ایک سفر دو زبانیں دو ذائقے – پروفیسر اسرار الدین
.
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی (ستارہ امتیاز) کا کھوار سفر نامہ ” سیئل دویو” میرے سامنے ہے۔ یہ ان کا تیسرا سفر نامہ اور گیاروین کتاب ہے۔ ان کے علاؤہ تین کتابوں کے شریک مصنف رہے۔ ان کے دیگر رشحات قلم میں 37 مقالی اور 9400 اخباری کالم شامل ہیں۔ نیز ان کی 4 کتابیں زیر طبع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے زور قلم اور زیادہ۔
کتاب کے پبلشر کھوار زبان کے مشہور و معروف اشاعتی اداره میر پبلکیشن ہے۔ جس نے اس سے پہلے کھوار زبان میں تین کتابیں شایع کی ہیں۔ اور کئی سالوں تک کھوار رسالہ کھوار نامہ ” شائع کرتا رہا ہے۔
اس کتاب کے آنے کے بعد کھوار ادب میں کھوار زبان پر نثری کتابوں کی تعداد تقریبا” دس بنتی ہے۔ جبکہ کھوار شاعری پر کتابوں
کی تعداد تقریباً 50 ہے۔ اس طرح کھوار نثری ادب کی کوتاہ دامنی سامنے آجاتی ہے۔ جس پر جتنا بھی افسوس کریں کم ہے۔ ایک ماہر زبان سے جب میں نے اس بات کا تذکرہ کیا۔ تو اس نے افسوس سے کہا۔ کہ اس طرح یہ یہ زبان کبھی کبھی بھی ترقی نہیں کر سکیگی۔ ماہرین زبان ہمیں بتاتے ہیں۔ کہ نثری ادب میں فصاحت و بلاغت کے علاوہ بیانیه، مکالمہ نگاری، تنقیدی تجزیہ اور خطابت جیسے مختلف اسالیب پروان چڑھتے ہیں۔ ہر صنف نثر (ناول. افسانہ، مضمون مقالہ وغیرہ) زبان کو ایک نیا آہنگ اور نیا مزاج عطا کرتی ہیں جس سے زبان میں جمود نہیں رہتا۔
ان حقائق کی روشنی میں کھوار نثری ادب پر چھپی ہوئی کتابوں پر اگر ہم نگاہ ڈالیں۔ تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
مندرجہ بالا باتیں برسبیل تذکرہ آپ سے شیئر کیا۔ اب کتاب سیئل دویو کی طرف آتے ہیں۔ جو ہمارا اصل موضوع ہے۔
اس سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے اسی سفر پر اردو زبان میں وسعت صحرا کے نام سے سفر نامہ لکھا تھا . جس میں اٹلی کے شہر روم اور فلورنس.سپین یا ہسپانیہ کے شہر قرطبہ اور غرناطہ اور واپسی پر قطر کے حالات خوبصورت انداز میں بیان کیا تھا۔ اب انہی مقامات کے اپنے سفر نامہ کے حالات ” سیئل دویو ” کے ٹائٹل سیکھوار زبان میں پیش کر رہے ہیں. یہ کھوار زبان میں پہلا سفر نامہ ہے۔
ممکن ہے کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہو کہ سیئل دویو ” ” وسعت صحرا ” کا کھوار ترجمہ ہوگا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔ بلکہ سہیل دویو پڑھتے ہوئے ایک دلچسب احساس پیدا ہوتا ہے۔ کہ مصنف صرف روم، فلورنس، قرطبہ، غرناطہ اور قطر کا سفر طے نہیں کر رہا۔ بلکہ ان مقامات کو اپنے ساتھ لے کر کھوار زبان اور چترالی ثقافتی حافظے میں داخل کر رہا۔ اور یہی اس کتاب کی ایک نمایاں انفرادیت ہے۔
ڈاکٹر فیضی صاحب کا اردو والا سفر نامہ “وسعت صحرا ” اردو زبان کی ادبی روایت محاورے اور اردو زبان دان قاری کے ذہنی تناظر کے ساتھ سانے آتا ہے – لیکن کھوار میں آکر اس کے مناظر ایک نئی ثقافتی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ مثلاً روم کے منظر کو بیان کرتے ہوئے کھوار کے پرانے گیت کے الفاظ یاد کرتے ہیں ” تو مصر کی ملکہ، میں روم کا دروویش – تو یونان کا طبیب میں روم کا مریض…. ” یوں روم ایک دور افتاده شہر نہیں ریتا بلکہ کھوار ادب کے شعری حافظے میں پہلے ہی موجود ایک مانوس منظر ہوتا ہے۔
ھینڈریان ویلا میں چترال کے مایون پرندے کی مشابہہ کوکسی پرندے کی چہچہاہٹ کو چترال کے ایک گیت سے جوڑ لیتے ہیں۔ ” باغ میں گیا تو وہاں ایک طوطی خوبصورت اواز میں چہچہا رہا تھا۔”
مغربی دنیا میں گرمیوں کے زمانے میں سمندروں کے ساحل ایسے مناظر پیش کرتے ہیں۔ مرد و زن اپنے خاص انداز میں ساحلوں پر جا کے شمسی غسل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اس زمانے میں وہاں کی حسیناوں کی جھرمٹ اسمانی پر یوں کی مانند فطرتی لباس میں ان ساحلوں پر اترتی ہیں۔ اس منظر کے حسب حال مصنف کو کھوار کا یہ گیت یاد آجاتا ہے۔
” ہوش کرو – گھر سے باہر مت نکلو – اسمان پری کی بیٹی زمین پر اتر آ رہی ہے-” اسی طرح دنیا سے بیزار امان کے گیت کا ذکر بھی بہت ہی مناسب ہے۔ کہ اس گیت کے حوالے سے یورپی ساحل کے منظر کو چترالی شعری احساس سے جوڑا جا رہا ہے۔ یعنی
” امان اپنا ژندہ اٹھاکے ساحل پر سونے جا رہا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا رقیب تلوار لے کے اس کے قتل کرنے کے درپے ہے۔
غرناطہ اور قرطبہ کے تاریخی شہروں کو دیکھ کر مصنف دم بخود ہو جاتا ہے۔ اور اقبال الدین سحر کا یہ شعر یاد کرکے اس کا مفہوم جاننے لگ جاتا ہے۔
” دل بادشاہ اور عقل علام اسی کا رہے گا۔
دل کے سامنے عقل کی شکست مقدر ہے”
صحرا و بیابان میں جنگل میں منگل کی مثال قطر میں جب واپسی کے سفر میں پیش آجاتا ہے۔ تو غلام رسول بیقرار کے اس شعر کا مفہوم اس کے سامنے وا ہوجا تا ہے۔
” بہار کے آنے سے چمن میں رنگینی اور خوشو پھیل جاتی ہے۔ میرا پاگل دل بھی عجیب ہے۔ کہ اسکو چھوڑ کے مجھے بیابان میں لے جانے کا شوق دلا تا ہے ”
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ سیئل دو یو محض مقامات کی روداد نہیں۔ بلکہ ثقافتی حافظے کا سفر ہے۔ مصنف جہاں جاتا ہے۔ وہاں کی تاریخ جغرافیہ اور حسن کو دیکھتا ہے. مگر اسے محسوس کرنے کے لئے اس کے اندر چترال۔ کھوار زبان، مقامی شاعری اور اپنی تہذیی یادیں بھی ساتھ چلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور دیس کے مناظر کھوار قاری کے لئے اجنبی نہیں رہتے۔ وہ اپنی زبان کے استعاروں، گیتوں اور شعری حوالوں کے ذریعہ مانوس اور قابل احساس بن جاتے ہیں اس اعتبار سے اردد اور کھوار دونوں صورتوں میں سفر نامہ ایک ہی سفر کی داستان ہوتے ہوے بھی ایک جیسا نہیں رہتا، بلکہ زبان صرف الفاظ کا لباس نہیں بدلتی۔ وہ منظرکو دیکھنے کا زاویہ بھی بدل دیتی ہے۔ سیئل دویو اس حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے