چترال کے سرکاری ملازمین کا پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ، مطالبات منظور نہ ہونے پر مکمل تالا بندی کی دھمکی
۔
چترال (نمائندہ ) لوئر چترال کے سرکاری ملازمین نے ایک بار پھر مکمل ہڑتال کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور آواز بلند کی۔
آل گورنمنٹ امپلائز گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر ضیاء الرحمن، قاری محمد یوسف، مولانا قاسم، نثار احمد، وقار احمد، زاہد عالم، امتیاز الدین، سلیم عباس، سعود آزاد، امیرالملک، محمد اشرف اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنشن اصلاحات فوری طور پر واپس لی جائیں، جبکہ 2011 اور 2015 کے ایڈہاک الاؤنسز کو دوبارہ پنشن میں ضم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے اور کنوینس، ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاؤنسز موجودہ ریٹس کے مطابق ادا کیے جائیں۔
مظاہرین نے اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کی نجکاری فوری طور پر روکنے، اپ گریڈیشن کے اجراء اور پے ریویژن سمیت دیگر مسائل کے حل کا بھی مطالبہ کیا۔
مقررین نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے قبل ملازمین کی قیادت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور مسائل کو ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل کیا جائے، بصورت دیگر سرکاری ملازمین “تنگ آمد بجنگ آمد” کے مصداق تمام سرکاری اداروں اور دفاتر کی مکمل تالا بندی کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
بعد ازاں مظاہرین نے پریس کلب پہنچ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور حکومت سے فوری طور پر مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

