ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – ایک درخت کی فریاد – تحریر: عبد الباقی چترالی
آج حسب معمول کام کاج سے فارغ ہو کر شام کے قریب چار دیواری میں داخل ہوا تو سب سے پہلے میرے نظر اخروٹ کے درخت پر پڑے جسے سارے اخروٹ گرائے گئے تھے اور پتے زمین پر بکھرے پڑے تھے ۔اخروٹ کا درخت اپنے پھلوں اور پتوں کی جدائی سے بہت افسردہ دیکھائی دے رہے تھے ۔اور ہم سے شکوہ کناں تھے۔ گرمیوں کے موسم میں میرے سائے میں چارپائی بچھا کر آرام کرتے ہو۔میں تمہیں دھوپ اور گرمی سے بچاتا ہوں ،راحت اور ٹھنڈک پہنچاتا ہوں، گرمیوں کے موسم میں میرے چھاؤں میں بیٹھ کر سکوں کی نیند سوتے ہو۔کبھی ہمیں کاٹ کر اپنے لئے فرنیچر اور ضرورت کی دوسری چیزیں بناتے ہو۔
کبھی ہمارے شاخوں کو کاٹ کر جلانے کے لئے استعمال میں لاتے ہو۔ہماری چھالوں کا دنداسا بنا کر اپنے میلے، پیلے دانت صاف کرتے ہو اور ہمارے پھل کھاتے ہو۔اس کے علاؤہ بھی انسان اور پرندے ہم سے بے شمار فوائد حاصل کرتے ہیں ۔لیکن ہماری ضرورتوں کا خیال نہیں رکھتے ہو۔ نہ گرمیوں کے موسم میں ہمیں بروقت پانی دیتے ہو اور نہ ہی ہمارے جڑوں میں کھاد ڈالتے ہو اور نہ ہماری حفاظت کا خیال رکھتے ہو۔ ہم سے بے شمار فوائد حاصل کرنے کے باوجود ہم پر ڈھنڈا برساتے ہو اور پھتر مارتے ہو۔تم لوگوں کو ہم پر ذرا بھی رخم نہیں آتا ہے، ہم بھی جاندار ہیں کوئی بےجان پھتر تو نہیں ۔
آج ہم سے ایسے کیا جرم سرزد ہوئی کہ تمہارے سرکش لڑکوں نے ہم پر اتنے زور سے ڈھنڈے برسائے کہ ہم زخموں سے چور چور ہوگئے ۔میری پتے مجھ سے جدا ہو کر زمین پر بکھر گئے ۔لوگ میرے جگر کے ٹکڑوں کو میرے آنکھوں کے سامنے پاؤں سے کچل رہی ہیں ۔کیا تم لوگوں کا ہمارے ساتھ کوئی پرانی خاندانی دشمنی ہے؟ جب سے ہم جوان ہو کر پھل دینے لگے ہیں ہر سال ہمارے ساتھ یہ زیادتی اور ناانصافی ہو رہی ہے۔ اگر تمہیں یقین نہیں آ رہا ہے تو اپنے ہمسائیوں اور راہگیروں سے پوچھو کہ آج تمہارے سرکش لڑکوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔آج کا انسان کتنا احسان فراموش ہے کہ ہم سے بے شمار فائیدہ حاصل کرنے کے باوجود ہم پر ڈھنڈا برستا ہےاور پھتر مارتے ہیں ۔
اخر تم بھی تو انسان ہو اللّٰہ تعالیٰ نے تم کو عقل دے کر تمام انسان سے ممتاز کر دیا ہے ۔ خود ہی سوچو اگر تمہارے ساتھ کوئی ایسے زیادتی کرے تو اس وقت تمہارے جذبات اور احساسات کیا ہونگے ؟ آپ لوگوں کو اخروٹ کی ضرورت تھی تو درخت پر چڑھ کر میرے شاخوں کو ہلا دیتے پکے ہوئے اخروٹ نیچے گر جاتی آپ کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی۔ بدماشون کی طرح ہم پر ڈھنڈا برسانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب چند دن اور انتظار کرتے تو کونسی قیامت آجاتی تھی اخروٹ پک کر خود نیچے گر جاتی ۔ہم اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں اور ناانصافیوں کو صبر تحمل سے برداشت کرتے ہیں ۔
انسانوں کی طرح فوری لڑتے جھگڑتے نہیں ہیں ۔ہمیں یہ احساس ہے کہ تم محنت و مزدوری سے تھکے ہوئے آئے ہو ،تمیں بھوک اور پیاس بھی لگ رہی ہے ۔مگر ہم بھی مجبور ہیں کہ ہم کب تک اپنی ساتھ ہونے والے زیادتیوں کو برداشت کرتے رہیں گے ۔ہم بےبس ہو کر اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کے بارے فریاد کر رہی ہیں کہ آپ اپنے گھر والوں ،محلہ والوں اور دوسرے لوگوں کو سمجھائے کہ ان کو اخروٹ اتارنا ہو وہ پتھر نہ مارے، ڈھنڈا نہ برسائے بلکہ درخت پر چڑھ کر شاخوں کو ہلا دے اور سارے اخروٹ نیچے گر جائیں گے ۔آپ لوگوں کا مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور ہمیں بھی تکلیف نہ ہو گی۔
