این اے ون چترال کی خالی نشست کیلئے ضمنی الیکشن میں آل پارٹیز (سوائے پی ٹی ائی ) نے ایکا کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا
چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عبداللطیف کی نااہلی کے بعد خالی شدہ NA-1چترال کی نشست پر ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے ایکاکرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی مشروط حمایت کا اعلان کردیا۔ منگل کے روز جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر مغفرت شاہ کے زیر صدارت منعقدہ آل پارٹیز اجلاس کے بعد اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کی چارٹر ڈیمانڈ میں شامل چترال کے اندر مختلف روڈ منصوبوں بشمول لواری تا شندور ،گرم چشمہ، کالاش ویلیز روڈز سمیت ارندو، مدک لشٹ ، بروغل ، تورکھو ، سویر ٹو تریچ روڈز اور اپر چترال میں144میگاواٹ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کی فنڈنگ اور بجلی کی قیمت میں خصوصی سبسڈی کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے مثبت جواب اور یقین دہانی ہوجائے تو تمام سیاسی جماعتیں برسر اقتدار پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار کی مکمل حمایت کریں گے۔
جماعت اسلامی کی دعوت پربلائی گئی اس اجلاس میں لویر چترال اور اپر چترال کے اضلاع کے ضلعی سربراہ موجود تھے جن میں جماعت اسلامی کے لویر چترال کے وجیہ الدین اور اپر چترال کے اسد الرحمن، پی پی پی کے لویر چترال کے انجینئر فضل ربی جان، جے یو آئی کے لویر چترال کے مولانا عبدالشکور اور اپر چترال کے مولانا محمد یوسف، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لویر چترال کے عبدالولی خان ایڈوکیٹ اور اپر چترال کے سید احمدخان، اے این پی کے لویر چترال کے حاجی عیدالحسین اور اپر چترال کے شاہ وزیر لال جبکہ پی ٹی آئی کے لویر چترال کے جنرل سیکرٹری اور تحصیل چیرمین دروش سید فرید جان شامل تھے جبکہ ان کے علاوہ سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین اور مختلف سول سوسائٹی تنظیموں کے رہنما بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیسے کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا جائے گا جس کے لئے آپس میں اتحادو اتفاق کو قائم رکھیں گے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سید فرید جان نے انہیں اس بات سے اصولی طور پر اتفاق ہے لیکن یہ سیٹ چونکہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کو بلاوجہ نااہل کرنے سے خالی ہوئی ہے اس لئے چترال کے ننگ وناموس کی خاطر تمام جماعتیں اس جماعت کی امیدوار پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر (پی ٹی آئی کے اختلاف کے ساتھ) درج ذیل مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔
یہ کہ ہم سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مرکزی حکومت کی طرف سے چترال کے روڈوں اور دیگر مسائل کے حل کی یقین دہانی کی صورت میں مشترکہ امیدوار پر متفق ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اپنے درج ذیل مطالبات وزیر اعظم کے سامنے پیش کریں گے۔ جن میں لواری اپروچ روڈ، چترال شندور روڈ، ارندو روڈ، کلاش ویلی روڈ، گرم چشمہ روڈ، شیشی کوہ روڈ، تریچ روڈ، کھوت ریچ روڈ، لوکل بجلی کی رعایتی قیمت میں فراہمی اور موڑکہو پاؤر پراجیکٹ شامل ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ان مطالبات کی منظور ی اور ان کی تکمیل کی یقین دہانی کی صورت میں پی ٹی آئی کے علاوہ چترال کی تمام پارٹیز متفقہ طور پر ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔


