اخوند سالاکؒ کی بصیرت: یوسفزئی اور تنولی دشمنی کا اختتام – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
تاریخ کے صفحات پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ایسی بے شمار کہانیاں ملتی ہیں جہاں ذاتی انا، قبائلی تعصب اور اقتدار کی کشمکش نے اتحاد کی راہیں مسدود کر دیں۔ لیکن انہی کہانیوں کے درمیان ایک ایسی داستان بھی چھپی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے ایک صاحبِ بصیرت بزرگ نے اپنی روحانی حکمت سے صدیوں پر محیط دشمنی کو دوستی میں بدل دیا۔ یہ سترہویں صدی کی وہ گھڑی تھی جب تناول اور یوسفزئی قبائل کے درمیان تلواریں بے نیام تھیں، اور مغل نمائندے اس آپسی چپقلش کا فائدہ اُٹھا کر خطے میں اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے۔ ایسے میں شیخ محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاکؒ کی شخصیت ایک روشنی کی مانند اُبھری، جس نے نہ صرف دو بڑے قبائل کو قریب لایا بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل دیا۔
سولہویں صدی کے اختتام سے سترہویں صدی کے وسط تک تناول کی سرزمین مسلسل جنگوں کی لپیٹ میں رہی۔ یوسفزئی، جو ایک بڑا پختون قبیلہ تھا اور افغانستان سے ہجرت کر کے موجودہ خیبر پختونخواہ میں آباد ہوا تھا، تناول پر بار بار حملے کر رہا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تنولی قبیلہ مغل سلطنت کے حامی پکھلی سرکار کے ساتھ کھڑا تھا، جبکہ یوسفزئیوں کے مغلوں سے تعلقات کشیدہ تھے۔ سولہویں صدی کے اواخر میں یوسفزئی سردار علی اصغر المعروف ملک مصری خان کی قیادت میں ہونے والے ایک بڑے حملے نے تنولیوں کو بونیر اور مہابن کے کئی علاقوں سے محروم کر دیا، جس سے دونوں قبائل کے درمیان نفرت کی خلیج مزید گہری ہو گئی۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں پکھلی کے ترک راجاؤں نے تناول کے اندرونی علاقوں پر قبضہ جما لیا۔ اُنہوں نے یہاں دوسرے قبائل کو آباد کرنا شروع کر دیا، جس سے تنولیوں کی زمینیں محدود اور ان کی سیاسی حیثیت کمزور ہونے لگی۔ اس وقت کے تنولی سردار، ممارا خان (تپہ پلال) اور چاڑا خان (تپہ ہندوال) سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ ایک طرف یوسفزئیوں کی جارحیت تھی، اور دوسری طرف مغلوں کے حمایت یافتہ ریاستِ پکھلی کے ترک تنولیوں کی زمینوں پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تنولی قبائل کے دونوں سرداران کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اگر حالات یونہی رہے تو وہ اپنی ریاست، زمین اور شناخت سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔
اس نازک موقع پر تنولیوں نے ایک جرگہ بلایا تاکہ کوئی مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔ جرگے میں مولوی ابراہیم نامی ایک دانشمند شخص نے ایک غیر معمولی تجویز پیش کی: ’’کیوں نہ ہم کابلگرام کے اخوند سالاکؒ سے مدد طلب کریں؟ وہ ایک مستجاب الدعوات بزرگ ہیں، شاید اُن کی دعا سے ہمارے حالات بدل جائیں۔‘‘ جرگے نے اِس تجویز کو قبول کیا اور مولوی ابراہیم کو اس اہم مشن پر روانہ کیا گیا۔ جب وہ اخوند سالاک کے پاس پہنچے اور تناول کی حالتِ زار بیان کی، تو اخوند سالاک نے اُن کی دعوت قبول کی اور گاؤں عشرہ میں تشریف لائے۔ اُن کی آمد نے تنولی قبائل میں نئی اُمید کی کرن جگا دی۔
اخوند سالاک کی موجودگی نے تنولی قبائل میں ایک نئی روح پھونک دی۔ قبیلے کی دونوں بڑی شاخوں، پلال اور ہندوال، کے دونوں سرداران، ممارا خان اور چاڑا خان کی اخوند سالاک سے ملاقات ہوئی، جو تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ اس ملاقات میں اخوند سالاک نے دونوں سرداروں کو مشورہ دیا کہ وہ مغل سلطنت کے خلاف یوسفزئیوں کے ساتھ اتحاد قائم کریں۔ یہ تجویز غیر معمولی تھی، کیونکہ برسوں کی دشمنی کے بعد کسی بھی قسم کے اتحاد کا تصور کرنا دشوار تھا۔ مگر اخوند سالاک کی روحانی بصیرت، اعتماد اور الفاظ کی تاثیر نے سرداروں کو قائل کر لیا۔ اُنہوں نے دونوں سرداروں کو تلواریں عطا کیں اور کامیابی کے لیے دعا کی، جو اس نئے اتحاد کی علامت بن گئی۔
اخوند سالاک کی عطا کردہ تلواروں سے حوصلہ پا کر تنولی قبیلے نے مغلوں کے حمایتی پکھلی سرکار کے ترکوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ اگرچہ تعداد میں وہ صرف چار ہزار تھے، مگر اخوند سالاک کی دعا اور روحانی حمایت نے انہیں بارہ ہزار کے لگ بھگ مغلیہ سلطنت کے حمایت یافتہ پکھل سرکار کے ترکوں کے خلاف کامیابی دلائی۔ یہ فتح نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھی بلکہ اس نے تنولیوں کو اُن کی کھوئی ہوئی زمینیں واپس دلائیں اور یوسفزئیوں کے ساتھ ایک نئے تعلق کی بنیاد بھی رکھی۔ اخوند سالاک کی مداخلت نے دونوں قبائل کو یہ احساس دلایا کہ ان کی آپسی لڑائی ان کے زوال کا سبب بن رہی ہے، اور اتحاد ہی ان کا مستقبل ہے۔
اخوند سالاک کی بصیرت اور حکمت کا اثر بعد کے ادوار میں بھی برقرار رہا۔ احمد شاہ ابدالی کے دور میں، صوبہ خان تنولی کی قیادت میں تناول کو زبردست فروغ ملا، اور یوسفزئیوں نے دریائے سندھ کو قدرتی سرحد مان کر تناؤ کو ختم کر دیا۔ دونوں قبائل نے احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان پر مہم میں بھرپور حصہ لیا، جس سے ان کا اتحاد مزید مضبوط ہوا۔ پائندہ خان تنولی کے دور میں سکھ سرکار کے خلاف جدوجہد میں بھی یہ اتحاد قائم رہا، اور یوسفزئیوں نے پائندہ خان کو بونیر پر حکومت کی دعوت دے کر دوستی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔ اخوند سالاک کی بصیرت، حکمت اور روحانی اثر نے ان قبائل کو دشمنی سے نکال کر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔
