The Voice of Chitral since 2004
Monday, 17 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اخوند سالاک اور بہاکو خان: مغلوں کے خلاف مزاحمت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

اخوند سالاک اور بہاکو خان: مغلوں کے خلاف مزاحمت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک اور بہاکو خان: مغلوں کے خلاف مزاحمت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند سالاک اور بہاکو خان: مغلوں کے خلاف مزاحمت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

مغل یا تیموری عہد کی تاریخ عموماً بادشاہوں، فتوحات اور درباری سیاست کے حوالے سے بیان ہوتی ہے، مگر افغانستان اور سرحدی خطے (موجودہ خیبر پختونخواہ اور پاک افغان سرحدی پٹی) کی تاریخ کا اہم رُخ علما، صوفیا اور قبائلی زعما کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ افغان مؤرخ عبدالحئی حبیبی نے اپنی فارسی کتاب ’’تاریخ افغانستان در عصر گورکانیان (تیموریان) ہند‘‘ میں اس دور کے ایسے واقعات محفوظ کیے ہیں جو مقامی معاشرے کی فکری اور سیاسی کیفیت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ حضرت اخوند پنجو، سلطان محمود گدون، اخوند سالاک اور بہاکو خان اسی تاریخی ماحول کی نمایاں شخصیات ہیں۔ ان کے کردار مختلف ضرور تھے، مگر ان سب کی سرگرمیوں میں مذہبی قیادت، علمی روایت اور مغل اقتدار کے مقابل مقامی مزاحمت کے عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

سید عبدالوہاب المعروف اخوند پنجو کی شخصیت اس روایت کے علمی پہلو کو خاص طور پر نمایاں کرتی ہے۔ اُنہوں نے دینی علوم کی ترویج، روحانی تربیت اور مقامی زبان و ادب کے فروغ کے ذریعے اپنے اثرات کو وسعت بخشی۔ اُن کے مریدوں کا دائرہ دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا تھا اور نامؤر قبائلی شخصیات ان سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ وہ پشتو میں گفتگو کرتے، فارسی میں شعر کہتے اور ہندی زبان سے بھی واقف تھے۔ فقہ کی معروف کتاب ’’کنز الدقائق حنفی ‘‘کو پشتو میں منظوم کرنا اُن کے علمی مزاج کی روشن مثال ہے۔ مغل بادشاہ اکبر کی اکبرپورہ میں اخوند پنجو سے ملاقات اُن کے روحانی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے، جس نے اس خطے میں ایک منفرد علمی ماحول تشکیل دیا۔

سلطان محمود گدون کا اثر اباسین (دریائے سندھ) اور کوہِ مہابن کے درمیانی علاقوں میں تھا۔ وہ عالم اور پاکیزہ سیرت شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ اسی وسیع فکری و روحانی ماحول میں اخوند پنجو، سلطان محمود گدون،اخوند سالاک اور بہاکو خان کو اسی مسلسل تاریخی روایت کے مختلف نمائندوں کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ ان تمام بزرگوں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں معاشرتی اصلاح اور فکری بیداری کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں، جن کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔ ان شخصیات کا یہ سلسلہ قبائلی معاشرے کی فکری اور دینی تعمیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

اسی تاریخی فضا میں اخوند سالاک اور اُن کے بھائی اخوند سباک کا کردار زیادہ فعال، دعوتی اور عسکری صورت میں سامنے آتا ہے۔ دونوں خٹک قبائل کے پیشوا تھے اور چغرزئی، اباسین، ہزارہ اور بونیر کے علاقوں میں سرگرم رہے۔ اُن کے ساتھ جمیل بیگ خان خٹک، عمر خان (رئیسِ شیوہ) ، شیخ جانان اور بہاکو خان (رئیسِ پنجتار) جیسے مقامی رہنما بھی شریک تھے۔ پکھلی، آلائی اور چیلاس کے علاقوں میں دعوتِ اسلام اور قبائلی روابط کا ذکر بھی اسی سلسلے میں ملتا ہے۔ شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحب ؒکی رفاقت اس تحریک کے مذہبی پہلو کو مزید نمایاں کرتی ہے، جہاں عسکری جدوجہد اور دعوت ساتھ ساتھ چلیں۔

اس تحریک کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ اسکے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ علم و ادب نے بھی اجتماعی شعور کی تشکیل میں حصہ لیا۔ اخوند سالاک کے پیروکار ملا مست زمند نامؤر عالم، ادیب اور شاعر تھے۔ اُنہوں نے ’’سلوک الغزات‘‘ نامی کتاب تصنیف کی، جس میں اپنے پیشوا کی مدح کے ساتھ جہاد کی ترغیب دینے والے اشعار شامل تھے۔ خود اخوند سالاک سے بھی فتاویٰ غریبہ، بحر الانساب (نسب ناموں کا سمندر) اور مناقبِ اخوند پنجو جیسی کتابیں منسوب ہیں۔ ان تصانیف کے موضوعات فقہ، انساب (خاندانی شجرے) اور سوانح تک پھیلے ہوئے تھے، جو اس دور میں قلم، شاعری اور عمل کی وحدت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔

اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں مغل اقتدار اور مقامی قبائلی قوتوں کے درمیان کشمکش نے ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کی۔ 1077 ہجری میں اخوند سالاک نے بہاکو خان اور دوسرے یوسف زئی و خٹک سرداروں کیساتھ ملکر مغل افواج کا مقابلہ کیا۔ اسی سال شوال میں ایک شدید معرکے کا ذکر ملتا ہے جس میں مقامی جنگجوؤں نے مغل فوج کیخلاف سخت مزاحمت کی۔ اس واقعے کو محض ایک جنگی تصادم سمجھنا اسکے وسیع تر پس منظر کو محدود کردینا ہوگا۔ پہاڑی قبائل کیلئے اپنا مقامی نظم اور مذہبی قیادت برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا تھا، جبکہ مغل حکومت سرحدی علاقوں میں اپنی انتظامی گرفت مضبوط کرنا چاہتی تھی۔

تحریکِ اخوند سالاک و بہاکو خان کی تاریخی اہمیت اسی جامع پس منظر میں سامنے آتی ہے جہاں سرحدی آبادی نے اپنی ثقافتی شناخت کے تحفظ کیلئے مختلف ذرائع اختیار کیے۔ کہیں مدرسہ اور خانقاہ فکری مرکز بنے، کہیں شاعری نے اجتماعی احساس کو زبان دی اور کہیں قبائلی قیادت نے عسکری مزاحمت کی۔ اس روایت کو جدید قومی اصطلاحات میں بیان کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اس عہد میں مزاحمت کے محرکات قبائلی خود اختیاری اور مذہبی وابستگی سے جڑے ہوئے تھے۔ تاہم یہ حقیقت اہم ہے کہ مغل مرکزیت کے مقابل ایک مضبوط مقامی شعور موجود تھا، جو اس پورے خطے کی تاریخ کا ایک قابلِ توجہ اور درخشاں باب شمار ہوتا ہے۔

یہ تمام تاریخی تفصیلات ہمیں اسی مابعد منظر اور فکری ورثے سے آگاہ کرتی ہیں جسے محقق علامہ عبدالحئی حبیبی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب میں محفوظ کیا ہے۔ اُن کی یہ کاوش ہمیں اِس بات کا گہرا ادراک عطا کرتی ہے کہ سرحدی خطے کی تاریخ صرف حکمرانوں کے محلات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں ان گنت صوفیا، علما اور مجاہدین کا خونِ جگر شامل تھا۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ افغان و سرحدی خطے کی عوام نے ہر دور میں اپنی آزادی، فکری بیداری اور دینی شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے جو گراں قدر قربانیاں دیں،اُن کی جدوجہد اور قربانیوں کی روشن شہادت تاریخ کے صفحات میں آج بھی محفوظ ہے۔