The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 12 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اخوند سالاک اور یوسف زئی قبائل: ایک تاریخی اتحاد کی بنیاد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

اخوند سالاک اور یوسف زئی قبائل: ایک تاریخی اتحاد کی بنیاد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک اور یوسف زئی قبائل: ایک تاریخی اتحاد کی بنیاد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک اور یوسف زئی قبائل: ایک تاریخی اتحاد کی بنیاد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

حضرت اخوند سالاکؒ ایک صاحبِ بصیرت بزرگ، مجاہد اور داعی تھے جنہوں نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام، ظلم کیخلاف مزاحمت اور روحانی بیداری کیلئے وقف کر دی تھی۔ وہ نہ صرف دینی علوم کے ماہر تھے بلکہ عملی میدان میں بھی ایک متحرک شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ اُنکی یوسف زئی علاقوں میں آمد ایک غیر معمولی واقعہ تھی، جس نے مقامی قبائل کی دینی و سیاسی سمت کو نئی جہت دی اور ان کے اندر خودی، حمیت اور آزادی کا شعور بیدار کیا۔ اُنکی جدوجہد نے شمالی علاقوں میں فکری تحرک پیدا کی اور دین کیلئے ایک نئی روح پھونکی، جو آج بھی ان خطوں کی شناخت کا حصہ ہے اور ان کے مشن کی گہرائی، وسعت اور اثر پذیری کو ظاہر کرتی ہے۔

محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاکؒ کی یوسف زئی علاقوں کی طرف ہجرت سید عبدالوہاب المعروف اخوند پنجوؒ اور سید کستیر گل المعروف شیخ رحمکارؒ جیسے بزرگوں کے مشورے سے ہوئی۔ حضرت اخوند پنجو بابا نے اُنہیں جہاد کی اجازت دی اور سواری کے لیے ایک گھوڑا اور تلوار بطور تبرک عطا کی، جبکہ شیخ رحمکار (کاکا صاحب) نے دینی امداد فراہم کی۔ حضرت اخوند سالاکؒ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اکبر پورہ سے روانہ ہو کر شیخ رحمکار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دُعا و نصیحت حاصل کرنے کے بعد جہانگیرہ کے راستے دریائے کابل کو عبور کر کے رزڑ کے علاقے اباخیل پہنچے، جہاں اُن کی آمد نے ایک نئی دینی تحریک کو جنم دیا۔

اُس وقت تپہ رزڑ کے خان عمر خان بن احمد خان خضرزئی تھے، جو ایک نیک، صالح اور دُور اندیش شخصیت کے حامل تھے۔ اُنہوں نے اخوند سالاک کی آمد کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ اُن کی دینی و مجاہدانہ خدمات کو سراہتے ہوئے اُنہیں اپنے علاقے میں قیام کی دعوت دی۔ اخوند سالاک نے دعوت قبول کر لی اور اس خطے کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ اُن کے ساتھ آنیوالے افراد بھی اسی مقصد کے تحت شامل ہوئے، جن میں فقیر چنبل بیگ بھی شامل تھے، جنہیں کاکا صاحب نے خاص طور پر اُن کے ساتھ روانہ کیا تاکہ دینی مشن کو تقویت دی جا سکے اور قبائلی سطح پر اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔

موضع شوا (تپہ رزڑ، صوابی) میں قیام کے بعد اخوند سالاکؒ نے تمام قوم اباخیل اور قوم رزڑ کو مقام شیخ جانان پر جمع کیا۔ کاٹلنگ میں دیگر قبائلی لشکر بھی اکٹھے ہو کر اخوند سالاک کی قیادت میں پنجتار کیلئے روانہ ہوئے۔ اِس سفر میں خانِ رزڑ بڈو خان بھی حضرت اخوند سالاکؒ کے ہمراہ تھے۔ حضرت اخوند سالاکؒ اور یوسفزئی سردار بہاکو خان کی دوستی پرانی تھی، کیونکہ وہ اس علاقے میں جہاد کی غرض سے پہلے بھی آتے رہے تھے۔ پنجتار پہنچنے پر بہاکو خان بھی اُن کے ساتھ شاملِ لشکر ہوئے۔ وہاں سے حضرت اخوند سالاکؒ مجاہدین کے تمام لشکر کو لیکر ریاستِ ڈوما کی جانب روانہ ہوئے۔ ڈوما، تورغر، بونیر اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل ایک خودمختار مشرکانہ ریاست تھی، جس کا حکمران ’’ڈوما کافر‘‘ کہلاتا تھا۔

مجاہدین کے منظم لشکر کے ہمراہ اخوند سالاک اور بہاکو خان کی ڈوما کیخلاف شدید لڑائیاں ہوئیں۔ بالآخر ڈوما ریاست کے کافروں کو شکست دی گئی اور خود ڈوما بھی اس لڑائی میں مارا گیا۔ کافر قبیلے کے زندہ بچ کر بھاگ جانے والوں کا اخوند سالاک نے چترال اور گلگت تک پیچھا کیا۔ چترال میں عشریت کے مقام پر حضرت اخوند سالاکؒ نے مقامی نو مسلم سردار ’’چوک‘‘ کی مدد سے کفار کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں۔ راہلی کوٹ قلعہ اخوند ساالک اور چوک کی مشترکہ کاوشوں سے فتح ہوا، وہاں سے دیر و ڈنڈ کے جنگلات میں بھاگنے والے کفار کا تعاقب کیا گیا۔

حضرت اخوند سالاک اور سردار بہاکو خان پنجتار کا یہ اتحاد صرف ریاستِ ڈوما تک محدود نہ رہا بلکہ 1667ء کے اوائل میں ہونے والی چھٹی افغان مغل جنگ میں بھی قائم رہا۔ اس جنگ میں یوسف زئی قبائل نے اخوند سالاک اور بہاکو خان کی قیادت میں مغل افواج کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور اپنی دینی و قبائلی غیرت کا مظاہرہ کیا۔ یہ اتحاد نہ صرف عسکری میدان میں مؤثر ثابت ہوا بلکہ فکری سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام بن کر اُبھرا۔ دینی حمیت، قبائلی وفاداری اور سیاسی شعور پر مبنی یہ اشتراک اس خطے میں آزادی کی تحریک کو تقویت دینے والا ایک تاریخی تسلسل ثابت ہوا۔

ڈوما کیخلاف فتح کے بعد اخوند سالاک نے کابلگرام کو اپنی مستقل سکونت کے لیے منتخب کیا، جو جغرافیائی طور پر محفوظ، قدرتی حسن سے مالا مال اور دینی سرگرمیوں کے لیے موزوں مقام تھا۔ یہاں سے اُنہوں نے اپنے مشن کو منظم انداز میں جاری رکھا اور یوسف زئی قبائل کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کیا۔ اُن کی موجودگی نے اس علاقے میں دینی اثرات کو گہرا کیا، اور اُن کی روحانی حیثیت کو مزید مضبوط بنایا، جس سے اُن کے مشن کو وسعت ملی اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا۔ اُن کی تعلیمات اور عملی جدوجہد کے نتیجے میں شمالی علاقوں میں فکری بیداری کی نئی لہر دوڑ گئی، جو نسل در نسل دینی شعور کی بنیاد بنتی رہی۔

ریاستِ ڈوما کیخلاف تاریخی فتح کے بعد حضرت اخوند سالاک نے اپنے قریبی رفقا کو خصوصی انعامات سے نوازا۔ بہاکو خان پنجتار کو اپنی خاص تلوار عطا کی، عمر خان رزڑ شیوہ کو اپنا سجادۂ خاص مقرر کیا، جبکہ ایک خانِ رزڑ کو ڈوما کافر کی بیٹی اور دُوسرے کو اس کی بیوہ نکاح میں دی۔ روایت ہے کہ قبیلہ رانی زئی انہی خواتین کی اولاد ہے (واللہ اعلم)۔ یہ اقدام اخوند سالاک کی سیاسی بصیرت اور سماجی حکمت عملی کا مظہر تھا، جس کے ذریعے اُنہوں نے مفتوحہ علاقوں کو دینی و قبائلی نظام میں ضم کیا اور ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا، جو آج بھی ان علاقوں میں قائم ہے۔

اخوند سالاک نے اپنی زندگی میں نہ صرف یوسف زئی علاقوں بلکہ پکھلی، آلائی، نندھیار، کوہستان، تالاش، مستوج اور چیلاس تک کے کافر قبائل کو شکست دی اور انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ اُن کی دعوت و جہاد صرف عسکری مہمات تک محدود نہ تھی بلکہ روحانی اصلاح، دینی تعلیم اور سماجی نظم کی تشکیل پر بھی مرکوز رہی۔ اُن کی کوششوں نے شمالی علاقوں کو دینی و اخلاقی طور پر مستحکم کیا اور ان خطوں کو فکری و سماجی طور پر نئی شناخت عطا کی، جو آج بھی ان علاقوں کی ثقافت اور اجتماعی شعور میں جھلکتی ہے۔ یہ اُن کے مشن کی کامیابی کا زندہ ثبوت ہے، جسے تاریخ آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

اخوند سالاک اور یوسف زئی قبائل کا اتحاد محض وقتی اشتراک نہیں تھا بلکہ ایک ایسی تحریک کی بنیاد تھا جو ظلم، جبر اور بیرونی تسلط کے خلاف مزاحمت پر قائم تھی۔ یہ اتحاد دین، آزادی اور خودمختاری کے اُصولوں پر استوار تھا، جس نے قبائلی معاشرے کو فکری وحدت اور عملی یکجہتی عطا کی۔ اخوند سالاک اور بہاکو خان کی قیادت و بصیرت، اخوند پنجو اور شیخ رحمکار کی رہنمائی، اور یوسف زئی قبائل کی وفاداری نے اس اتحاد کو ایک تاریخی سنگِ میل بنا دیا۔ اس کی گونج آج بھی خیبر پختونخواہ کے پہاڑوں میں سنائی دیتی ہے، اور اس کی روشنی نسلوں تک پھیلتی رہے گی، جو ہر دور میں دین، غیرت اور آزادی کی علامت رہے گی۔