اخوند سالاک اور کوہستان کی اسلامی بیداری – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
کوہستان ایک وسیع اور متنوع خطہ ہے جو جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی لحاظ سے کئی رنگوں کا حامل ہے۔ عمومی طور پر اِس اصطلاح کا اطلاق شمالی پاکستان کے اُن پہاڑی علاقوں پر ہوتا ہے جہاں مختلف قبائل آباد ہیں۔ کوہستان کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: انڈس کوہستان، دیر کوہستان اور سوات کوہستان۔ ہر خطہ اپنی مخصوص تہذیب، زبان اور تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ اِس کالم کا موضوع انڈس کوہستان ہے، جسے مقامی زبانوں میں ’’اباسین کوہستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پشتو اور دیگر زبانوں میں دریائے سندھ کو ’’اباسین‘‘ کہا جاتا ہے، اور چونکہ یہ دریا اِس خطے کے وسط سے گزرتا ہے، اِس لیے اِس علاقے کو اباسین کوہستان کے نام سے موسوم کیا گیا۔
انڈس کوہستان، جسے اباسین کوہستان اور ہزارہ کوہستان بھی کہا جاتا ہے، تین اضلاع پر مشتمل ہے: اَپر کوہستان، لوئر کوہستان اور کولئی پالس کوہستان۔ اس کا جغرافیائی دائرہ گلگت بلتستان کے دیامیر اور تانگیر تک پھیلا ہوا ہے۔ اسلام کی روشنی اس خطے میں اُس وقت پہنچی جب صوفیاء کرام اور مجاہدین نے یہاں تبلیغی اور جہادی سرگرمیاں شروع کیں۔ اِس سلسلے میں سب سے اہم کردار حضرت اخوند پنجو بابا کا ہے، جنہوں نے اکبر پورہ پشاور میں قیام کے دوران اسلامی تعلیمات کی اشاعت کے لیے جہاد کا آغاز کیا اور اپنے خلفاء کے ذریعے مختلف قبائل کو منظم کر کے لشکر روانہ کیے۔
حضرت اخوند پنجو بابا نے اپنے خلفاء کو مختلف قبائل کی قیادت سونپی۔ حضرت اخوند سالاک کے جھنڈے تلے کرلانی قبائل کے آفریدی، خٹک، جدران اور اتمان خیل کے مجاہدین شریک جہاد ہوئے۔ اخوند ملامست کے پرچم تلے باجوڑ، مہمند، ترکلانی، شنواری، ملاگوری اور صافی قبائل کے غازی جمع ہوئے۔ سلطان محمود گدون نے جدون قوم کی قیادت کی، جبکہ اخوند محمد یونس گیلانی کو منڈر اور یوسف زئی قبائل کی قیادت سونپی گئی۔ ان نامؤر خلفاء نے اباسین کوہستان، سوات، دیر، باجوڑ اور کافرستان (نورستان) میں اسلام کی اشاعت کے لیے جنگیں لڑیں اور تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیا۔
کفار کیخلاف جہاد کا آغاز اخوند سالاک کی قیادت میں ریاستِ ڈوما سے ہوا۔ اس گھمسان کی جنگ میں ڈوما کافر کو شکست ہوئی، جس کے بعد کفار کا حوصلہ پست ہوا اور کوہستان میں اسلام کی اشاعت کا دروازہ کھل گیا۔ بعد ازاں اخوند سالاک اور دیگر بزرگانِ دین نے اسلام کی ترویج کا دائرہ وسیع کر کے دیر، سوات، کوہستان، گلگت اور چترال کے علاقوں تالاش، مستوج، کالاش، براہ ، پکھلی اور نندھیاڑ تک پھیلایا۔ ان مذہبی کاوشوں میں اخوند سالاک کے ساتھ ان کے بھائی اخوند سباک بھی شامل تھے۔ دونوں بزرگ تبلیغ، جہاد اور آزادی کے شیدائی تھے۔ ڈوما کی شکست کے بعد اخوند سالاک کو اخوند پنجو بابا کے مریدوں میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔
حضرت اخوند سالاک نے مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں کوہستان میں اسلام کی تبلیغ کی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اخوند سالاک اپنے لشکر کیساتھ شونڑی بابا کے دور میں کندیا آئے تھے۔ سترہویں صدی میں اخوند سالاک مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کوہستان پہنچے۔ وہ نہ صرف ایک روحانی پیشوا تھے بلکہ ایک عظیم عالم، ادیب اور مؤرخ بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اُنکی تصنیف ’’غزویہ‘‘ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو جہاد اور مزاحمت کی تفصیلی داستان بیان کرتی ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ کتاب صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ہزارہ، مردان، چترال، سوات، کوہستان اور گلگت کے معرکوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں مجاہدین کی بہادری، قربانیوں اور کفار کے خلاف سخت مزاحمت کا ذکر موجود ہے۔ یہ کتاب ان فراموش شدہ داستانوں کو زندہ رکھتی ہے جو مقامی قبائل کی جرأت و استقامت کی آئینہ دار ہیں۔
اخوند سالاک کے بعد بھی ان علاقوں میں اسلام کی ترویج کا سلسلہ جاری رہا۔ اباسین کوہستان میں اسلام پھیلانے والے دیگر بزرگانِ دین میں میاں بابا، باقی بابا، اخوند صادق بابا، سلیمان بابا، سید نور غازی شاہ اور سید قیاس الدین کے صاحبزادے سید ولی شاہ شامل ہیں۔ ان کی تبلیغی کوششوں سے ہزاروں افراد مشرف بہ اسلام ہوئے اور آج بھی ان علاقوں میں اسلامی تعلیمات کی گہری جڑیں موجود ہیں۔ اس خطے میں مختلف بزرگانِ دین کی آمد کا اثر مقامی سطح پر بھی نمایاں رہا۔ اباسین کوہستان کے بعض علاقے مخصوص اوصاف کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں: ’’بن کڈ‘‘ حسن و جمال، ’’رانولیا‘‘ توانا نوجوان، ’’پٹن‘‘ خیر و برکت، ’’کندھیا‘‘ لشکری تیاری، ’’کوئی‘‘ تلوار کی شہرت، ’’جالکوٹ‘‘ ضد و عناد، ’’پالس‘‘ بناؤ سنگھار، ’’دوبیر‘‘ جرگہ، اور ’’جاگ‘‘ چالاکی کے اعتبار سے معروف سمجھے جاتے ہیں۔
انڈس کوہستان کے مختلف علاقوں میں اولیاء اللہ کے مزارات آج بھی مرجع خلائق ہیں۔ پٹن میں نبیل بابا، مرچکے بابا اور میاں بابا؛ انولیا میں گنڈو بابا، بیلے بابا اور کنئی بابا؛ کوئی میں آبی تکیہ اور ٹسقو پیر؛ دوبیر میں شیخ دریا بابا، عبدالغفور اخون بابا اور بابا جی صاحب؛ کندیا میں شہید بابا؛ پالس میں خواجہ اخوند رفعان؛ اور غازی آباد میں غازی بابا کے مزارات واقع ہیں۔ اباسین کوہستان میں اخوند سالاک کے مریدین میں خواجہ اخوند رفعان کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے، جنہیں ’’اخوند دادو‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ایک جید عالم، ادیب اور مؤلف تھے جن کا مزار پالس میں واقع ہے۔ حضرت اخوند سالاک نے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں 1667ء میں وفات پائی۔ اُن کا مزار شانگلہ کے قصبے کابلگرام میں واقع ہے۔
