الخدمت فاونڈیشن لویر چترال کے زیر اہتمام والنٹئرز کی خدمات کے اعتراف میں تقریب
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) الخدمت فاونڈیشن لویر چترال کے زیر اہتمام 16مئی کو شاہی پولو گراونڈ چترال میں ‘بنوقابل’پروگرام کی ٹیسٹ منعقد کرنے کے سلسلے میں دن رات رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے والے وولنٹئرز کی خدمات کا اعتراف کرنے اور انہیں توصیفی سرٹیفیکیٹ دینے کے لئے خصوصی تقریب مرکز اسلامی دنین میں منعقد ہوئی جس میں ضلع بھر سینکڑوں مرد اور خاتون رضاکاروں نے شرکت کی۔اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کے نائب امیر مغفرت شاہ اور یونیورسٹی آف چترال کے شعبہ سوشیالوجی کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ، جماعت اسلامی لویر چترال کے امیر وجیہہ الدین، الخدمت فاونڈیشن لویر چترال کے صدر عبدالحق اور دوسروں نے توصیفی سرٹیفیکیٹ اور شیلڈ تقسم کئے۔
اس موقع پر مغفرت شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ موجودہ دور کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے الخدمت فاونڈیشن نے ‘ڈیجیٹل چترال ‘کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جس سے ہزاروں نوجوان خودروزگاری کے قابل ہوں گے اور جس احسن طریقے سے یہ معاملہ سرانجام دیا گیا، اس کا کریڈٹ تنظیم کے بے لوث رضاکاروں کو جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ نے کہاکہ پاکستان کی آبادی کا 65فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جوکہ اس قوم کے لئے سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب انہیں امپاور کرتے ہوئے انہیں آئی ٹی کی تعلیم دے کر ان کے سامنے منزل کی جہت کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ الخدمت فاونڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ضرورت کو پوری کرنے کے لئے چترال سے لے کر کراچی اور آزاد کشمیر تک نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم کی طرف راغب کیا جس کے دور رس ثمرات حاصل ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف چترال ایسے مثبت سرگرمیوں میں بھر پور مدد فراہم کرتی رہے گی جن میں نوجوانوں کی بہبود اور تعلیم وتربیت کا عنصر شامل ہوا ور فاونڈیشن کو ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ اس سے قبل اپنے خطاب میں ضلعی امیر وجیہ الدین نے ٹیسٹ کے لئے شاہی پولوگراونڈ میں 15ہزار سے ذیادہ نوجوانوں کی تاریخی اور منظم اجتماع پر الخدمت فاونڈیشن اور اس کے رضاکاروں کی کاوشوں کو داد دیتے ہوئے کہاکہ اس سے اگلے کا مرحلہ بھی اسی حسن وخوبی سے انجام پانا چاہئے جوکہ تربیت کی فراہمی کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رضا کار اسے تنظیم کے اثاثے ہیں جن کی حوصلہ افزائی کے لئے پروگرام منعقد کرنا فاونڈیشن کی ضلعی نظم کا احسن قدم ہے۔
اپنے خطاب میں ضلعی صدر عبدالحق نے کہاکہ اپنے نوعیت کا سب سے منظم اور عظیم الشان پروگرام کا انعقاد چترال کی تاریخ میں ایک منفرد ایونٹ ہے جس میں سینکڑوں رضاکاروں کی بے لوث قربانی اور جذبات شامل ہیں جس کا انعام روز محشر میں وہ اپنے رب سے وصول کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ الخدمت فاونڈیشن سات مختلف سیکٹروں میں بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی تھی جبکہ بنو قابل اس کا اٹھواں سیکٹر ہے جس کے ذریعے وہ ملک کے طول وعرض میں ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع آئی ٹی کی تعلیم کے ذریعے دینے کی سعی کررہی ہے۔ پروگرام کے شروع میں معروف عالم دین مولانا جمشید احمد نے فلاحی کاموں میں شرکت کی اہمیت پر قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق روشنی ڈالی۔
اس موقع پر بنو قابل پروگرام کی کامیابی میں نمایان کردار ادا کرنے والوں کو خصوصی شیلڈ بھی دئیے گئے جن میں الخدمت فاونڈیشن سکول قتیبہ کیمپس کے پرنسپل اخلاق الدین قاضی، تعمیر سیرت کے پرنسپل شازیہ، سعد بن شاہ، مستظہر باللہ اور دوسرے شامل تھے۔ رضاکاروں کو سول سوسائٹی کے مختلف تنظیموں کے رہنماؤں کے ذریعے سرٹیفیکیٹ دلوائے گئے جن میں قاری عبدالرحمن جمالی (نائب صوبائی صدر الخدمت فاونڈیشن)، الیاس احمد، عطاء حسین اطہر، صدر پریس کلب ظہیر الدین، شجاع الحق بیگ، سلیم الدین اور دوسرے شامل تھے۔




