امن معاہدہ: غ زہ کے زخموں پر اُمید کا پہلا مرہم ۔ تحریر: ثناء اللہ مجیدی
دنیا کی سیاست میں بعض معاہدے صرف کاغذ پر ثبت الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ تاریخ کے اوراق پر نئے باب رقم کر جاتے ہیں۔ جمعرات کی صبح جب شرم الشیخ کے پرسکون فضاؤں سے یہ خبر ابھری کہ دو برسوں سے دہکتے ہوئے غزہ کے آسمان تلے بالآخر تحریکِ مزاحمت اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع معاہدہ طے پا گیا ہیتو مشرقِ وسطیٰ کی فضا جیسے لمحہ بھر کو سانس روک کر خاموش ہو گئی۔ یہ وہ ساعت تھی جسے بہت سے لوگ خواب و خیال سے زیادہ کچھ نہ سمجھتے تھے، مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ توپوں بندوقوں سے زیادہ طاقت استقامت، قربانی اور ایمان کے عزم میں ہوتی ہے۔
تحریکِ مزاحمت نے اپنے تازہ ترین اعلامیے میں جو خبر سنائی، وہ مشرقِ وسطیٰ کے افق پر ایک نئے سورج کی پہلی کرن بن کر اُبھری۔دو برسوں سے دھواں دیتی زمین، جہاں ہر صبح بارود کی بُو اور لاشوں کی گنتی کے ساتھ طلوع ہوتی تھی، اب ایک ایسے موڑ پر آن پہنچی ہے جہاں امید نے مایوسی کے ویران صحراؤں میں ایک نیا چشمہ پھوڑ دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دجالی ریاست کے ساتھ طویل اور خونریز جنگ کے خاتمے پر ایک جامع معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیلی افواج مکمل طور پر غزہ کی پٹی سے انخلا کریں گی، انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل مرحلہ وار انجام پائے گا۔
یہ تاریخی مذاکرات اس شرم الشیخ کی فضاؤں میں ہوئے، جہاں کبھی سیاست کے پردوں کے پیچھے مفاد کی چالیں کھیلی جاتی تھیں، مگر اس بار امریکہ کی ثالثی اور قطر، ترکی اور مصر کی ضامن حیثیت نے ایک نیا رنگ بھرا۔ اعلامیے میں ان ممالک کے لیے تشکر اور احترام کے جذبات کے ساتھ یہ الفاظ بھی درج تھے:
ہم قطر، ترکی اور مصر کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے اُن اقدامات کو سراہتے ہیں جن کی بدولت یہ معاہدہ ممکن ہوا۔”یہ وہ معاہدہ ہے جس کی راہ میں بارہا تاخیر، دباؤ، اور بے یقینی کے سائے حائل ہوئے۔ مذاکرات کبھی رُکے، کبھی ٹوٹے، کبھی پھر سے جُڑے۔ لیکن آخرکار، حوصلے کی چنگاری نے صبر کے ایندھن سے وہ شعلہ پیدا کیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔آج جب یہ خبر دنیا کے کونے کونے تک پہنچی، تو اہلِ غزہ کے چہروں پر برسوں بعد ایک ایسی مسکراہٹ اُبھری جو زخموں سے جنم لیتی ہے، اور جس میں درد کے ساتھ عزم کا نور شامل ہوتا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں شاید یہ وہ لمحہ ہے جہاں بارودی سیاہ فضا میں امن کا پہلا سفید پرچم لہرا دیا گیا۔یہ معاہدہ محض سیاسی اتفاق نہیں، بلکہ ایک تاریخی مکتوب ہے جو صدا منقش رہے گا وقت گواہی دے گا کہ یہ دن صرف ایک جنگ کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ انسانی وقار اور حریت کی بقا کا دن ہے
واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور تحریکِ مزاحمت کے درمیان امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط ہو چکے ہیں، اور جلد تمام قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا انخلا متوقع ہے۔ انہوں نے اس دن کو “عالمِ عرب، اسلامی دنیا، اسرائیل اور امریکہ سب کے لیے ایک عظیم دن” قرار دیا۔ یہ جملہ بظاہر ایک سفارتی اظہار ہے مگر درحقیقت امریکہ کے لیے سیاسی فتح کا اعلان بھی۔ ٹرمپ کے لیے یہ معاہدہ محض ایک امن پیش رفت نہیں بلکہ انتخابی میدان میں ایک کارڈ ہے، جس سے وہ خود کو عالمی امن کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کر سکیں گے اور اپنی سب بڑی خواہش نوبل انعام کے حصول کی رکاوٹ کو دور کرسکیں گے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق فریقین نے مکمل فائر بندی، قیدیوں کے تبادلے، لاشوں کی واپسی، انسانی امداد کے داخلے، بے گھر افراد کی واپسی اور اسرائیلی انخلا پر اتفاق کیا۔ تحریکِ مزاحمت پیر تک 20 اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے گی، جب کہ اسرائیل 2000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا جن میں 250 عمر قید یافتہ شامل ہیں۔ روزانہ 400 ٹرک غزہ میں امداد پہنچائیں گے، اور اسرائیلی افواج چوبیس گھنٹوں میں طے شدہ حدِ فاصل تک واپس چلی جائیں گی۔تل ابیب میں جشن کا سماں تھا۔ مغویوں کے اہلِ خانہ گلے مل رہے تھے، آنسو خوشی کے بہہ رہے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے اسے “طویل ترین جنگ کے خاتمے کی امید” کہا۔ دوسری جانب غزہ کی گلیوں میں اذانوں، تکبیروں اور خوشی کے نعرے گونج اٹھے۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود لوگ خبر ملتے ہی ایک دوسرے کو گلے لگا کر کہہ رہے تھے: “الحمدللہ، ہم نے صبر کیا، ہم جیت گئے۔” مگر ان خوشیوں کے درمیان بھی ایک خوف کا سایہ تھا — “وہ سایۂ عدمِ یقین جو ہر گزرے لمحے میں یاد دلاتا ہے کہ امن کا یہ لمحہ ابھی نازک ہے، اور کسی بھی وقت سیاسی مفاد کی آندھی میں بکھر سکتا ہے۔”کیونکہ امن کی راہ اب بھی مکمل ہموار نہیں۔
اگلا سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی حکمرانی کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے مطابق، بعد ازاں اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کو بین الاقوامی نگرانی میں حکومت سونپی جا سکتی ہے۔ آنے والے مراحل میں مذاکرات کا مرکز تحریکِ مزاحمت کے غیر مسلح ہونے، ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام اور بین الاقوامی امن کونسل کی نگرانی جیسے حساس امور ہوں گے۔ تاہم پھر بھی یہ معاہدہ محض ایک کاغذ نہیں، یہ ایک زخم خوردہ قوم کی دھڑکن ہے۔ سیاسی ماہرین اسے جنگ بندی کہتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ایسی سفارت کاری ہے جس کے ہر لفظ کے پیچھے خون، آنسو اور امید کی کہانی لکھی ہے۔ ٹرمپ کے لیے یہ اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو سنوارنے کا موقع ہے، نیتن یاہو کے لیے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش، اور تحریکِ مزاحمت کے لیے اپنے زخمی عوام کے دلوں پر پہلا مرہم۔ مگر اصل آزمائش اب شروع ہوگی جب امن کے نام پر مزاحمت کی روح کو قید کرنے اور آزادی کی صدا کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں تاریخ اکثر خون سے اپنا فیصلہ لکھتی ہے۔ہر امن معاہدے کے پردے کے پیچھے طاقت کا ایک کھیل ہوتا ہے۔ ٹرمپ کاامن منصوبہ دراصل ایک ایسا توازن ہے جس میں انصاف کا پلڑا ہمیشہ طاقتور کے حق میں جھکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ جنگ رکی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ظلم بھی رکے گا؟ کیا یہ امن غزہ کے بچوں کے آنسو پونچھے گا یا صرف ایک نیا دباؤ، ایک نیا جبر لے کر آئے گا؟غزہ کے لیے یہ لمحہ امید کا ہے وہ امید جو ملبے کے درمیان بھی سانس لیتی ہے، جو ہر ماں کے آنسو میں چمکتی ہے، اور ہر بچے کی آنکھ میں خواب بن کر زندہ ہے۔ دو برس کی تاریکی، بھوک، خوف اور لاشوں کے بعد اگر کوئی روشنی دکھائی دیتی ہے تو وہ اسی معاہدے سے پھوٹی ہے۔ مگر یہ روشنی تبھی برقرار رہ سکتی ہے جب عالمی طاقتیں اسے اپنے مفادات کے شکنجے میں نہ جکڑیں۔
اگر خلوص نیت سے یہ امن قائم ہو گیا تو غزہ کی گلیوں میں پھر مسکراہٹیں واپس آئیں گی، بچے اسکولوں میں لوٹیں گے، عورتیں موت نہیں زندگی کے خواب اپنے دل میں سجائیں گی، اور یہ زمین جو بارود اگاتی تھی، شاید پھر پھول اُگانے لگے۔ لیکن اگر یہ وعدے صرف زبانی تسلیاں نکلے تو تاریخ ایک بار پھر لرزتے قلم سے لکھے گی:“غزہ نے امن کی قیمت اپنے لہو سے ادا کی۔”
اللہ کرے یہ امن صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے، بلکہ غزہ کے ہر بچے کی مسکراہٹ میں زندہ ہو۔اللہ اس معاہدہ کو ایک سیاسی فریب سے بچا کر غزہ کے زخموں کی دوا بنادے (آمین)