عمیر خلیل اللہ کا نام فورتھ شیڈول سے سات دن کے اندر اندر واپس لی جائے، بصورت دیگر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ سید احمد چترالی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
چترال ( چترال ٹائمزرپورٹ )چترال کے معروف قانون دان سید احمد چترالی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ و ممبر ایگزیکٹیو کمیٹی پشاور ہائی کورٹ مینگور بینچ دارلقضا نے کہا ہے کہ چیرمین تورکھو تریچ روڈ فورم و معروف سوشل ورکر اور وکیل عمیر خلیل اللہ بونی بوزند روڈ میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مبینہ کرپشن کے خلاف موثر آواز بلند کرنے کے پاداش میں اپر چترال پولیس کی طرف سے تین ایف آئی ایف آئی آر درج ہوئے۔
ایف آئی آر نمبر 22 مورخہ2025/5/27 اس ایف آئی آر کو کوشمنٹ پیٹیشن نمبر 2025 /606 میں مورخہ 2025/6/3 کو پشاور ہائی کورٹ منگورہ بینچ درالقضا نے پولیس کو ملزمان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے
دوسرا: ایف آئی آرنمبر 2025/9/10 کو پیٹیشن نمبر 2025/1149 کو عدالت عالیہ منگورہ بینچ درالقضا نے مورخہ 2025/9/23 پولیس کو ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دی ہے۔
اور تیسرے:ایف آئی آر نمبر 2025/9/11 کو بھی مورخہ 2025/10/8 خیبرپختونخوا پولیس کو ملزم کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی روکا ہے۔
ایک پریس ریلیز میں انھوں نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا، آر پی او ملاکنڈ ڈویژن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر چترال، ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ایس ڈی پی او تورکھو موڑکھو، ایس ایچ او تھانہ تورکھو اور انوسٹیگیشن افسر نے ان تمام عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے انہی ایف آئی آر کو جواز بنا کر عمیر خلیل اللہ کا نام انٹی ٹیررزم ایکٹ 1997 کے سیکشن 11EE کے تحت فورتھ شیڈول میں ڈال دیے ہیں۔
انھوں نے مذید کہا ہے کہ مذکورہ تمام افسران نے عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا افسران بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمیر خلیل اللہ کا نام فورتھ شیڈول سے سات دن کے اندر اندر واپس لے بصورت دیگر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔
