتح کرنا اگرچہ مشکل ہے، مگر یہ جغرافیہ فتح کرنے جتنا مشکل نہیں۔ اس معرکے میں تیر و تبر کی ضرورت نہیں پڑتی؛ بس ایک آدھ مسکراہٹ اور نرم لہجے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنی مسکراہٹوں سے کسی افسردہ چہرے پر روشنی بکھیر دیں۔ پژمردگی کی دھول کو حوصلے اور ہمدردی کے آبِ حیات سے دھو دیں۔ تمہارے اردگرد کوفت کے سائے نہ ہوں، غم کے بادل نہ ہوں—اور اگر ہوں بھی تو تمہاری چمک سے یہ گھٹائیں چھٹ جائیں۔ تب تمہاری خوشیاں واقعی تمہاری ہوں گی۔ ورنہ جنہیں تم خوشیاں کہتے ہو، وہ دراصل غم کے جالے ہیں۔

