اگیگا کے زیر اہتمام اپر و لوئر چترال میں احتجاجی مظاہرے، مطالبات منظور نہ ہونے پر ہڑتال کی دھمکی
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) اپر و لوئر چترال کے زیر اہتمام سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے فوری مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کیا۔
اپر چترال میں اگیگا کے چیئرمین قاری احمد علی کی قیادت میں بونی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا، جبکہ لوئر چترال میں بھی ملازمین نے احتجاجی جلسہ منعقد کرکے شدید نعرے بازی کی۔ مظاہروں میں سرکاری ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بعد ازاں چترال پریس کلب کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر ضلعی صدر ضیاء الرحمن، صوبائی رہنما خیر اللہ ہواری، وقار احمد، مولانا محمد قاسم، محمد اشرف، سلیم عباس، نثار احمد، سعود آزاد اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی پنشن اصلاحات کو مسترد کیا اور پرانے پنشن سسٹم کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اداروں، خصوصاً اسکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کو 30 فیصد ڈی آر اے دیا جائے اور ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے۔
ملازمین نے ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور کنونس الاؤنس میں اضافے، اساتذہ و دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن، اپ گریڈیشن نوٹیفکیشن کے اجرا، کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، کلاس فور ملازمین کے پرانے بھرتی طریقہ کار کی بحالی اور مختلف محکموں کے ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی منظوری کا بھی مطالبہ کیا۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 20 مئی 2026 سے صوبہ بھر میں قلم چھوڑ اور کام چھوڑ ہڑتال شروع کی جائے گی۔
احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر مقررین نے “معرکہ حق بنیان مرصوص” کے ایک سال مکمل ہونے پر افواج پاکستان کی قربانیوں اور بہادری کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

