اخوند سالاک اور بہاکو خان کی مغلوں کیخلاف تاریخی جدوجہد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
مغل دورِ حکومت میں مختلف علاقے سیاسی و مذہبی کشمکش کا شکار رہے، جہاں کئی ایسی تحریکیں اُبھریں جنہوں نے نہ صرف عسکری محاذ پر مزاحمت کی بلکہ فکری، دینی اور سماجی بیداری کی بنیاد بھی رکھی۔ انہی تحریکات میں ایک مؤثر اور ہمہ جہت جدوجہد اخوند سالاک اور یوسفزئی سردار بہاکو خان کی قیادت میں سامنے آئی، جس نے ظلم و جبر کے خلاف علم بلند کرتے ہوئے قبائلی اتحاد اور اسلامی بیداری کی ایسی تاریخ رقم کی جو آج بھی مثال سمجھی جاتی ہے۔ اِس تحریک کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب اکبر پورہ میں مقیم بزرگ ولی، سید عبدالوہاب المعروف اخوند پنجو بابا نے مختلف قبائل میں دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ جہاد کا پیغام عام کیا۔
اخوند پنجو بابا نے نہ صرف اپنے خلفاء کو دینی علوم کی اشاعت کا فریضہ سونپا بلکہ انہیں قبائلی لشکروں کی قیادت پر بھی مامور کیا تاکہ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ظلم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اِس تحریک میں مختلف قبائل نے اپنی علیحدہ قیادت اور مرکز کے تحت شمولیت اختیار کی۔ شیخ محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاک کی قیادت میں کرلانی قبائل جیسے آفریدی، خٹک، جدران اور اتمان خیل شریک ہوئے، جن کا مرکز کاٹلنگ میں تھا۔ اسی طرح اخوند ملا مست زمند کے پرچم تلے باجوڑ، مہمند، ترکلائی، شنواری، ملاگوری اور صافی قبائل مجتمع ہوئے، جبکہ جدون قبیلے کی سالار و منصور شاخیں سلطان محمود گدون کی قیادت میں سرگرم ہوئیں۔
طورودھیری میں اخوند محمد یونس گیلانی کی قیادت میں منڈر اور یوسفزئی قبائل کے مجاہدین نے اپنی صف بندی کی۔ ان تمام قبائلی لشکروں کو منظم کرنے کے بعد مشترکہ عسکری اور روحانی قیادت اخوند سالاک کو سونپی گئی، جو نہ صرف علم و تقویٰ کے نمائندہ تھے بلکہ ایثار، فہم و فراست اور جرأت کے اعتبار سے بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی دعوتی اور جہادی سرگرمیوں کا دائرہ مردان سے لے کر گلگت تک وسیع کیا اور روحانی تعلیمات کیساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی اثر انگیز کردار ادا کیا۔ اُنکے ساتھ ملا مست زمند جیسے بلند پایہ عالم و شاعر کا فکری اشتراک بھی شامل رہا، جنہوں نے تحریک کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ملا مست زمند کی پشتو زبان میں لکھی گئی کتاب ’’سلوک الغزاۃ‘‘ صرف ایک شعری مجموعہ نہ تھی بلکہ ایک مکمل نظریاتی منشور تھا جس میں اخوند سالاک کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جہاد کی دعوت دی گئی اور عوام میں دینی و قومی شعور بیدار کیا گیا۔ اس فکری بنیاد کے نتیجے میں تحریک کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور 1644ء میں اس کا نقطۂ عروج آیا جب اخوند سالاک اور بہاکو خان نے ریاستِ ڈوما کے خلاف متحدہ قبائلی لشکر کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا۔ یہ ریاست اس وقت کالا ڈھاکہ (موجودہ تورغر) اور گرد و نواح کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل تھی، جہاں ایک غیر مسلم حکمران کی عملداری تھی، جسے عوام ’’ڈوما کافر‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔
جب مسلمان لشکر نے ڈوما کے خلاف پیش قدمی کی تو مغل حمایت یافتہ پکھلی ریاست کے ترک حکمران اس کی مدد کو پہنچے۔ اخوند سالاک نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے تنولی قبیلے کی مدد سے ترک کمک کو راستے میں ہی روک دیا۔ تنولی قبائل کی زبانی روایات کے مطابق، اخوند سالاک کو خود ’’کنگ ڈوما‘‘ نے میدانِ جنگ میں چیلنج کیا تھا۔ اگرچہ ڈوما کا قلعہ نہایت مضبوط تصور کیا جاتا تھا، لیکن مجاہدین کے حوصلے، ایمان اور نظم و ضبط نے ایک ناقابلِ یقین فتح کو ممکن بنا دیا۔ عیسیٰ زئی قبیلے کی حسن زئی شاخ کے ایک جانباز کے تیر سے ڈوما مارا گیا، جس کے بعد قلعہ کی دیواریں گر گئیں اور لشکر اسلام کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی۔
فتح کے بعد مختلف یوسفزئی قبائل جیسے خدوخیل، عیسیٰ زئی، امان زئی، چغرزئی، مخوزئی، بابوزئی، جنگی خیل اور عزی خیل کو ان علاقوں میں آباد کیا گیا۔ شکست خوردہ ڈوما قبائل چترال اور دیگر شمالی پہاڑی علاقوں کی طرف فرار ہو گئے، جن کا پیچھا اخوند سالاک نے اپنے ایک قریبی حلیف، نو مسلم چوک سردار کے تعاون سے جاری رکھا۔ اس کامیابی نے تحریک کو نئی توانائی بخشی، لیکن مغلیہ سلطنت کے لیے یہ پیش رفت خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئی۔ پکھلی کے ترک حکمرانوں نے دوبارہ اپنی عسکری صف بندی شروع کی تاکہ تحریک کا زور توڑا جا سکے۔ اخوند سالاک نے 1646ء میں ان کے خلاف ایک منظم عسکری مہم شروع کی اور ترکوں کو ہزارہ کے دیگر علاقوں اور گرد و نواح کے پہاڑوں میں دھکیل دیا۔
جب اخوند سالاک تبلیغی و اصلاحی مشن میں مصروف تھے تو مخالف قوتیں ایک بار پھر مجتمع ہو گئیں، جس کا ادراک کرتے ہوئے اُنہوں نے 1667ء میں سواتی اور یوسفزئی قبائل پر مشتمل پانچ ہزار کا لشکر تیار کیا۔ اس لشکر نے تھاکوٹ کے قریب ترکوں کے مضبوط قلعہ جھاچھل یا چھانچل پر کامیاب حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد مجاہدین نے دریائے سندھ عبور کیا اور ریاست پکھلی پر دوبارہ حملہ کر کے ترک حکمرانوں سے اقتدار چھین لیا۔ مغل تاریخ میں 15 جنوری 1667ء سے 3 فروری 1668ء تک کے درمیان ہونیوالے واقعات میں اخوند سالاک کی عسکری سرگرمیوں کا ذکر آتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مقامی سطح سے بلند ہو کر مغلیہ سلطنت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے تھے۔
اخوند سالاک کی وفات کے حوالے سے مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے اُن کا سال وفات 1067ھ (1658ء ) بیان کیا ہے، تاہم واقعاتی تسلسل اور دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تاریخ ایک قلمی یا حسابی غلطی پر مبنی ہے۔ کئی مستند مؤرخین نے ان کا سال وفات 1077ھ (1667ء ) ہی تسلیم کیا ہے، کیونکہ اس کے بعد ان کی کوئی سرگرمی، معرکہ یا دعوتی مہم تاریخ کے اوراق میں درج نہیں ملتی۔ 8 ذوالقعدہ 1077ھ بمطابق 2 مئی 1667ء کے بعد مغلیہ سرکاری ریکارڈ میں بھی اُن کا کوئی ذکر موجود نہیں، جو اِس بات کو تقویت دیتا ہے کہ وہ اسی سال وفات پا گئے۔ اُن کی وفات کے بعد ترک حکمرانوں نے وقتی طور پر دوبارہ اقتدار حاصل کیا، لیکن 1703ء میں سید جلال بابا کی قیادت میں سواتیوں نے ترکوں کو شکست دے کر انہیں تناول اور ہزارہ کے دیگر پہاڑی علاقوں میں محدود کر دیا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں ترکوں نے ’’راجہ‘‘ کہلا کر عملداری قائم رکھی، مگر اُن کی مرکزی حیثیت ختم ہو چکی تھی۔
اخوند سالاک کی تحریک ایک ایسی ہمہ جہت تحریک تھی جو محض جنگ و قتال تک محدود نہ تھی، بلکہ اس میں فکری قیادت، دینی بیداری، قبائلی اتحاد اور دعوتِ اسلام کے عناصر شامل تھے۔ اُنہوں نے مختلف قبائل کو ذاتی مفادات سے بلند کر کے اجتماعی مقصد کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ اُن کی قیادت میں قبائلی لشکروں نے نہ صرف مغل اور ترک حکمرانوں کو چیلنج کیا بلکہ اسلامی شعور اور پیغام کو دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچایا۔ اُن کے بعد اُن کے خلفاء، رفقاء اور قبائلی اتحاد نے بھی اس مشن کو جاری رکھا۔ آج بھی ان کی جدوجہد محققین اور مورخین کے لیے ایک مثالی، روشن اور سبق آموز باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
