The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 13 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آلائی، مولانا ولی داد اور برطانوی راج – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

آلائی، مولانا ولی داد اور برطانوی راج – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

آلائی، مولانا ولی داد اور برطانوی راج – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

آلائی، مولانا ولی داد اور برطانوی راج – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

تاریخ کے بڑے واقعات میں بعض کردار پس منظر میں رہ جاتے ہیں۔ نہ تاریخ کی بڑی کتابوں میں نمایاں جگہ ملتی ہے اور نہ قومی حافظے میں وہ مقام حاصل ہو پاتا ہے جس کے مستحق ہوتے ہیں۔ آلائی کے قاضی مولانا ولی داد بھی ایسی ہی ایک بھولی بسری شخصیت ہیں۔ اصل نام اللہ داد تھا، تاہم متحدہ ہندوستان کی برطانوی حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں ذکر ’’ولی داد‘‘ کے نام سے ملتا ہے۔ مقامی روایت میں ’’ولی داد مولا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیے جاتے رہے۔

لاہور کی مسجد شہید گنج کا تنازع ابتدا میں ایک مذہبی مقام کی ملکیت کا معاملہ تھا، لیکن 1935ء میں مسجد کی عمارت منہدم ہونے کے بعد یہ مسلمانوں کیلئے شدید اضطراب کی علامت بن گیا۔ لاہور سے اُٹھنے والی احتجاجی لہر پنجاب سے نکل کر ہزارہ کے سرحدی علاقوں تک پہنچی۔ یہاں مذہبی جذبات، قبائلی خودمختاری اور برطانوی اقتدار سے کشمکش ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ یوں شہید گنج کا معاملہ لاہور تک محدود نہ رہا بلکہ ہزارہ کے قبائلی ماحول میں بھی سیاسی بے چینی کو تقویت ملی۔

اسی پس منظر میں قاضی مولانا ولی داد کا نام برطانوی سرکاری ریکارڈ میں نمایاں ہوتا ہے۔ حکومتِ ہند کے سرحدی محکمے کی 1937ء کی ایک فائل میں انہیں ستمبر 1935ء کے ہزارہ سرحدی ہنگاموں میں نمایاں شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ اسی دستاویز میں ولی داد کی جانب سے آلائی کے علاقے میں حکومت مخالف تشہیر 1937ء میں دوبارہ شروع کیے جانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ یہ مختصر مگر اہم حوالہ اس امر کی شہادت ہے کہ برطانوی حکام اُنہیں ایک بااثر مقامی شخصیت سمجھتے تھے۔

ڈاکٹر فیوض الرحمٰن نے اپنی تصانیف میں مولانا ولی داد کا مختصر تذکرۂ کیا ہے۔ پیدائش 1901ء میں نیہر، آلائی لکھی اور موصوف کو بڑے مجاہد، مبلغ اور بدعات و رسومِ بد کیخلاف سرگرم مصلح قرار دیا۔ چونکہ یہ تذکرۂ مولانا ولی داد کی زندگی ہی میں لکھا گیا تھا، اِس لیے بڑھاپے اور ضعف کا بھی ذکر ملتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر فیوض الرحمٰن کے بیان میں برطانوی دور کی حکومت مخالف سرگرمیوں کا کوئی حوالہ موجود نہیں، جبکہ برطانوی سرکاری دستاویزات میں اس پہلو کی واضح جھلک ملتی ہے۔

مولانا ولی داد کی شخصیت کا نمایاں پہلو اصلاحِ معاشرہ تھا۔ مقامی روایات میں موصوف کو حق گو، بے باک اور نڈر عالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آلائی کے علاوہ اگرور، پکھلی اور ہزارہ کے دُوسرے علاقوں میں بھی تبلیغ و اصلاح کیلئے سفر کرتے تھے۔ بدعات اور ان رسوم کیخلاف موقف سخت تھا جو مقامی معاشرت میں مذہبی رنگ اختیار کرچکی تھیں۔ دینی حمیت اور اصلاحی جذبے نے قاضی مولانا ولی داد کو اپنے ماحول میں ایک بااثر مذہبی رہنما بنا دیا تھا۔

دستیاب برطانوی سرکاری ریکارڈ مولانا ولی داد کی حکومت مخالف سرگرمی کی تائید کرتا ہے، لیکن کسی مسلح کارروائی کو براہِ راست ثابت نہیں کرتا۔ تاہم ہزارہ سرحد کے اس ہنگامہ خیز دور میں قبائلی جتھوں کی نقل و حرکت، مختلف مقامات پر جھڑپوں اور برطانوی فوجی کارروائیوں کا ذکر معاصر ریکارڈ میں ملتا ہے۔ سر فضل حسین کی ڈائری میں بھی ہزارہ سرحد پر برطانوی بمباری کا ذکر موجود ہے۔ یہ شواہد اس زمانے میں علاقے کی کشیدہ صورتِ حال اور بڑھتے ہوئے تصادم کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

مقامی روایت قاضی مولانا ولی داد کے کردار کو ایک اور جہت سے پیش کرتی ہے۔ روایت کے مطابق مسجد شہید گنج کے واقعے کے بعد آلائی میں لوگوں کو منظم کیا گیا اور بعض افراد کیساتھ گاؤں پوکل میں غازی قلندر خان کے ہاں اجتماع ہوا۔ وہاں سے گابرئے کے راستے بٹل پہنچنے، لڑائی اور آتش زنی کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں شارکول کے مقام پر مولانا ولی داد چند ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے اور بٹل سے ایبٹ آباد جیل، پھر اوگی ایف سی فورٹ منتقل کیے گئے۔

بعد کے سرکاری ریکارڈ میں بھی ولی داد کی سرگرمیاں انتظامیہ کی توجہ کا مرکز رہیں۔ آلائی جیسے دور افتادہ قبائلی علاقے میں کسی مذہبی رہنما کی حکومت مخالف تشہیر برطانوی حکام کیلئے معمولی معاملہ نہیں تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر مولانا ولی داد کی آواز اثر رکھتی تھی اور مذہبی و قبائلی حلقوں میں اُن کی بات سنی جاتی تھی۔ یہی اثر پذیری اس دور کی سیاسی کشمکش کو سمجھنے میں ایک اہم حوالہ فراہم کرتی ہے۔

مولانا ولی داد 1979ء میں وفات پا گئے۔ زندگی دینی تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ اور اپنے علاقے کی مذہبی و سماجی زندگی میں اثرانداز ہونے سے عبارت رہی۔ دستیاب تذکروں میں ایک ایسے عالم اور مصلح کی تصویر سامنے آتی ہے جس نے اپنے گردوپیش کے مذہبی و سماجی مسائل کو میدانِ عمل بنایا۔ دوسری طرف برطانوی سرکاری ریکارڈ میں حکومت مخالف سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔ یوں قاضی مولانا ولی داد کی شخصیت دینی خدمات اور اپنے عہد کی سیاسی کشمکش، دونوں حوالوں سے اہم دکھائی دیتی ہے۔

قاضی مولانا ولی داد کی داستان اس زمانے کی یاد دلاتی ہے جب مذہبی جذبات، قبائلی خودمختاری اور برطانوی اقتدار کیخلاف بے چینی ایک دوسرے سے جڑ رہے تھے۔ شہید گنج کا واقعہ لاہور تک محدود نہ رہا بلکہ اسکی بازگشت ہزارہ کے پہاڑوں تک پہنچی۔ آلائی بھی اس کشمکش سے متاثر ہوا اور مولانا ولی داد اس ماحول میں ایک نمایاں مقامی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ اُن کی زندگی کا یہ باب آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ برطانوی راج کیخلاف اضطراب دور افتادہ پہاڑی علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔