The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 1 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

میڈیکل آفیسرز اور نرسز کی بھرتیوں میں چترال کے امیدواروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات، شفاف تحقیقات اور میرٹ لسٹ جاری کرنے کا مطالبہ

Chitral Times

میڈیکل آفیسرز اور نرسز کی بھرتیوں میں چترال کے امیدواروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات، شفاف تحقیقات اور میرٹ لسٹ جاری کرنے کا مطالبہ

میڈیکل آفیسرز اور نرسز کی بھرتیوں میں چترال کے امیدواروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات، شفاف تحقیقات اور میرٹ لسٹ جاری کرنے کا مطالبہ

میڈیکل آفیسرز اور نرسز کی بھرتیوں میں چترال کے امیدواروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات، شفاف تحقیقات اور میرٹ لسٹ جاری کرنے کا مطالبہ

.

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا میں محکمہ صحت کے تحت تقریباً ایک دہائی سے خالی پڑی میڈیکل آفیسرز ، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی آسامیوں پر حالیہ ڈویژنل سطح کی بھرتیوں کے بعد مختلف امیدواروں اور عوامی حلقوں نے بھرتی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور مکمل میرٹ لسٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ امیدواروں کے مطابق بھرتی کے عمل میں کسی قسم کا تحریری امتحان نہیں لیا گیا بلکہ صرف انٹرویوز کی بنیاد پر انتخاب کیا گیا۔ امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ انٹرویوز کے دوران پیشہ ورانہ یا تکنیکی نوعیت کے سوالات بھی نہیں پوچھے گئے، بلکہ زیادہ تر امیدواروں کا تعارف اور ان کی پسندیدہ تعیناتی کے مقامات سے متعلق سوالات کیے گئے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بعض امیدواروں اور عوامی حلقوں نے بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور مالی بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق بعض آسامیوں پر تقرری کے لیے مبینہ طور پر رشوت لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان الزامات کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات غیر جانبدار، شفاف اور جلد مکمل کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

چترال سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ اس بھرتی کے عمل میں ایک مرتبہ پھر مقامی ڈاکٹروں اور نرسز کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ضلع کے دور دراز بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHCs) اور دیگر طبی مراکز میں بھی بڑی تعداد میں دیگر اضلاع کے امیدوار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ مقامی اہل امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا۔

امیدواروں کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بھی دیگر اضلاع سے تعینات ہونے والے متعدد ڈاکٹرز اور نرسز مستقل ہونے کے بعد اپنے آبائی اضلاع میں تبادلے کرا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چترال کے دور افتادہ صحت مراکز دوبارہ عملے سے محروم ہو جاتے ہیں اور مقامی آبادی کو طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

مقامی حلقوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ چترال کے ڈاکٹر اپنے ضلع میں خدمات انجام نہیں دینا چاہتے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مقامی ڈاکٹر خصوصاً اپنے آبائی علاقوں اور دور دراز مراکز صحت میں خدمات انجام دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں، تاہم انہیں مناسب مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔

چترال کے امیدواروں اور مختلف عوامی حلقوں نے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ بھرتیوں کی مکمل میرٹ لسٹ، انٹرویو نمبرز، سلیکشن کا معیار، منتخب اور غیر منتخب امیدواروں کی تفصیلات اور بھرتی کے پورے طریقہ کار کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو، میرٹ پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہے کہ ان الزامات کے حوالے سے محکمہ صحت یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اگر متعلقہ ادارے اس حوالے سے اپنا موقف جاری کریں گے تو اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔ تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ان مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے امیدواروں سے شکایات سی ایم آفس جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

chitraltimes cm kp takes notice of irregularties in doctors appointments